کچھ ذکر سونار بنگلہ کا


مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ ہوئے نصف صدی ہو گئی لیکن ہم نے اس سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور آہستہ آہستہ ہم اس حادثے کو بھولتے چلے گئے۔ نئی نسل کو تو یاد بھی نہیں کہ کبھی مشرقی پاکستان بھی ہماراحصہ تھا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ نئی نسل نے ماضی قریب میں ایسے سانحات دیکھے کہ انہیں ماضی بعید کے بارے میں جاننے کا وقت ہی نہیں ملا۔ کچھ دیر قبل ہی ایک استاد بتا رہے تھے کہ آج صبح جب انہوں نے طلبا سے پوچھا کہ سولہ دسمبر کو کیا ہوا تھا تو سب نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحہ کا حوالہ دیا جب انہیں ماضی میں پیچھے جانے کو کہا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اگر کسی ریٹائرڈ سینئر سفارتکار سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے کہ 1970کے انتخابات کے نتائج کو قبول نہ کرنا سب سے بڑی غلطی تھی۔ ہمیں 25 مارچ 1971 کو ہونے والے فوجی ایکشن کی مذمت کرنی چاہیئے۔ بہر حال اب جب نصف صدی گزر چکی ہے تو ایک نیا مستقبل تراشنا ہو گا اور اس کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ضروری ہے(کنفیوشس)۔

ہمارے ہاں شملہ معاہدے کا ذکر بہت ہوتا ہے لیکن اس کے نتیجے 1974 میں ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں جو سہ فریقی معاہدہ ہوا تھا ، اس کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ان ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ اسے دہلی معاہدہ بھی کہا جاتا ہے جس میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال حسین، ہندوستان کے خارجہ امور کے وزیر سردار سورن سنگھ اور پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع و خارجہ امور عزیز احمد شامل تھے۔ اس ملاقات میں تینوں ملکوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کی واپسی میں درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ 195 جنگی قیدیوں کی واپسی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان 195 جنگی قیدیوں سے وہ جرائم سرزد ہوئے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین ا لاقوامی قانون ، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ضمن میں آتے ہیں۔ اس بارے میں عالمی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ان 195 پاکستانی جنگی قیدیوں جیسے جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع اور خارجہ امور کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس طرح کے جرائم کی مذمت کرتی ہے اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے بھی 1971 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے مظالم کے بارے میں یہ اعلان کیا تھا کہ ماضی کو بھلا کر نئی شروعات کرنی چاہئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو معاف کرنا آتا ہے۔ چنانچہ ان 195جنگی قیدیوں کو بھی پاکستان کو واپس کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھٹو بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تھے اور ان کی فرمائش پر فیض نے اپنی مشہور غزل ” خون کے دھبے دھلیں گے، کتنی برساتوں کے بعد” اس کے بعد 1989 میں جنرل ارشاد کے دور میں بے نظیر بھٹو نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ 1996 میں ویمنز ایکشن فورم نے اپنی ارکان کی طرف سے بنگلہ دیش کی سلور جوبلی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اپنے ہی شہریوں پر ریاستی تشدد کی مذمت کی گئی تھی۔

2002 میں مشرف نے اپنے دورے کے دوران 1971 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے مظالم پر معافی مانگی لیکن ایک سینئر پاکستانی سفارتکار کے بقول عوامی لیگ جب بھی اقتدار میں ہوتی ہے وہ پھر نئے سرے سے معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔ بہر حال اب آگے بڑھنا ہے اور اس حوالے سے عمران خان اور حسینہ واجد میں ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ دونوں ممالک کی سول سوسائٹی کے درمیان رابطے بڑھانا بھی ضروری ہے۔ ثقافتی وفود کا تبادلہ کیا جائے۔ دونوں ممالک کے طلبہ کے لئے تبادلہ پروگرام شروع کیا جائے۔ مشترکہ اقتصادی کمیشن کو فعال بنایا جائے۔ اس وقت بنگلہ دیش ترقی کا ماڈل بنا ہوا ہے اور پاکستان سے آگے ہے۔ پاکستانی معیشت کا تو برا حال ہے۔ ایک بنگالی اکیڈمک کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کسی تنازع میں نہیں پھنسنا چاہتا اور پاکستان اور انڈیا دونوں سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح وہ امریکہ اور چین کے تنازع میں بھی نہیں پھنسنا چاہتا۔ آج کل وہی ممالک کامیاب ہیں جو سیکیورٹی کی بجائے ڈیولپمنٹ پر زور دیتےہیں۔

(حوالہ جات۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز، ریاض کھوکھر سابق فارن سیکریٹری اور رونق جہاں بنگلہ دیشی اکیڈمک)

Facebook Comments HS