لبنیٰ طاہر کا افسانوی مجموعہ: قرطاسِ اسود


افسانہ لکھنا، کہانی بننا ایک فن ہے۔ اکثر و بیشتر قلمکار خامہ فرسائی کے لیے ایسے کردار یا کہانیاں چنتے ہیں جو عام روش سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ جن کا انوکھا پن پہلی نظر میں ہی دل کھینچ لیتا ہے اور قاری اس کہانی کے ان دیکھے جہان میں ایک سیاح کی مانند ان چھوئے حالات و واقعات کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زندگی کے نئے رخ دیکھتا ہے اور ان پر غور کرتا ہے لیکن اس انوکھی دنیا سے دور ایک عمومی دنیا پائی جاتی ہے۔ جہاں عام سے لوگ بستے ہیں جن کی عام سی کہانیاں ہیں۔ جن میں قاری کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ وہ مختلف انداز میں ہزاروں بار یہی کہانی دیکھ چکا ہوتا ہے۔
لیکن بعض قلمکار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لفظ ان عام سے کرداروں کو گویائی ودیعت کرتے ہیں جن کی صدا اپنے جیسی کئی صداؤں کے ہجوم میں کہیں کھو کر رہ جاتی ہے۔ یہ قلمکار ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ جو کہانی ہم ہزار بار سن سن کر اس کے درد کا احساس کھو چکے ہیں، جب قرطاسِ زیست پہ کسی نئے کردار پر بیتتی ہے تو اس کے لیے درد اور دکھ کا احساس اتنا ہی نیا اور تکلیف دہ ہوتا ہے جتنا پہلے کسی انسان کے لیے تھا۔ ایسے عام سے لوگوں کی عام سی کہانیوں میں چھپے درد کو قارئین کے سامنے یوں پیش کرنا کہ ان کی سوئی حسیات بھی ایک پل کو جاگیں، وہ درد محسوس کریں جو لفظ کی جھولیوں میں بٹ رہا ہے یقینا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔
محترمہ لبنیٰ طاہر صاحبہ کا افسانوی مجموعہ "قرطاسِ اسود” مطبوعہ ۲۰۲۱ بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے جس میں عام سے دکھ بہت خاص انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس افسانوی مجموعے میں دس افسانے شامل ہیں اور اس کا پیش لفظ معروف افسانہ نگار اور نقاد جناب حسن امام صاحب نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب اشا پبلیکیشنز  کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ لبنیٰ طاہر صاحبہ کراچی سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک لمبے عرصے سے مختلف قومی سطح کے مجلوں میں لکھ رہی ہیں۔ انہوں نے قرطاسِ اسود کی صورت میں اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ترتیب دیا ہے۔ لبنیٰ طاہر صاحبہ کے افسانوں کا موضوع انسانی زندگی اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔ خواتین کے مسائل، دہشت گردی کی تباہ کاریوں اور خانگی زندگی کے تاریک پہلوؤں سمیت بہت سے عمومی مسائل کو اس افسانوی مجموعے میں ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے ایک عام انسان کی زندگی کے نہاں گوشوں میں چھپے اس کی تاریک سچائیوں کو اجاگر کیا ہے۔ بظاہر نہایت بے وقعت دکھتے چھوٹے چھوٹے واقعات جنہیں ہنسی مذاق میں اڑا دیا جاتا ہے ان کے انسانی نفسیات پر اثرات کو زیب قرطاس کر کے یہ بات واضح کی ہے کہ نہایت چھوٹی چھوٹی چوٹیں بھی جب ایک تواتر کے ساتھ برستی رہیں تو مضبوط سے مضبوط انسان اس مسلسل یورش کا سامنا نہیں کر پاتا اور ایک دن ڈھے جاتا ہے۔
لبنیٰ طاہر صاحبہ کا اسلوب نہایت سہل اور عام فہم ہے اور ان کی تحاریر بنا کسی حشو و زوائد کے اپنا مفہوم اور مدعا مکمل انداز میں قاری تک پہنچانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کے کردار روز مرہ کی زندگی سے لیے گئے ہیں چاہے وہ غم گزیدہ کا خادم حسین ہو یا اشرف المخلوقات کی تلاش میں سرگرداں مخلوق، ہر کردار ہمارے معاشرے میں ہمارے اردگرد موجود ہے۔ منظر نگاری اور جذبات نگاری عمدہ اور برمحل ہے۔ اکا دکا افسانوں میں جہاں کہانی پر گرفت قدرے کمزور پڑی وہاں ان دیگر افسانوی لوازم نے افسانے کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ سہارا فراہم کیا ہے اور قاری کی توجہ کو بھٹکنے نہیں دیا۔ مختصراً "قرطاسِ اسود” ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جو قاری کی سوچ میں ان پہلوؤں کو لے کر تحریک پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے جو شاید کسی حد تک جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔
بحیثیت مجموعی میں اردو ادب میں ایک اچھے افسانوی مجموعے کے اضافے پر محترمہ لبنیٰ طاہر صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہمیں ان کے قلم سے مزید بہت سے انسانی حسیات کو جھنجھوڑتے افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔
Facebook Comments HS