کلدیپ نیر ایک نابغہ روزگار صحافی تھے۔ 14 اگست 1923 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے دنگوں اور فسادات میں ہندوستان چلے گئے۔ اعلی تعلیم حاصل کی اور صحافت میں چلے گئے۔ بھارت کے پارلیمنٹ رکن بھی رہ چکے تھے۔ بھارت کے بہت سے حساس عہدوں پر فائز رہے ۔ لال بہادر شاستری کے پریس سیکرٹری اور معاہدہ تاشقند کے رپورٹر رہے۔ ان کی اصل پہچان صحافت ہے اور کالمز لکھنے میں بڑا نام پیدا کیا تھا ۔ ان کی کالمز ہندوستان اور پاکستان سمیت کئی ممالک اور سینکڑوں اخبارات میں بیک وقت شائع ہوتے تھے۔ انہوں نے 2012 میں اپنی خود نوشت Beyond the lines کے نام سے شائع کی اور اردو میں یہ خود نوشت” ایک زندگی کافی نہیں” کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ یہ پاکستان اور ہندوستان کی جیتا جاگتا تاریخ ہیں۔ انہوں نے بچپن سے لیکر ریٹائرمنٹ کے تمام حالات قلم بند کئے۔ بھارت کی سسٹم ،سیاست، سیاستدانوں، مذہبی شدت پسندی پر خوب تنقید کی ہے۔ 1965 کے جنگ کے حوالے سے لکھتے ہے کہ پاکستان کے فضائیہ نے پٹھان کوٹ پر حملہ کرکے بھارت کے پندرہ طیارے تباہ کئے۔ کیا پاکستان میں ایک مصنف، سیاستدان یا کوئی اور اس طرح بیباکی اور سچائی کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟
ہم ادھر تھوڑی دیر کے لئے رک جاتے ہیں۔ دسمبر کا مہینہ سردی کے علاوہ پیار اور محبت کے لئے بھی مشہور ہے۔ دسمبر کے بارے میں بہت سی نظمیں اور غزلیں لکھی گئی ہیں۔ قدرتی طور پر دسمبر کے مہینے میں رومانی جذبات اچانک بڑھ جاتے ہیں۔ میں نے بہت لوگوں سے سنا ہے کہ دسمبر میں دل چاہتا ہے کہ اپنی محبوبِ کا ہاتھ پکڑ کر سرد شاموں میں کسی سنسان سڑک کے کنارے چہل قدمی کرے ۔ لیکن بہت سے پاکستانیوں کے لئے دسمبر غم ، دکھ ،پریشانی اور ناسٹلجیا کا مہینہ ہے۔ اس کی وجہ بنگلہ دیش کی کی علیحدگی اور سانحہ آرمی پبلک سکول ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور سانحہ جو ان دونوں سے کم نہیں وہ کالم کے آخر میں۔ اب واپس آتے ہیں کلدیپ نیر کی طرف کیا پاکستان کی تھنک ٹینک ،اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی وہ سوچ جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اتنی ہمت ہے کہ اصل حمود الرحمن کمیشن رپورٹ شائع کردے؟ یا بنگلہ دیش سے متعلقہ لٹریچر شائع کردے؟ جو ایک آدھ ہے وہ بھی انتہائی محتاط انداز میں۔ ہم کیوں اس تلخ حقیقت سے ڈرتے ہیں۔ قومیں اپنی ماضی کی غلطیوں، جنگوں اور نا انصافیوں سے سبق سیکھتی ہے ۔ ہم اب بھی کہتے ہیں 1971 میں بھارت نے سازش کی ، امریکہ نے ہمیں دھوکہ دیا ، بحری بیڑہ نہیں پہنچا ، روس بھارت کی پشت پناہی کر رہا تھا ۔ چلو ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ یہ ساری سازشی تھیوریز ٹھیک ہے لیکن ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کب کرینگے ؟ بقول نور الھدی شاہ بنگلہ دیش ایک آئینہ ہے آج بھی جس میں اپنا چہرہ دیکھنے سے ہم ڈر جاتے ہیں۔ بزدلی اور جہالت نے ہمیں یر غمال بنایا ہے ۔ اپنی خوش فہمی کے گھوڑے انجان صحرا میں دھوڑا رہے ہیں۔ جس دن ہم نے یہ جرات کی اپنا نصاب تبدیل کردیا اور وہ لٹریچر جو عوام سے پوشیدہ ہیں اس دن سے ہمارے سوچ کا زاویہ تبدیل ہوجائے گا۔ کیا ہم میں اتنی جرات ہے کہ اپنے بڑوں، بزرگوں، سیاستدانوں اور جرنیلوں کی غلطیوں پر لوگوں سے معافی مانگیں؟ کیا PPP بھٹو کے زمانے میں کئے گئے ملٹری آپریشن پر بلوچستان کے عوام سے معافی مانگیں گے؟ کیا ISPR مشرف کی پالیسیوں اور کئے دھروں پر معافی مانگے گے ؟
بہر حال بنگلہ دیش ایک حقیقت ہے۔ جن کو ہم پست قد اور درختوں کی اوٹ میں پا خانہ کرنے والے کہتے تھکتے نہیں آج انہی پست قدوں نے آزادی کی گولڈن جوبلی پر ایک اشتہار جاری کیا جس کا سوشل میڈیا پر کافی چرچا رہا ۔ اشتہار کا لب لباب یہ تھا کہ مغربی پاکستان نے ہمیں پرے پھینکا لیکن ہم آج آپ سے ہر دوڑ میں آگے ہے ۔ ہر طرح آپ سے بہتر اور خوشحال ہے۔ اور وہی ٹکہ جس کو ہم طنزیہ روزمرہ گفتگو میں استعمال کرتے آج وہی ایک ٹکہ پاکستانی 2 روپے کے برابر ہے۔ یہ ہے آج کا بنگلہ دیش اور ایک ہم کہ گھر آئے ہوے مہمان کو زندہ جلا تے ہے اور خود کو زندہ و جاوید کرتے ہیں۔ دسمبر کے مہینے میں ہمارا ایک اور کارنامہ مبارک ہو اور وہ ہے سری لنکن مینیجر کو سیالکوٹ میں زندہ جلانا۔
…..Quiet harsh reality