ملک کو بچانا ہے تو سول بالا دستی کو یقینی بنانا ہوگا!


سول بالا دستی سے مراد عوام کو ان کا حق حکمرانی دینا ہے اور ایک جمہوری ملک کے اندر آئین و قانون کی بالا دستی سے ہی ممکن ہے۔ جمہوریت کو موقع دینا ہو گا کہ وہ پھلے پھولے تب ہی اس کے تمرات سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔
جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں عوام سرچشمہ طاقت ہوتے ہیں اور وہ یہ اختیار اپنے نمائندوں کو سونپتے ہیں۔ عوامی نمائیندے باہمی مشورے سے حکومت کو چلانے کا طریقہ کار وضع کرتے ہیں جسے اس ریاست کا آئین کہتے ہیں اور پھر حکومتی نظام اس طریقہ کار کے مطابق چلتا ہے۔ اس طے شدہ طریقہ کار میں ضروریات کے مطابق تبدیلی اور بہتری بھی، وضع کئے ہوئے طریقہ کار اور اصولوں کے مطابق، لائی جاسکتی ہے۔
عوام سرچشمہ طاقت سے مراد یہ ہے کہ وہ جب چاہیں اپنے اس اختیار کو واپس بھی لے سکتے ہیں، مگر طے کئے گئے طریقہ کار کے مطابق۔ جمہوری سیاسی نظام کے پائیدار پونے کا راز آئین کے اوپر من و عن عمل ہے۔ عوام اور تمام نظام حکومت اس آئین کے تابع ہوتا ہے۔ جمہوری حکومت سے مستفید ہونے کے لئے آئین کو بالا دست سمجھنا اور اس پر عمل کرنا انتہای اہم ہے۔
جمہوریت کی کوئی خاص صورت نہیں یہ پارلیمانی، صدارتی بھی، جماعتی، غیر جماعتی، اور مقامی سطح کا نظام بھی اس کا حصہ ہوسکتا ہے۔ اسکو بالواسطہ یا بلا واسطہ صورتوں میں اپنی ضروریات کی مطابقت سے ڈھالا جاسکتا ہے۔
جمہوری سیاسی نظام حکومت کےاندر شعور اور اخلاقیات کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور کوئی قوم جتنی باشعور اور اعلیٰ اخلاقیات کی مالک ہوتی ہے اتنا ہی اس ملک کے اندر یہ جمہوری سیاسی نظام مستحکم ہوتا ہے۔ اور مستحکم سیاسی نظام حکومت کے بغیر ترقی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں۔
اس نظام کے اندر نمائندوں کے چناؤ میں حصہ لینے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے جسے ووٹ کا حق کہتے ہیں۔ اور اس حق کو استعمال کرتے ہوئے ہر شہری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملکی اور قومی بہتری کی سوچ کے ساتھ ووٹ دے۔ اس کا ووٹ حکومتی معاملات کو چلانے کے اختیار کی وہ بنیادی اکائی ہے جس پر قوم و ملک کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس بات کا شعور اور اخلاقی ذمہ داری کو سمجھنا ہر شہری پر فرض ہے۔
وہی ملک ترقی کرتے ہیں جن کے عوام عملی طور پر سیاست اور ترقی کے عمل میں حصہ لیتے ہوں اور حکومت کے ترقیاتی کاموں میں ساتھ دیتے ہوں۔
عوام کی ذمہ داری محض نمائندوں کے چناؤ اور ان کو حکومت کا نظام سونپنا ہی نہیں بلکی اس کی نگرانی بھی کرنا ہوتی ہے۔ ان کو اپنے نمائندوں پر نظر بھی رکھنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری کے ساتھ نبھا بھی رہے ہیں یا نہیں۔ اور اگر وہ اس کو بنھانے میں کوتاہی سے کام لے رہے ہوں تو عوام کو یہ حق ہی نہیں پہچتا بلکہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ان کا گھیراو کریں اور ان کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ معاملات کی ادائیگی اور فرائض آئینی ذمہ داری سے کریں۔
اگر کوئی نمائندہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو یہ عوام کی ناکامی ہوتی ہے اور ان کو اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنا ہوتا ہے کہ پھر سے کوئی غلطی نہ ہو۔
اس نظام حکومت کو مستحکم بنانے میں سیاسی جماعتوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں عوام کی شمولیت سے وجود میں آتی ہیں اور پھر یہ اپنا ایک لائحہ عمل بناتی ہیں کہ سیاسی نظام کو چلانے کے لئے کیسے کام کرنا ہے۔ قوم و ملک کی فلاح کے لئے وہ اپنا ایک منشور وضع کرتی ہیں اور پھر اس کو عوام کے سامنے رکھتی ہیں اور عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ کس جماعت کا منشور زیادہ عوامی امنگوں سے مطابقت اور قومی ضرورتوں سے ہم آنگہی رکھتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی تربیت کرتی ہیں اور اپنے اندر بھی جمہوری طریقہ کار کو اپناتے ہوئے جماعتی ذمہ داریوں کا تعین اور اس کو چلانے کے لئےقوائد بناتی ہیں اور اپنے قائدین کا چناؤ کرتی ہیں۔
اس طرح بہترین قیادت سامنے آنے میں مدد ملتی ہے اور جمہوری نظام حکومت کی کامیابی کے زیادہ مواقع میسر آنے کی امید ہوتی ہے۔
جو لوگ عوام کی نمائندگی اور ملک و قوم کی خدمت کے کام کا چناؤ کرتے ہیں ان کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک و قوم کے لئے مخلص ہوں اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔
اس نظام کے اندر سارا کردار اس قوم کے افراد کا ہی ہوتا ہے اور اس کی بہتری کی بنیاد اس قوم کے افراد کی سوچ پر مبنی ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اجتماعیت اور اجتماعی مفادات کی ترجیحات پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر تو کسی قوم کے افراد قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کی سوچ رکھتے ہوں تو وہ اس سارے نظام کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور اگر ان کی سوچ ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والی ہوتو پھر یہی حال ہوتا ہے جو آج ہمارا ہورہا ہے۔
اور اس سوچ کو پیدا کرنے لئے شہریوں کے اندر اپنے ملک کے ساتھ ملکیت اور اہمیت کے احساس کا ہونا شرط ہے۔ اگر تو ان کے اندر اپنے ملک کے آئین، اداروں اوراس کے مفادات کے ساتھ ملکیت اور اس کی اہمیت کا احساس ہوگا تو پھر وہ اس کی حفاظت اور بہتری کی کوشش کا جذبہ بھی رکھتے ہونگے اور اگر نہیں ہوگا تو پھر وہ اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیں گے اور ملک و قوم کی باگ دوڑ لٹیروں اور مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔
اس کی مثال میں اس طرح دیتا ہوں کہ اگر ہمارے گھر میں کوئی ٹوٹا ہوا جوتا بھی پڑا ہو تو کسی کی جرآت نہیں ہوتی کہ وہ اس کو ہماری اجازت کے بغیر اٹھا کر لے جائے کیونکہ ہمارے اندر اس کی ملکیت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ میری ملکیت ہے اور اس کا استعمال بھی میری مرضی سے ہونا چاہیے اور دوسرا اس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جو ہمیں اس کی حفاظت کا جواز مہیا کرتا ہے کہ اگر ہم یہ کسی کباڑیے کو بھی دیں گے تو دس بیس روپے مل جائیں گے۔
اسی طرح جب ہمارے اندر اپنے ملک اور اس کے اداروں اور املاک کی ملکیت اور اہمیت کا احساس جاگ جائے گا تو پھر پم اس کے انتظام و انصرام اور املاک کی حفاظت بھی کریں گے اور پھر اس کی انتظام و انصرام کی ذمہ داری کے لئے نمائندوں کا چناؤ بھی سوچ سمجھ کر کریں گے۔
اور یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب ہم جمہوری سیاسی نظام اور اس کی اہمیت کو سمجھیں کہ یہ ہماری اور ہمارے ملک کی بقاء کا معاملہ ہے اور سنجیدگی سے اس کو قابل عمل بنائیں۔
پھر افراد، ادارے، حکومت اور اپوزیشن سب ذمہ داری کے ساتھ اپنے اپنے فرائض کو ادا کرتی ہیں اور دوسرے کی کام میں نہ تو دخل اندازی کرتی ہیں اور رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔ ان کے سامنے فقط ملک و قوم کی بہتری ہوتی ہے۔
اسی احساس ملکیت اور اہمیت سے قومیں بنتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا جمہوری نظام حکومت منظم طور پر سامنے آتا ہے کہ تمام کے تمام عوام، ادارے، سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندے خواہ وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کے نزدیک آئینی و قانون کی حکمرانی میں ہی نجات ہوتی ہے اور وہ سول بالادستی کے نظریے پر سب ہم آہنگ ہوکر کاربند ہوجاتے ہیں۔
پھر آپس کے اختلافات بھی خیر کا سبب بن جاتے ہیں اور قوم کی تمام تر صلاحیتیں غلط استعمال ہونے کی بجائے صحیح سمت میں استعمال ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ سیاسی استحکام اور خود کفیلی سے عالمی سطح پر برابری حاصل ہوجاتی ہے۔
قوموں کو درپیش چیلنجز، مواقع میں بدل جاتے ہیں۔ بڑھتی آبادیاں بھی ان کے لئے افرادی قوت بن جاتی ہیں اور ان میں ایسے نجات دہندہ پیدا ہوتے ہیں جو ان کی قومی نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کی بہتری کا سبب بنتے ہیں۔
Facebook Comments HS