شبر اعظمی: اک چراغ اور بجھا…


اپنے زمانۂ طالب علمی میں شبر اعظمی کا نام پہلی بار اس وقت سننے کو ملا جب 1978ء کی صحافیوں کی تاریخی تحریک جاری تھی اور میں بھی این ایس ایف کے ایک کارکن کی حیثیت سے اس تحریک میں نچلے درجہ کی معاون ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ شبر اعظمی انجمن صحافیان کراچی کے ان نمایاں افراد میں شامل تھے جو صحافیوں کی اس ”سب سے بڑی جنگ“ (مرحوم احفاظ الرحمن کے الفاظ میں ) کے ہراول دستہ میں شامل تھے۔ کوئی بھی سرگرمی، یا تحریک کے کسی بھی ذمہ دار سے ملاقات ان کے ذکر خیر کے بغیر نامکمل تھی۔ لیکن یہ تمام کا تمام تعارف اس وقت صرف اور صرف غائبانہ تھا۔ تحریک کی نزاکت کے پیش نظر، جب کہ تحریک میں شریک سرکردہ افراد کی گرفتاریاں اپنے عروج پر تھیں، میں نے بھی، خواہش کے باوجود، بالمشافہ ملاقات کی اس خواہش کو دل تک ہی محدود رکھا۔ تحریک کے اختتام کے کچھ عرصہ بعد ہی، میری طبی تعلیم کا آخری سال شروع ہو گیا، جس کے باعث سیاسی سرگرمیوں کو کم کر کے مجھے پڑھائی میں مشغول ہونا پڑا۔ تعلیم کے اختتام کے بعد ہاؤس جاب کی تربیتی مصروفیات اور اس کے بعد روزگار کی تلاش اور پھر اعلیٰ تربیت کے لیے پاکستان سے روانگی، ان سب مصروفیات میں شبر بھائی سے ملاقات کی خواہش کہیں دل میں ہی دبی رہ گئی۔


مساوات کے دفتر میں ابراہیم جلیس کا تعزیتی اجلاس: بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو شریک ہیں(تصویر: زاہد حسین)

برسوں بعد ، چھٹیوں پر پاکستان کے ایک دورے کے دوران، میں کہیں سے جب گھر پہنچا تو والد صاحب کو ایک صاحب سے گھر کے صحن میں مصروف گفتگو پایا۔ میرے اندر آتے ہی والد مرحوم ان صاحب سے بلند آواز میں مخاطب ہوئے کہ ”لیجیے، حسن جاوید آ گئے“ ۔ میں کچھ حیرانی سے اس ناشناسا چہرے کو دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ صاحب میری حیرانی کو بھانپتے ہوئے خود ہی گویا ہوئے ”میں شبر اعظمی کا چھوٹا بھائی ہوں، وہ اکثر آپ کا ذکر اور آپ کی خیریت معلوم کرتے ہیں“ ۔ شبر اعظمی کے چھوٹے بھائی کسی واسطہ سے میرے والد کے نیازمندوں میں شامل ہو گئے تھے اور جب شبر بھائی کو اس کا علم ہوا تو وہ اکثر میرا احوال پچھواتے رہتے۔ اب بات حیرانی سے آگے بڑھ کر شرمندگی تک پہنچ گئی تھی، کیونکہ جس شخص سے میرا صرف غائبانہ تعارف تھا، اس نے صحافیوں کی تحریک میں میرے ادنٰی ترین کردار کے باوجود نہ صرف مجھے یاد رکھا بلکہ برسوں وقتاً فوقتاً میرے احوال کا بھی طالب رہا۔ یہ بات نہ صرف شبر بھائی کے ذاتی اوصاف کی ایک عمدہ مثال ہے بلکہ صحافیوں کی جدوجہد سے ان کی جذباتی وابستگی کا بھی۔ میری یہ بھی بدقسمتی رہی کہ اس کے بعد بھی میں برسوں شبر بھائی سے بالمشافہ ملاقات نہ کر سکا کیونکہ اکثر میرا پاکستان کا سفر بہت مختصر رہتا اور وہ بھی خاندانی مصروفیات کی نذر رہتا۔

جب مئی 2012ء میں، میں نے محسن ذوالفقار کی تحریک پر، ان کے ساتھ این ایس ایف کی تاریخ مجتمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا، تو این ایس ایف سے متعلق اب تک کے شائع شدہ مواد کی تلاش شروع ہوئی، ایسی ہی ایک ”آن لائن“ تلاش کے دوران میری نظر سے معروف صحافی اور این ایس ایف کاظمی گروپ کے ایک سابقہ کارکن شاہد حسین کا ان کے امریکہ کے سفر کے دوران لکھا ہوا ایک مضمون گزرا، جس میں انہوں نے امریکہ میں شبر اعظمی کی ایک بھتیجی سے ملاقات کے حوالے سے شبر اعظمی کی این ایس ایف اور اس کی سرپرست جماعت سے گہری نظریاتی وابستگی اور خدمات کا بھی ذکر کیا۔

شبر اعظمی 68ء کی تحریک کے دوران کورنگی میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے (عکاسی: انجم جاوید صابری)

یہ مضمون پڑھنے کے بعد میں نے مصمم ارادہ کیا کہ پاکستان کے اگلے سفر میں شبر اعظمی بھائی سے ہر صورت، روبرو ملاقات اور این ایس ایف کے بارے میں ان سے گفتگو ریکارڈ کرنا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 2012ء کے بعد میرے پاکستان کے تمام دوروں کے دوران میرا نوے فی صد وقت این ایس ایف کی تاریخ مجتمع کرنے کی غرض سے یا تو سابقہ کارکنان سے ملنے یا پھر دستاویزات، اخبارات اور جرائد کی تلاش میں صرف ہوا۔ الغرض جنوری 2013ء میں ہی میری شبر اعظمی سے روبرو ملاقات کی برسوں پرانی خواہش پوری ہوئی۔ ان کے چھوٹے بھائی نے اپنی پہلی ملاقات میں مجھے ان کا نمبر دیا تھا جس پر چند بار ان سے مختصر بات چیت بھی رہی، لیکن دسمبر 2012ء/ جنوری 2013ء کے سفر کے دوران میں نے ان سے ملنے کی درخواست کی کہ مجھے ان سے ایک ضروری کام ہے۔ انہوں نے فوراً ہی بڑے محبت بھرے لہجہ میں کہا کہ ”ارے اتنی دور کہاں آؤ گے، کل ہی میں حسن اسکوائر پر، چھوٹے بھائی کے گھر آؤں گا، وہ تمہارے گھر سے قریب ہے، وہیں آ جاؤ اور ہمارے ساتھ حلیم بھی کھانا“ ۔ وقت مقررہ پر جب میں ان کے چھوٹے بھائی کے گھر پہنچا تو علم ہوا کہ ایک مجلس عزا ہو رہی تھی جس کے بعد حلیم کے تبرک کا بھی اہتمام تھا۔
پوری مہمانداری کے بعد انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ ”وہ ضروری کام کیا تھا؟“ میں نے ان سے این ایس ایف کی تاریخ مجتمع کرنے کے ارادے کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ میں ان سے نہ صرف باقاعدہ گفتگو کرنا چاہتا ہوں بلکہ رہنمائی بھی۔ انہوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ فوراً آمادگی ظاہر کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ”مجھ سے تو بعد میں گفتگو کر لینا، لیکن آج تم ان کو انٹرویو کرو“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے سامنے بیٹھے ہوئے رضا کاظمی صاحب کی جانب اشارہ کیا جو حال ہی میں سراج الدولہ کالج سے طویل تدریسی خدمات کے بعد ریٹائر ہوئے تھے۔ ”لیکن ان کا شمار این ایس ایف کے رہنماؤں میں کبھی نہیں رہا، لیکن یہ بہت مخلص کارکن تھے“ ، یہ جملے ادا کرتے ہوئے، میں شبر بھائی کے لہجے میں ایک بے یقینی محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جب میں نے جواباً عرض کیا کہ ہم این ایس ایف کی تاریخ مجتمع کر رہے ہیں، صرف رہنماؤں کی نہیں تو یکا یک ان کا چہرہ کھل اٹھا، اور جوشیلے انداز میں کہنے لگے ”یار یہ بات تم نے صحیح معنوں میں این ایس ایف والی کی ہے، اب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کام نہ صرف صحیح طریقہ سے ہو گا بلکہ مکمل بھی ہو گا، میں جتنا بھی ممکن ہوا تمہاری مدد کروں گا“ ۔

بشکریہ ماہنامہ منشور

ان کے یہ الفاظ صرف وعدہ نہیں ثابت ہوئے بلکہ انہوں نے ہر مرحلہ پر نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ممکنہ مواد کی تلاش میں درست سمت کی نشاندہی اور پرانے کارکنان سے رابطہ کروانے میں مدد کرتے رہے۔ شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہو جب ان کا فون واٹس ایپ یا میسنجر پر نہ آتا ہو، جس میں وہ پروجیکٹ کی پیشرفت کے بارے میں نہ دریافت کریں اور مزید مشورے نہ دیں۔ جب 2018ء میں ”سورج پہ کمند“ کی پہلی جلد کی تعارفی تقریب ہوئی تو وہ فالج کے اثرات کے باعث وہیل چئیر کا سہارا لینے پر مجبور تھے، لیکن اسی حالت میں آرٹس کونسل تشریف لائے اور پورے عرصہ تقریب میں موجود رہے۔

اس کے بعد بھی ان کی ہفت یا پندرہ روزہ یاد آوری کا سلسلہ جاری رہا اور دوسری اور تیسری جلد کی پیشرفت بے چینی سے دریافت کرتے رہے۔ لیکن دوسری اور تیسری جلد کی اشاعت سے چند ماہ قبل سے ان کی کالز میں وقفہ بڑھتا گیا، ان کی اہلیہ سے ان کی صحت کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے بارے میں علم ہوتا رہا۔ اب گفتگو کے دوران ان کے لہجے میں پہلی والی کھنک بھی کم ہوتی جا رہی تھی، لیکن ہمیشہ کی طرح شفقت سے ان کا لہجہ آخر وقت تک لبریز رہا۔

سورج پہ کمند کی پہلی جلد کی تعارفی تقریب میں شریک شبر اعظمی، پروفیسر سعید مرحوم، عزیزالحسن، صباح الدین صبا، واحد بلوچ اور اپنی اہلیہ مسز تسنیم حیدر کے ہمراہ

ان سے آخری گفتگو 7 دسمبر کو ہوئی، جس دن ان کی اہلیہ کی فیس بک پر پوسٹ سے ان کی بیماری اور اسپتال میں داخلہ کی خبر ملی۔ میں نے ان کی اہلیہ کو خیریت کے لئے فون کیا لیکن جیسے ہی انہیں علم ہوا کہ میرا فون ہے تو اہلیہ سے فون لے کر بڑے جوشیلے انداز میں بولے کہ ”حسن جاوید میں سورج پہ کمند کی تقریب میں ضرور آؤں گا، بس دعا کرو کہ ڈاکٹر اجازت دے دیں“ ، ان کی اہلیہ تسنیم بھابی نے بھی پھر مجھے بتایا کہ ان کا مسلسل اصرار ہے کہ سورج پہ کمند کی 11 دسمبر کو آرٹس کونسل میں ہونے والی تقریب میں ضرور جانا ہے۔ پھر 8 دسمبر کو اکرم قائم خانی ان سے ملنے اسپتال میں گئے تو نیم بے ہوشی کے عالم سے باہر آ کر، اکرم سے جدوجہد اور قیدوبند کی پرانی باتیں اور یادیں دہراتے رہے۔ میرا مصمم ارادہ تھا کہ کراچی کا اگلا سفر ان سے ملاقات کے بغیر مکمل نہیں ہو گا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آج فیس بک کے ذریعہ ہمارے شبر بھائی کی بھی سناؤنی آ گئی۔ شبر بھائی کی زندگی، جدوجہد، قید و بند اور نظریات سے وابستگی پر محیط رہی۔ لانڈھی کورنگی اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے شروع ہونا والا مزاحمتی سفر، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بزم منشور، ہاری تنظیم سازی اور انجمن صحافیان سے گزرتا ہوا، آج 12 دسمبر 2021ء کو میڈی کئیر اسپتال کراچی میں تمام ہوا۔

Facebook Comments HS