سولہ دسمبر 2014، ہم کبھی نہیں بھولیں گے!

قافلہ اذن سفر مانگتا ہے۔
سولہ دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور قیامت خیز دن ثابت ہوا، جو 148 گھروں کو ماتم کدہ بنا کر چھوڑ گیا، اس دن سرخی مائل سورج پوری اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سردی لہو جما رہی تھی، رات کے سکوت کا جادو ٹوٹ چکا تھا اور ماوٴں نے اپنے لخت جگروں کو صبح طلوع ہونے کی نوید سنائی تھی کس کو خبر تھی سرخی مائل سورج آج مزید سرخ ہونے کو بے تاب تھا۔ وہ ایک ہولناک صبح تھی، ماوٴں نے اپنے اپنے لخت گوشوں کو علم کی جستجو حاصل کرنے کے لیے سکول جانے کے لیے بیدار کیا۔ کچھ بچوں نے ضد کی اور ماوٴں نے پیار و محبت سے بہلا پھسلا کر انہیں سکول جانے لیے راضی کر لیا اور پھر ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو تیار کر کے ان کا پسندیدہ لنچ بکس تھما کر ان کا ماتھا چوم کر پیار کیا اور گھروں سے رخصت کیا۔
معصوم بچے ہاتھوں میں بیگ اٹھائے شاداں و فرحاں، حصول علم کے لئے سکول کی جانب رواں دواں تھے۔ پرنسپل، اساتذہ کرام اور کالج کا دیگر اسٹاف بھی روٹین کے مطابق آرمی پبلک سکول و کالج ورسک کی جانب گامزن تھے، بچوں اور اساتذہ کرام سکول پہنچے، اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے قطار بنا کر اسمبلی ہال میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ اسمبلی کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہوا اس کے بعد دعا، اور قومی ترانہ پڑھا گیا، اسمبلی کے اختتام کے بعد معصوم بچے اپنی اپنی کلاسوں میں پہنچے اور یوں درس و تدریس کا مقدس عمل شروع ہوا۔
بچے علم کی پیاس بجھا رہے تھے کہ نو یا دس بجے کے قریب سات سفاک دہشت گرد پاکستانی فرنٹیئر کور کی وردی پہن کر اسکول کی عقبی دیوار پر سیڑھی لگا کر سکول میں داخل ہوئے، اس سے پہلے سفاک دہشت گردوں نے سوزوکی بولان کو توجہ ہٹانے کے لیے آگ لگا دی تاکہ وہ اپنا گھناونا کام سرانجام دے سکے، جس وقت سفاک دہشت گرد سکول میں داخل ہوئے، اس وقت آڈیٹوریم میں ابتدائی طبی امداد پر لیکچر کے لیے سکول اور کالج ونگز کے طالب علم اکٹھے ہوئے تھے اور اس وجہ سے آڈیٹوریم طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور بچے ابتدائی طبی امداد سے آگاہی کے بارے میں لیکچرز سن رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا طالب علم سہم گئے اس کے بعد گولیوں کی چلنے کی آوازیں آنے لگیں، اور گولیوں کے تڑتڑاہٹ نے بچوں کو مزید خوف زدہ کر دیا۔
بچوں کو خوف زدہ دیکھتے ہوئے اساتذہ کرام کے چہروں مردنی چھانے لگی اور انہوں نے آڈیٹوریم کے تمام دروازے مقفل کرنا شروع کر دیے۔ پرنسپل اور اساتذہ کرام نے تمام طالب علموں کو نیچے جھک جانے اور کرسیوں کے نیچے چھپنے کی تلقین کی۔ اسی اثناء میں دہشت گردوں آڈیٹوریم کا دروازہ توڑا اور وہ گولیاں برساتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور یہ ہال جنگ زدہ علاقہ بن چکا تھا۔ سفاک دہشت گردوں نے سب سے آرمی میڈیکل کور کے نائیک ندیم الرحمن انجم اور سپاہی نوید اقبال کو گولیاں کا نشانہ بنایا اور شہید کر دیا۔
اس کے بعد ہال میں موجود تمام طالب علموں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور چند منٹوں میں آڈیٹوریم کی خشک زمین کو طالب علموں کے خون سے سرخ ہو گئیں۔ ہرطرف خون ہی خون دکھائی دینے لگا، بچوں کی چیخ و پکار کی آوازیں گونجنے لگی، زخمی طلباء مدد کے لئے تڑپنے لگے مگر سفاک دہشت گردوں کو ذرا بھی رحم نہ آیا۔ اسی دوران لانس نائیک محمد الطاف، پرنسپل طاہرہ اور دیگر اساتذہ کرام نے اپنے طور پر سکول و کالج سے بچوں کا نکالنے کا کام شروع کیا اور شہید ہو گئے۔
اس کے بعد دہشتگردوں نے ایڈمن بلاک پر بھی حملہ کیا اور وہاں پر دس ایڈمن اسٹاف جن میں کلرک، لیب اسسٹنٹ، مالی، نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیورز شامل تھے۔ تمام ایڈمن اسٹاف دہشت گردوں کی سفاکی کا نشانہ بن گئے، سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک سفاک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت ایک سو بائیس معصوم و بے قصور بچوں، بارہ اساتذہ اکرام، دس ایڈمن اسٹاف اور تین پاک فوج کے جوانوں کو شہید کر دیا گیا، پندرہ منٹ کے اندر اندر سکول و کالج میں پاک آرمی کا آپریشن شروع ہو گیا، جس کے تحت اساتذہ کرام اور بچوں کو ریسکیو کیا گیا، پاک فوج کے جوانوں نے تمام سفاک دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، سفاک دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کر کے علم کی شمع بجھانا چاہی لیکن پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ انہوں نے مستقبل کے معماروں کو نشانہ بنا کر ملک اور سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کی لیکن ملک بھر میں جاری تعلیمی سرگرمیاں ملک دشمنوں کو پیغام دے رہی ہیں کہ پاکستانی قوم کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، شہداء پشاور کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
اس ہولناک سانحہ کو سات سال ہو چکے ہیں، آج بھی پشاور کی فضا سوگوار ہے، آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کی سفاکیت اور بربریت کا ہولناک سانحہ آج بھی عوام کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے، ہر آنکھ آبدیدہ اور ہر دل کرب کا شکار ہے، شہداء کے والدین آج بھی صدمے سے نڈھال ہیں، جن والدین کے بچے بچ گئے وہ بھی اس ہولناک دن کو فراموش نہیں کرسکے، یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ ان معصوم بچوں نے کیا کیا تھا؟ آخر ان کا قصور کیا تھا؟
ہمارا دین غیر مسلم کے بچوں کو مارنے کی بھی اجازت نہیں دیتا اور اس دن پوری دنیا نے پھول جیسے بچوں کے جنازے دیکھے جن کو بے رحمی اور سفاکیت سے شہید کیا گیا۔ سات سال کا طویل عرصہ گزر گیا مگر ابھی تک شہید بچوں کے والدین کو انصاف نہ مل سکا۔ ابھی تک اس سانحہ پشاور کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا سکی؟ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا؟ اور نا ہی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جا سکا؟ ان سوالوں کا جواب کس کے پاس ہے؟ کون دے انہیں انصاف؟ کیا اسی طرح ہر سال والدین پوری قوم سے لخت گوشوں کے خون کا حساب مانگتے رہیں گے؟ آخر کب تک؟ آخر میں ہم سب شہدائے آرمی پبلک اسکول کے طالب علموں اور اساتذہ کرام کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں اور ملک پاکستان کے لیے استحکام و سلامتی کے لئے دعا گو ہیں۔

