نئے مافیا کا راج


پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں دیکھا جائے تو سرمایہ داروں اور معافیاں کا ایک اہم کردار رہا ہے جس کی ہر ممکن کوشش رہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس ملک کی عوام سے فوائد حاصل کر سکے یا ان کو لوٹ سکے۔ انڈسٹری مافیا، شوگر مافیاء، لینڈ مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا اور کراچی میں واٹر ٹینک مافیا بھی سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ سب کے سب عوام پر ظلم کرنے میں دیر نہیں کرتے ہیں جیسے ہی کسی کو موقع ملے وہ جھپٹنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اگر دیکھا جائے تو شوگر مافیا خبروں میں بہت زیادہ سرگرم نظر آتا ہے۔ اس کے بعد کراچی کا لینڈ مافیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔

یہ سب تو وہ مافیا گروپ ہیں جن کا ذکر ہم لوگ روز مرہ زندگی میں اخبارات اور نیوز چینل پر دیکھتے ہیں لیکن ان سب کے پس پشت ایک اور گروپ بھی ہے جو کہ معاشرے میں پچھلے چند سالوں میں ناسور کی طرح پھیل رہا ہے۔ جس پر نہ تو کوئی نیوز چینل ذکر کرتا نظر آتا ہے اور نہ ہی کو کسی اخبار کی کوئی سرخی اس کے متعلق اپنی سیاہی کا استعمال کرتی ہے۔

پارکنگ مافیا موجودہ دنوں میں سر فہرست جا رہا ہے جو کہ لوگوں پر اتنی آہستہ آہستہ چھری کے وار چلا رہا ہے کہ کسی کو اس کے زخم کا اندازہ تک نہیں ہو رہا ہے۔ سرکاری یا پرائیویٹ کوئی ادارہ ہو یا ہسپتال، سبزی منڈی ہو یا کو ہوٹل سب جگہ پر اس گروپ کے باشندوں نے سڑک کے کناروں، سروس روڈ اور دفتروں کی پارکنگ پر ایک بورڈ لگا اپنی مرضی کے ٹوکن پرنٹ کر وا کر آنے والے سائلین کے ہاتھ میں تھما دیے جاتے ہیں۔

جب بھی کوئی مریض ہسپتال کا رخ کرے تو اسے علاج سے پہلے ایک عدد ٹوکن تھما دیا جاتا ہے۔ جسے وہ ہر وقت سنبھال کر رکھتا ہے۔ ہم لوگ سرکاری ہسپتال کا انتخاب اس بنا پر کرتے ہیں کہ وہاں کسی قسم کا کوئی خرچ نہ ہو لیکن ہسپتال میں حاضری دیتے ہی ڈاکٹر سے پہلے پارکنگ مافیا کے لوگ پرچی تھما کر صدمہ پہنچاتے ہیں۔

سڑک پر بنے ٹول پلازوں سے زیادہ پیسے تو اس گروپ کے لوگ اکٹھا کرتے ہیں۔ کسی بھی سڑک پر ایک سفید یا سرخ کپڑے کی جھنڈی اور ڈوری لگا کر اس کو اپنی ملکیت ظاہر کرتے ہوئے عام لوگوں کو 30، 50 اور 100 روپے کے ٹوکن تھما کر بھتا وصول کرتے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب شہریوں کو اس مافیا سے محفوظ رکھنے کے لئے حکومت یا اداروں کے سربراہوں کی توجہ کیسے اس معاملے پر مرکوز کروا کر ان کو اس ظلم سے نجات دلائی جائے اور ساتھ ساتھ اس مافیا کا سر قلم کر کے معاشرے کو ایک ناسور سے پاک کیا جائے۔

Facebook Comments HS