کراچی کا بیٹا سعید غنی

کراچی کا شہری ہوں سیاست کا طالبعلم ہوں پیدائش سے لے کر یونیورسٹی کی ڈگری تک شہر کراچی میں بہت سے بادل دیکھے یہاں خون دیکھا یہاں آگ دیکھی یہاں ہڑتالیں دیکھی یہاں ۱۲مئ دیکھا یہاں بھتے کی پرچیاں دیکھی یہاں زندہ لوگوں کو فیکٹری میں کیمیکل سے پگھلتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ یہی شہر اسلام آباد کے محلوں کو اپنی معیشت اپنی محنت سے اور اپنے ٹیکس سے کیسے رنگین رکھتا اور رکھ رہا ہے۔
اس شہر نے ہر رنگ نسل مذہب کو سینے سے لگایا یہ شہر یہ صوبہ صوفیوں کی دھرتی ہے اس نے سب کو پالا بدقسمتی اس شہر کی اس وقت شروع ہوئی جب یہاں ایک سیاسی تنظیم منظم طور پر ایک مافیا بنی اور بنائی گئ۔
اس شہر کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ اس مافیا نے کس طرح یہاں کے مہذب لوگوں کو سیاست کی آڑ میں مافیا بنا دیا اور ہر نظام کو درہم برہم کر کے چاروں اطراف اندھیرے پھیلا دئیے ۔
آج کل سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے بل نے سیاسی تنظیموں اور مافیا کے صفوں میں ہلچل پیدا کر رکھی ہے مجھے اس بات کا یقین ہے کے وہ تمام لوگ اور جماعتیں جو اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں ان میں سے ۹۰ % لوگوں نے نہ تو بل پڑھا ہوگا نہ ہی ان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے۔
وہ وقت گزر چکا جب اسٹڈی سرکلز ہوا کرتے تھے چائے کے ہوٹلوں پر دلیل و دلائل کے ساتھ بحث مباحثے ہوا کرتے تھے آجکل ٹک ٹوک اور فیس بک ہی اسٹڈی سرکل کا کام انجام دے رہے ہیں بس آپ ایک لائین لکھیں اور سب ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑتے نظر آئینگے اس بات کا یقین مجھے تب ہوا جب کچھ روز پہلے پی پی پی کے سابقہ سینیٹر عاجز ڈہامرا صاحب نے نجی ٹی وی چینل پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماہ رؤف صدیقی صاحب سے اصرار کیا کہ جناب آپ کو بل کے کس پیرا پر اعتراض ہے آپ بتائیں میں ابھی اپنی لیڈرشپ کے سامنے آپکی تجویز رکھوں گا اور عمل درآمد کروانے کی کوشش کروں گا مگر رؤف صاحب ہر بار بات گول کر جاتے یہ صاف ظاہر تھا کہ جناب بھی ٹرک کی بتی کے پیچھے تھے۔
البتہ اس شہر اور صوبے کو اب ایک عوام دوست سیاست دان سعید غنی مل چکا ہے اور بس چند سعید غنی جیسے سیاستدانوں کی اور ضرورت ہے یو سی کی چئیرمین شپ سے منسٹری تک اس شخص نے سیاست کو خدمت کی طرح سر انجام دیا ہے
موجودہ وقت میں کراچی کی سیاست کا موسم کچھ یوں ہے کہ تمام تنظیموں کے سلیکٹڈ لوگوں کو یہ انسٹرکشن دی جاچکی ہے کہ آپ نے بس ہر اس بات کی مخالفت کرنی ہے جس بات کی سعید غنی حمایت کریں چاہے وہ ملک و عوام کی بھلائی کی بات ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔

اور دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم ، پی ایس پی ، پی ٹی آئی اور باقی تنظیموں کے باشعور کارکن سعید غنی کی رہنمائی میں پی پی پی میں ہزاروں کی تعداد میں شمولیت کر رہے ہیں جس سے اب یہ اندازہ لگانا غلط نہ ہوگا کہ کراچی میں اب تیر ہی چلے گا
سیاسی کم ظرفوں کی سیاست کا عالم اب یہ ہے کہ کچھ روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران سعید غنی نے پانی کی بوتل کھول کر دی تو اس چند سیکنڈ کی ویڈیو کو اتنا وائرل کیا گیا کہ پانی پلانہ سنت نہیں بلکہ ایک گناہ ہے
شائد عوام کو وہ وقت بھی یاد ہے جب الطاف حسین صاحب پپی بھی لیتے تھے اور مرغا بھی بناتے تھے۔
خاور مارنیکا زلفی بخاری اور مراد سعید کی عمران نیازی کے لیئے دی گئیں قربانیاں بھی یاد رکھی جائینگی حریم شاہ کا ایوان کا دروازہ لات مار کر کھولنا بھی ہم یاد رکھیں گے خیر اب سلیکٹڈ اور مافیا کی سیاست کا دور ختم ہونے والا ہے یہ شہر اپنے مخلص بیٹوں کو پہچان چکا ہے اگلہ مئیر کراچی جو بھی ہو پر اس شہر کا شہری ہونے کے ناطے یہ ضرور کہونگا شکریہ سعید غنی شکریہ بلاول۔
Facebook Comments HS

