کراچی کلائمیٹ مارچ منظم کرنے والی ٹرانس جینڈر کارکن مبینہ طور پر اغوا اور ریپ
اتوار کو کراچی بچاؤ تحریک کے بینر تلے منعقد ہونے والے ‘پیپلز کلائمیٹ مارچ’ کے منتظمین میں سے ایک ٹرانس جینڈر کارکن کو مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس مبینہ واقعے کا انکشاف کراچی بچاؤ تحریک نے ہفتے کی رات ایک بیان میں کیا ہے۔
کراچی بچاؤ تحریک کے ذریعے کراچی کی محنت کشوں کی بستیوں اور بازاروں کو مسمار کرنے کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے- ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 12 دسمبر کے پیپلز کلائمیٹ مارچ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین میں سے ایک خواجہ سرا مبینہ طور پر 11 دسمبر کی رات کو اغوا کر کے تشدد اور عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔
کراچی بچاؤ تحریک نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پولیس خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد میں ملوث تھی اور اس نے مارچ کے بارے میں ممبر سے معلومات اور "بھتہ” لینے کے لیے ایسا کیا۔
کراچی بچاؤ تحریک نے مزید کہا کہ "یہ بات قابل غور ہے کہ پولیس نے تشدد کے لئے ایک ٹرانس عورت کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تاکہ کوآرگنائزنگ ٹیم کے سب سے کمزور ممبروں میں سے ایک سے مارچ اور اس کے پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں”،.
جینڈر انٹرایکٹو الائنس (جی آئی اے) کی ‘تشدد کیس مینیجر’ شہزادی رائے نے بتایا کہ کراچی بچاؤ تحریک کارکن کو "گھر جاتے ہوئے عباسی شہید اسپتال کے قریب سے اٹھایا گیا اور اسے تین گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جہاں اس پر تشدد کیا گیا اور ناظم آباد میں میٹرک بورڈ آفس کے قریب رہائی سے قبل جنسی زیادتی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد نے مغوی قیدی کارکن سے مارچ کے پروگرام اور مقررین کی تفصیلات کے بارے میں پوچھا۔ شہزادی نے کہا کہ متعلقہ خواجہ سرا خوفزدہ تھے اور خواجہ سرا کمیونٹی کے خلاف تشدد کے مقدمات سے نمٹنے والے عملے سے تعاون سے گریزاں دکھائی دیتے تھے ۔
دریں اثنا، جینڈر انٹرایکٹو الائنس کی ایک اور نمائندہ، بندیا رانا نے بتایا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے بنائے گئے انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گی۔ کراچی بچاؤ تحریک کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحریک کے کارکنوں کو لوگوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کی پاداش میں "نامناسب رویہ اور جھوٹے مقدمات” کا نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی انکوائری کریں اور انہیں رپورٹ پیش کریں۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان رشید چنا نے بتایا ہے کہ مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے باضابطہ طور پر مقدمہ درج کرانے کے لیے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا، "پولیس ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افراد سے رابطے میں ہے تاکہ انہیں اس کیس کی ایف آئی آر درج کرنے پر آمادہ کیا جا سکے تاکہ رسمی قانونی کارروائی شروع کی جا سکے۔"
انسانی حقوق کی وزارت نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹرانس جینڈر رائٹس ایکسپرٹ، ریم، متاثرہ کے سرپرست سمیت متعلقہ لوگوں سے رابطے میں ہے اور ہماری وزارت اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت سے رابطہ کرے گی۔
یاد رہے کہ پیپلز کلائمیٹ مارچ کے درجنوں شرکاء نے اتوار کی شام کراچی کے بوٹ بیسن کے قریب ایک ریلی نکالی تاکہ حکام کی توجہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات بالخصوص ملیر اور ملحقہ علاقوں میں مبینہ طور پر درختوں کی کٹائی کی وجہ سے رونما ہونے والی ماحولیاتی تباہی کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔ میگا ہاؤسنگ پراجیکٹس کی راہ ہموار کرنے کے لیے کٹائی اور زرعی اراضی کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
منتظمین اور عینی شاہدین کے مطابق، 10 کے قریب سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کلفٹن ساحل سمندر کے قریب پہنچے اور بلاول ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔


