پاکستان میں نے توڑا



سقوط ڈھاکہ میری پیدائش سے پہلے کا سانحہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان توڑنے میں میرا ہاتھ ہے

آج میں اعتراف کر رہا ہوں کہ پاکستان توڑنے میں نہ یحیی خان کی عیاشی کار فرما ہے نہ ذوالفقار احمد بھٹو کی ہٹ دھری کا عنصر نہ مجیب الرحمن کے چھ نکات کا دخل نہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا بنگالیوں کے ساتھ امتیازی سلوک وجہ نہ اندرا گاندھی کی سازشوں کا نتیجہ ہے اس پورے عمل میں میں اکیلا تھا اس لئے آج سے یہ بحث بند کریں کہ پاکستان کس نے توڑا۔ میں کہہ رہا کہ پاکستان

میں نے توڑا ہے اور میں اکیلا مجرم ہوں۔

سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنے والے حمود الرحمن کمیشن کو مرتب کیے پچاس برس گزرے رپورٹ کی حفاظت ایسے کی گئی جیسے ایٹمی اثاثوں کی کی جاتی ہے حمود الرحمن کمیشن کو عوام سے دور رکھنے کے لئے جو اقدامات کیے گئے وہ لائق تحسین ہیں مستقبل میں بھی اس کمیشن کی رپورٹ کو عوام سے مخفی رکھنے کے لئے سخت ترین حفاظت کی ضرورت ہے۔ اب جب کہ میں اعتراف کر چکا ہوں کہ پاکستان میں نے توڑا ہے تو حمود الرحمن کمیشن کو شائع کرنے کی چنداں ضرورت نہیں اس لئے جس طرح ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لئے اقدامات کیے گئے ہیں ایسے ہی اقدامات اس رپورٹ کی حفاظت کے لئے کیے جائیں۔

یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا گیا۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ بنگالی زبان بولنے والے اکثریت میں تھے ان پر اردو زبردستی ٹھونسی گئی۔ اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ مغربی پاکستان کی اسٹبلشمنٹ بنگالیوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کر کے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی تھی۔ بنگالیوں کا یہ الزام بھی جھوٹا ہے کہ فوج میں ان کو برابر کا حصہ نہیں ملا۔ بنگالیوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو غائب کیا گیا۔

یہ بھی جھوٹ ہے کہ حبیب جالب نے یہ شعر مشرقی پاکستان کے حالات پر کہا کہ
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔

یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ انتخابات میں اکثریت حاصل کر چکی تھی حالانکہ سچ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اکثریتی پارٹی تھی۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے کہ بھٹو نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ جب ڈھاکہ ڈوب رہا تھا ملک کا ایک حصہ ہم سے کٹنے کے لئے تیار تھا اس وقت ایوان صدر میں یحیی خان اقلیم اختر (جنرل رانی) کی صحبت سے محظوظ اور جام شیریں کی لذتوں سے مخمور تھے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے نوجوان مکتی باہنی اور اندرا گاندھی کی ہندو فوجوں سے آخری جنگ لڑ رہے تھے اس وقت جنرل نیازی اور یحیی خان شباب و کباب کی محفلوں میں غلطاں تھے۔

تاریخ میں یہ واقعہ بھی جھوٹا ہے کہ ایک بار جب ایوان صدر میں اس وقت کی معروف اداکارہ ترانہ کو بلوایا گیا تو انہیں صدر کی کار میں پریزیڈنٹ ہاؤس پہنچایا گیا۔ ترانہ ایرانی النسل تھی اور فلموں کی مقبول ڈانسر کے طور پر شہرت رکھتی تھیں۔ ایوان صدر میں ڈیوٹی پر مامور سنتری نے ترانہ کی گاڑی کو بلا روک ٹوک اندر جانے دیا۔ رات گئے جب ملاقات کے بعد اداکارہ ترانہ واپس جانے لگیں تو مرکزی دروازے پر موجود چاق و چوبند ایک جوان سنتری نے اداکارہ ترانہ کو زور سے سلیوٹ کیا۔ اس والہانہ پذیرائی پر اداکارہ ترانہ رک گئیں اور سنتری سے پوچھا ”کیا بات ہے جب میں اندر گئی تھی تو تم نے سلیوٹ نہیں کیا تھا۔ اب واپس جا رہی ہوں تو تپاک سے سلیوٹ کر رہے ہو؟ اس کی وجہ؟

سپاہی نے بلا جھجک جواب دیا ”میڈم! ایوان صدر میں داخل ہوتے وقت آپ صرف ترانہ تھیں۔ اب صدر مملکت سے ملاقات کے بعد آپ“ قومی ترانہ ”بن چکی ہیں۔ اور قومی ترانے کو سلیوٹ کرنا میرا فرض ہے“

یہ سب کہانیاں بھی جھوٹ پر مبنی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں کہ

بنگالی پاکستان کے خالق تھے۔ وہ بیدار مغز تھے۔ برصغیر میں مسلم سیاست کی داغ بیل بنگالیوں نے ڈالی تھی۔ مسلم لیگ لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں نہیں بلکہ 1906 ء میں ڈھاکہ میں تخلیق ہوئی۔ تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں میں کئی بنگالی زعما شامل تھے۔ بنگالی، آبادی کا 56 فیصد تھے مگر انہیں 1960 ء تک فوج میں لیا ہی نہیں جاتا تھا۔ انہیں فوج میں لینے کا عمل شروع ہوا تو 1970 ء تک فوج میں ان کی موجودگی آٹھ دس فیصد تھی، حالانکہ وہ آبادی کا 56 فیصد تھے۔

میجر صدیق سالک نے اپنی تصنیف ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں لکھا ہے کہ وہ 1971 ء کے بحران میں ایک فوجی چھاؤنی میں پہنچے تو ایک بنگالی فوجی افسر نے کہا کہ تمہارا صدر جنرل یحییٰ کیا کہہ رہا ہے؟ وہ کہہ رہا ہے کہ ہم فوج میں بنگالیوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ کر دیں گے۔ بنگالی افسر نے کہا کہ اگر جنرل یحییٰ کے اس بیان پر سو فیصد عمل ہو گیا تو بھی فوج میں بنگالیوں کی موجودگی بیس پچیس فیصد ہوگی حالانکہ ہم آبادی کا 56 فیصد ہیں۔ سول اداروں میں بھی بنگالیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ پاکستان کے زرمبادلہ کا 60 فیصد مشرقی پاکستان کی پٹ سن سے آتا تھا، مگر مشرقی پاکستان کو اس کے حصے کے وسائل مہیا نہ کیے گئے، چنانچہ 1954 ء ہی میں مشرقی پاکستان کے اندر مرکز گریز رجحانات پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔

یہ سب بھی جھوٹ ہے حالات اس کے برعکس تھے۔ قومی وسائل میں بنگالیوں کو برابر حصہ دیا گیا تھا۔ یحیی خان نمازی پرہیز گار اور انصاف پسند حکمران تھے ایوان صدر میں شباب و کباب کی محفلیں نہیں عبادت کی محفلیں سجتی تھیں۔ بھٹو نے بھی مجیب الرحمن سے کہا تھا کہ آپ اکثریت میں ہیں اقتدار سنبھالیں لیکن مجیب الرحمن نے اکثریت کے باوجود اقتدار لینے سے انکار کر دیا۔ صدر نے بھی اسمبلی اجلاس بلا کر اکثریتی جماعت عوامی لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی مجیب الرحمن نے انکار کر دیا۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ مجیب الرحمن کو غدار کہا گیا تو وہ ضد میں آ کر بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے پر تل گئے۔

بہر حال تاریخ میں سقوط ڈھاکہ کی جو وجوہات بیان اور صدر یحیی بھٹو اور جنرل نیازی پر الزامات لگائے گئے وہ سب جھوٹ کا پلندا ہیں ان کرداروں میں سے کوئی بھی قصور وار نہیں اور اب حمود الرحمن کمیشن اوپن کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ فضول بحث ختم ہونی چاہیے کہ پاکستان کس نے توڑا میں اعتراف کر رہا ہوں کہ پاکستان میں نے توڑا ہے کسی کا محاسبہ کرنے کی ضرورت نہیں میں اعتراف جرم کر رہا ہوں اور تاریخ کے ان انباروں کو بھی اب جلا کر خاکستر کر دیں جن میں پاکستان توڑنے کی ذمہ داری اسٹبلشمنٹ۔ یحیی۔ مجیب۔ جنرل نیازی اور بھٹو کے اوپر عائد کی گئی ہے قوم کا مجرم میں ہوں پاکستان میں نے توڑا ہے۔

میں نے ہی اس سازش کے تانے بانے بنے تھے جس کے تحت بنگلہ دیش وجود میں آ گیا جس پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔ میری ہی سازشوں کی وجہ سے میرے وطن کے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے تھے میں ہی وہ سازشی تھا جس کی سازشوں سے ملک دو لخت ہو گیا۔ نہ ایوب خان نے ملک کو دو ٹکڑے کرنے کی بنیاد رکھی تھی نہ یحیی خان کی عیاشیاں کار فرما تھیں نہ بھٹو کی ہوس اقتدار کا عمل تھا اس سب کے پیچھے میں تھا۔

پچاس برس سے یہ بحث جاری تھی کہ پاکستان کس نے توڑا ہے لیکن سب اپنا دامن بچا رہے تھے میرا ضمیر کچوکے لگا رہا تھا اب فیصلہ کیا کہ اس بحث کو ختم کرنے کے لئے اعتراف جرم کروں تاکہ اس بحث کا خاتمہ ہو کیونکہ ہمارے ہاں تاریخ سے سبق سیکھنے کا رواج ہے ہی نہیں اور سب کچھ اسی طرح دہرایا جا رہا ہے ایسے میں اس بحث سے کیا حاصل۔ اس لئے میں اعتراف جرم کر چکا ہوں کہ پاکستان میں نے توڑا ہے۔ اب اصل مجرم سامنے آ چکا ہوں تو سزا دو اور اگے بڑھو۔

Facebook Comments HS