انگلش کاؤنٹی سسکس نے محمد رضوان کو سائن کر لیا
29 سالہ رضوان اپریل کے شروع میں انگلینڈ پہنچیں گے اور جولائی تک چیمپیئن شپ کے ساتھ ساتھ ٹی ٹوئینٹی بلاسٹ بھی کھیلیں گے۔
19 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے رضوان کے رنز بنانے کی اوسط 42 ہے جبکہ انھوں نے 41 ان ڈے اور 52 ٹی ٹوئینٹی انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
33 سالہ براؤن کے کانٹریکٹ میں ابھی دو سال کا عرصہ باقی تھا لیکن انھوں نے نے کلب سے درخواست کی تھی کہ وہ انھیں معاہدے سے ریلیز کر دیں۔
سسکس کاؤنٹی چیمپیئن شپ اور ون ڈے کپ کے ہیڈ کوچ ائین سیلسبری نے کہا ‘ایسا کہنا غلط ہوگا کہ میں بین براؤن جیسے اعلی معیار کے کھلاڑی کو کھو کر افسردہ نہیں ہوں گا۔ لیکن اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور مستقبل کی جانب دیکھنا ہے۔ ایسے میں، میں بہت خوش ہوں کہ ہمیں فوری طور پر ان کا متبادل ایک ایسے کھلاڑی کی صورت میں ملا ہے جس کا شمار دنیا کہ بہترین وکٹ کیپر بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ محمد کے فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کے ریکاڈ اس بات کا ثبوت ہیں اور ان کا آنے والے سیزین میں سسکس کی نمائندگی کرنا ایک خوش آئند بات ہے۔ "
اس کے ساتھ ہی سسکس نے آسٹریلین بیٹسمین ٹریوس ہیڈ کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے جو کہ آنے والے سیزین میں ٹیم کے کپتان ہوں گے۔
محمد رضوان اگلے سیزن میں انگلش کرکٹ کھیلنے والے چوتھے پاکستانی ہوں گے۔ اس سے قبل شان مسعود ڈربی شائر کے لیے، ظفر گوہر گلوسٹرشائر اور شاہین شاہ آفریدی مڈل سیکس کے ساتھ معاہدے کر چکے ہیں۔
لیکن سسکس اور مڈل سیکس کا پاکستانی کھلاڑیوں سے تعلق دوسرے انگلش کاؤنٹی کی نسبت تھوڑا زیادہ گہرا ہے۔ سابق پاکستانی کپتان عمران خان نے اپنا کاؤنٹی کیرئر شروع تو ورسٹر شائر سے کیا لیکن انھیں سسکس نے جلد ہی سائن کرلیا اور جن کی نمائندگی کرتے ہوئے انھوں نے 131 کاؤنٹی میچوں میں سات ہزار سے زیادہ رن اور 409 وکٹیں حاصل کیں۔
2020 میں ہونے والے ایک سروے میں عمران خان کو سسیکس کی تاریخ کا بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
اسی طرح سابق پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد نے بھی سسکس کی نمائندگی کی اور 85 میچوں میں 478 وکٹیں لیں جبکہ آٹھ نصف سنچریاں بھی بنائیں۔
کپتان جاوید میانداد نے بھی 1976 سے لے کر 1979 تک سسکس کی نمائندگی کی جبکہ رانا نوید الحسن اور یاسر عرفات بھی سسیکس کے لیے کھیل چکے ہیں۔


