ڈارون کا نظریہ کیسے وجود میں آیا؟
انسان اشرف المخلوقات ہے اس میں کسی کو بھی شک نہیں۔ تمام انسان اس پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن تفریق اس بات پر ہے کہ کچھ کہتے ہیں کہ انسان اس مقام پر ہی پیدا کیا گیا ہے جب کہ ڈارون صاحب کا بیان ہے کہ نہیں، انسان عقل اور شعور کی اس منزل پر ارتقاء کے ذریعے پہنچا ہے۔ اس کے مطابق کبھی انسان مچھلی تھا پھر سانپ بنا، پھر بندر بنا اور بندر سے انسان بنا۔ ارتقاء کے نظریہ پر شک کیا جا سکتا ہے اور اس کے غلط اور درست پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ہم انسان کی روز مرہ کو دیکھیں اور عادات کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ انسان کے اندر تمام جانور بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ کسی انسان میں کوئی جانور نمایاں ہوتا ہے اور کسی میں کوئی۔ ہم مختلف امثال سے اپنی بات کو واضح کرتے ہیں۔
انسان میں سب سے زیادہ جس جانور کی جھلک ہے وہ ہے ”گدھا“ ۔ اس لیے اکثر لوگ دوسرے لوگوں کو گدھا کہہ کر پکارتے ہیں۔ گدھا ایک شریف جانور ہے۔ یہ بردباری کے کا کام آتا ہے۔ لیکن جب کہیں اڑ جائے تو اڑ جاتا ہے اور ڈھیچوں ڈھیچوں کرنے لگتا ہے۔ ہمیں اکثر انسان بھی ڈھیچوں ڈھیچوں کرتے نظر آتے ہیں۔ اس لیے شاید لوگ ایک دوسرے کو گدھا سمجھتے ہیں۔
الو ایک ایسا پرندہ ہے جو دن میں سوتا ہے اور رات کو جاگتا ہے اور درخت پر الٹا لٹکا رہتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ انسانوں کی اکثر آبادی بھی رات کو جاگتی ہے اور دن میں سوتی ہے۔ نسل نو میں یہ بیماری بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس لیے وہ دن میں سوتے اور رات کو ٹی وی دیکھتے نظر آتے ہیں اس لیے ان کے ماں باپ ان کو الو کا پٹھا کہہ کر پکارتے ہیں۔
کتا وہ پہلا جانور ہے جو انسان کے ساتھ ساتھ جنگل چھوڑ کر شہروں میں آ بسا تھا۔ وہ اپنی وفاداری، بھونکنے اور کاٹنے کے لیے مشہور ہے۔ اکثر انسانوں میں بھی بھونکنے اور کاٹنے کی خوبی موجود رہتی ہے لیکن وفاداری کے معاملے میں ذرا کمی ہے۔ اس لیے اکثر لوگ ایک دوسرے کو اپنی ان دو خوبیوں کی وجہ سے کتا، کتے کا بچہ، کتی کا بچہ پکارتے ہیں۔
انسانوں میں بلیاں بھی موجود ہیں اور میاؤں میاؤں کرتی نظر آتی ہیں۔ انسانوں میں بھیگی بلیاں زیادہ ہوتی ہیں جو اپنے سے زیادہ طاقت ور کو دیکھ کر میاؤں میاؤں کرتی ہوئی کونوں کھدروں میں ڈر کے دبک جاتی ہیں۔ کچھ انسانوں میں باگڑ بلے بھی ہوتے ہیں جن کا کام دوسرے بلوں پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔ بلی کی عادات تو انسان میں پائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی ایک دوسرے کو بلی یا بلی کا بچہ کہہ کر نہیں پکارتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بلی میں خوبیاں زیادہ اور کمزوریاں کم ہیں اور وہ خوب صورت بھی ہوتی ہے۔
بکری، بکری عید پر قربانی کے کام آتی ہے۔ مسلمان بکری کا گوشت بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ دیہات کے ہر گھر میں بکری موجود ہوتی ہے۔ بکری اپنی شرافت کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس لیے انسان شریف آدمی کو بکری کہہ کر پکارتے ہیں۔
شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے اور اپنی بہادری کے لیے مشہور ہے۔ شیر عمومی طور پر ہمارا انسانوں کا پسندیدہ جانور ہے۔ اس لیے والدین خوشی میں اور لاڈ میں اپنے بیٹے کو شیر پتر کہہ کر پکارتے ہیں۔ ویسے دیکھنے میں آیا ہے شیر سے زیادہ شیرنی شکار کرتی ہے اور بہادر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ شیر بھی شیرنی سے ڈرتا ہے لیکن آج تک ہم نے اپنی بیٹیوں کو شیرنی نہیں پکارا۔
بندر، بقول ڈارون بندر انسان کے قریب ترین جانور میں سے ایک ہے، یہی وجہ ہے کہ بندر بھی ایک دوسرے کی جوئیں نکال کر مارتے ہیں جیسے ہماری خواتین ایک دوسرے کی جوئیں مارتی ہیں۔ ہمارے ہاں بے چین لوگوں کو بندر کہا جاتا ہے۔ پنجاب کے دیہاتوں میں ایک کھیل بھی کھیلا جاتا ہے جو کہ ’باندر کلہ‘ کہلاتا ہے۔
اس کے علاوہ انسانوں میں گھوڑا، سور، بھینسا بھی مشہور ہیں جن کی عادات اور القاب ہماری روز مرہ میں ہیں۔
اس تمام گفتگو سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ڈارون نے انسان کی عادات اور القابات کی وجہ سے نظریہ ارتقاء کی بنیاد رکھی ہو گی کیونکہ وہ اس نتیجے پر پہنچا ہو گا کہ کیونکہ انسان میں بہت سے جانوروں کی خصوصیات موجود ہیں اس لیے وہ کسی زمانے میں کوئی دوسرا جانور بھی رہا ہو گا۔


