”گوادر کو حق دو تحریک“ – سوال در سوال


ایک ماہ سے گوادر شہر میں اپنے مطالبات کے حق میں ”گوادر حق دو تحریک“ کا دھرنا گوادر کا مقامی جناب مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں جاری ہے۔ مذکورہ تحریک کے مطالبات دراصل بلوچستان اور خاص کر مکران و ملحقہ علاقوں کے محکوم و مظلوم عوام کے وہ حل طلب مسائل ہیں جن کی وجہ سے یہاں کی محدود معاشی ذرائع اور کاروباری سرگرمیاں مزید محدود ہو کر رہ گئی ہیں، ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ کئی ہیں۔

علاقے میں انتہائی بے یقینی سی کیفیت ہے اور عوام گوناں گو مسائل و مشکلات کا شکار اور شدید پریشان ہیں۔ اس لئے اس دھرنے کو مذکورہ علاقوں کے عوام کی تاریخی حمایت حاصل ہے اور ”گوادر کو حق دو تحریک“ اب کافی حد تک ”بلوچستان کو حق دو تحریک“ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مکران و گرد و نواح سمیت اب پورے بلوچستان اور پاکستان کے مختلف شہروں سے سیاسی و سماجی کارکن، قلم کار و دانش، عوامی و سماجی اور انسانی حقوق سے وابستہ شخصیات اس دھرنے میں بطور یکجہتی شرکت کرتے آ رہے ہیں۔

دھرنے میں خواتین کی قابل ذکر تعداد شریک ہے اور ”حق دو تحریک“ کی حمایت میں خواتین نے ایک ریلی بھی نکالی ہے جو گوادر شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی (اگر بلوچستان بھر کی کہیں تو غلط نہ ہو گا) خواتین کی احتجاجی ریلی تھی۔ بلوچ و بلوچستان کے مسائل سے لاتعلق ”محب الوطن“ ملکی الیکٹرانک میڈیا بھی بادل نخواستہ اس دھرنے کو کوریج دے رہا ہے اور غیر متوقع طور پر تبصرے و تجزیے بھی ہو رہے ہیں۔ اس احتجاجی دھرنے کے خاتمے کے لئے بلوچستان حکومت نے علاقائی نمائندوں و وزراء پر مشتمل کئی وفود کوئٹہ سے گوادر بھیجے ہیں اور وزیر اعلٰی بلوچستان بذات خود بھی مکران کے مرکزی شہر تربت جبکہ ساتھی وزراء گوادر کا دورہ کر چکے ہیں۔

مگر حکومت دھرنے کے شرکاء کو مطمئن کرنے اور مطالبات کو عملی جامہ پہنانے میں تاحال ناکام ہے۔ شاید دھرنا شرکاء کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ”کٹھ پتلی صوبائی حکومت عملاً اختیار سے محروم ہے“ ۔ بے اختیار صوبائی حکومت کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ دورہ مکران میں پاک ایران سرحد پر ”ٹوکن سسٹم“ و بھتہ وصولی اور بحر بلوچ میں غیر قانونی شکار و ٹرالرنگ کے خاتمے کے اعلان کے باوجود اپنے اعلانات پر عمل درآمد کرنے میں مکمل ناکام ہیں اور گھناؤنے کام بدستور جاری ہیں جس کی وجہ سے جاری دھرنا کی حمایت میں دن بہ دن مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ”گوادر حق دو تحریک“ کی وجہ سے گوادر مکران میں مکمل طور پر جبکہ بلوچستان کے جنوب مغربی دیگر علاقوں میں جزوی طور پر معمولات زندگی متاثر اور عوام تذبذب کا شکار ہیں۔ اب یہ مسئلہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے گلے میں مچھلی کے کانٹے کی طرح پھنس چکی ہے جسے نہ نگلا جا سکے اور نہ اگلا جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چینی حکام نے بھی گوادر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس دھرنا نے گوادر و سی پیک سمیت بلوچستان کی محرومیوں اور سیاسی حالات کو اہم تریں بین الاقوامی نشریاتی اداروں میں مزید اجاگر کیا ہے ریاستی طرز عمل اور پالیسیاں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ مذکورہ صورت حال سے نالاں وفاقی حکام و فیصلہ کن طاقتیں اس عوامی دھرنے سے جلد سے جلد جان چھڑانا چاہتی ہیں۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے طاقت کا استعمال نہ صرف زیر غور ہے بلکہ صوبائی حکومت کے ایک حکم نامے کے ذریعے عملی طور پر بلوچستان کے دیگر کئی اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کی بھاری نفری گوادر شہر و ضلع بھر میں پہنچا دی گئی ہے۔ جبکہ ردعمل میں دھرنے کے شرکاء و حجم اور حمایت میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

”حق دو تحریک“ کے مطالبات کو جاننے سے پہلے ان باتوں کو سمجھنا ضروری ہے کہ مکران ڈویژن و ملحقہ کئی علاقوں و اضلاع کے عوام کی اکثریت کا ذریعہ معاش ہمیشہ سے ایرانی اشیاء کے کاروبار اور پاک ایران بارڈر سے جڑا ہے۔ مذکورہ علاقوں میں ضرورت استعمال و ضرورت زندگی کی زیادہ تر اشیاء ایران سے ہی آتی ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب خونی و سماجی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے بلوچ قبائل آباد ہیں جو مشترکہ تاریخ و تہذیب کے وارث بھی ہیں۔ اس لئے آمد و رفت ناگزیر ہے۔ جبکہ سمندر مکران کے ساحلی آبادی کی زندگی کا محور ہے۔ ان کی ذریعہ روزگار کسی نہ کسی طرح سے سمندر سے ہی جڑا ہے۔ اکثریت کا پیشہ ماہی گیری ہے۔ ماہی گیری میں رکاوٹیں اور سمندری حیات کی نسل کشی کی زندگی اور وجود پر سوالیہ نشان ہیں۔ اور آخری بات یہ کہ اپنے مخصوص ماحول و اقدار اور مزاج کی وجہ بلوچ قوم اپنے عزت نفس اور روایات کے حوالے غیر معمولی طور پر حساس ہے۔

اس تحریک کے 19 مطالبات میں سے سب سے اہم مطالبہ گوادر میں عوام کے لئے پانی کی فراہمی، بلوچستان کے سمندری حدود (خاص کر ضلع گوادر، یعنی اورماڑہ سے لے کر جیونی تک) میں غیر قانونی شکار اور ٹرالرنگ کا خاتمہ، مقامی ماہی گیروں کے ساتھ اہلکاروں کے متعصبانہ رویہ کا سدباب، پاک ایران بارڈر کی من مانی بندشیں اور ٹوکن سسٹم و بھتہ وصولی کا خاتمہ، بارڈر پر تعینات اہلکاروں کا غیر انسانی سلوک کا خاتمہ، شاہراہوں و چوراہوں اور گلیوں میں سیکیورٹی فورسز کے غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ، ان چیک پوسٹوں پر مقامی شہریوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور غیر ضروری روک ٹوک و پوچھ گچھ کا خاتمہ اور عوام کی عزت و آبرو اور جان و مال کا تحفظ شامل ہیں۔ عوام کو پانی کی فراہمی کے علاوہ مذکورہ باقی تمام مطالبات پر عمل درآمد کرنے میں نئی قانون سازی یا بھاری وسائل یا لمبا عرصہ بالکل درکار نہیں ہے، صرف ایک جنبش قلم اور موجود قانون پر مخلصانہ عمل درآمد کا متقاضی ہیں۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری اس عوامی دھرنے سے جنم لینے والی صورتحال پر مرکزی و صوبائی حکام اور با اختیار و فیصلہ ساز اشرافیہ کے طرز عمل سے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں ہر سلجھی ہوئی گتھی الجھ کیوں جاتی ہے! اور ذہن میں یہ سوالات ابھرتے ہیں کہ بلوچستان کے سمندری حدود میں مچھلی کا غیر قانونی شکار اور ٹرالرنگ کے خاتمے کا مطالبہ ایک غیر قانونی مطالبہ یا ملک دشمن عمل ہے کیا؟ کیا پاک ایران بارڈر پر ٹوکن سسٹم اور بھتہ سے سالانہ جو ناجائز اربوں روپے کمائے جاتے ہے کیا وہ ملکی خزانے میں جمع ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی، دفاع اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتے ہیں جس کی بنا پر مذکورہ مطالبہ ملکی مفاد کے خلاف اور ملک دشمنی ہے؟

اور اسی لئے ایسے مطالبے کرنے والوں کو نظر انداز کرنا اور ان کی سرکوبی واجب ہے؟ کیا اس حقیقت کو جھٹلایا جاسکتا ہے کہ ٹرالرنگ اور بارڈر پر من مانی شرائط پر محدود کاروبار و بھتہ وصولی سے ملنے والی کثیر آمدنی وزراء اور اشرافیہ و چند طاقتور مخصوص اشخاص کے جیبوں میں نہیں چلی جاتی؟ کیا ان چند مخصوص طبقات و اشخاص کا ذاتی مالی مفاد عوامی مفاد اور علاقی امن و استحکام سے زیادہ اہم ہے؟ شاہراہوں سے لے کر شہروں، گاؤں، محلے اور گلیوں کے ہر نکڑ پر چیکنگ کے نام پر اہلکاروں کا متکبرانہ و تذلیل آمیز رویہ اور ہر آنے جانے والے (خاص کر مقامی) عام لوگوں کو روک کر ”کہاں سے آرہے ہو؟ اور“ کہاں جا رہے ہو؟ ”والا سوال کرنا اور یہ فاتح و مفتوح والا رویہ تذلیل پر مبنی عمل نہیں ہے؟ انتظامی بند و بست کی آڑ میں حالات زدہ ماہی گیروں کے لئے مشکلات پیدا کر کے اہل گوادر کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا مذکورہ طرز عمل سے لسانی تفریق اور علاقائی تعصب کا خاتمہ، قومی ہم آہنگی و ملکی یکجہتی کو دوام ملے گا؟

اگر ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر صاحب اقتدار و اختیار یہ بتائیں کہ بلوچستان کا اہم ترین اور لاکھوں کی آبادی پر مشتمل دوسرا بڑا گنجان مکران ڈویژن اور گرد و نواں کا علاقہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیوں کر رہا ہے؟ ہزاروں مظلوم عوام گزشتہ ایک ماہ سے چوک و شاہراہوں پر بیٹھے اذیتیں اٹھانے پر کیوں مجبور ہیں۔ سی پیک کا میزبان گوادر شہر محصور کیوں ہے؟ تمام صوبائی حکومت و انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرانے میں اس طرح الجھی ہیں کہ دیگر امور و معاملات کے حوالے سے وہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں، حالات اس نہج تک پہنچے کیوں ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہیں؟ بین الاقوامی سطح پر ریاست کو کیوں سبکی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ عالمی پس منظر میں سی پیک معاہدہ کیوں مزید متنازعہ بن گیا ہے؟ بلوچستان میں انسانی حقوق کے بارے میں ریاست کو حالیہ مزید تنقید کا سامنا کیوں ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں ہے ملکی حکمران و اشرافیہ کے ذاتی و گروہی مالی مفادات و مراعات ہر چیز پر مقدم ہیں؟ ہر وہ قانون و آئینی مطالبہ اور طریقہ کار جو عوام و ملک کے مفاد میں ہو، مگر حکمران و اشرافیہ اور شراکت داروں کی گروہی و ذاتی مالی مفادات و مراعات سے متصادم ہو، وہ ناقابل قبول اور قابل گردن زنی کیوں ہے؟ کیا حکمران و اشرافیہ کو سمندر میں غیر قانونی شکار و ٹرالرنگ اور ایران بارڈر بر بھتہ خوری سے حاصل ہونے والی بھاری ناجائز آمدنی قومی اتحاد و ہم آہنگی اور ملکی سالمیت سے زیادہ عزیز ہے؟

ملکی سالمیت اور حب الوطنی کے دعویدار حکمران و اشرافیہ قانونی اصول و ملکی مفاد کے مقابلے میں اپنے گروہی و ذاتی مفادات سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو کیوں تیار نہیں ہے؟ ملکی قانون کے دائرہ میں رہ کر اپنے آئینی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی تحریک ریاست کے خلاف سازش، بیرونی ہاتھ، ملک دشمنی اور مشکوک کیوں ٹھہرائی جاتی ہے؟ آئین و قانون کے اصولوں کی پاسداری اور عوامی بالادستی کا مطالبہ کرنے والا ہر شخص کو ملک دشمن، بھارتی ایجنٹ اور غداری کے الزامات کا سامنا کرنا کیوں پڑتا ہے؟

کیا اپنے طاقتور ہونے کا احساس دلانے و برتری ثابت کرنے اور اپنی انا کی تسکین کے لئے اپنے ہی عوام کے ساتھ متکبرانہ و فاتحانہ انداز اپنا کر غیر مہذب اور ہتک آمیز رویہ اپنانا ملکی تحفظ و خدمت ہے؟ کیا یہ قومی یکجہتی کو پارہ بارہ کر کے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہے؟ کیا یہ ملک دشمنی اور غداری نہیں ہے؟

یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ پارلیمانی اصولوں، عوامی امنگوں، ملکی آئین و قانون کو پاؤں تلے روند کر عوام کے حقوق غضب کر نے والے ملک دشمن اور غدار ہیں یا آئین و قانون کی بالادستی اور اپنے جائز و جمہوری حقوق کا مطالبہ کرنے والے؟ محکوموں کو ملکی اداروں اور ریاستی نظام سے مکمل بدظن اور مایوس کرنے والے اصل غدار ہیں یا محکومیت و مظلومیت کا مار سہ سہ کر اور ہر طرف سے نا امید ہو کر بغاوت پر اتر آنے والے؟ جب تک ذاتی و گروہی مفادات و بالادستی چلن جاری رہے گا تب تک سلجھی گتھی الجھتی رہے گی۔ بنتی بات بگڑتی رہے گی اور قابل علاج زخم ناسور بنے گا۔

Facebook Comments HS