ویسٹ انڈیز کا ون ڈے سیریز کھیلے بغیر وطن واپس جانے کا فیصلہ ، اب یہ سیریز جون میں ہوگی
ویسٹ انڈیز نے یہ فیصلہ اپنے چھ کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اور ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ٹیموں کی ویلفیئر اور ویسٹ انڈیز کے پاس موجود محدود وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی ون ڈے سیریز ملتوی کردی گئی ہے اور اسے اب آئندہ سال جون میں منعقد کیا جائے گا۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کے فوراً بعد وطن واپس روانہ ہو جائے گی تاہم کووڈ کے مثبت نتائج والے کرکٹرز اور آفیشلز کراچی میں اپنے آئسولیشن مکمل کرنے کے بعد ہی واپس جاسکیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ سے ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز نے جمعرات کے روز کراچی میں ہونے والا تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ چھ کھلاڑیوں کے کووڈ میں مبتلا ہونے اور ایک کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کے سبب اس کے لیے ون ڈے سیریز کھیلنا ممکن نہیں رہا ہے۔
یاد رہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی ہوئی ہے۔
پاکستان آنے کے فوراً بعد ویسٹ انڈین ٹیم کے جو کووڈ ٹیسٹ ہوئے تھے ان میں تین کھلاڑیوں اور میڈیا منیجر کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ بدھ کے روز ہونے والے دوسرے کووڈ ٹیسٹ میں بھی تین کرکٹرز۔ اسسٹنٹ کوچ اور ٹیم ڈاکٹر کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ۔ویسٹ انڈیز کے پاس اب کھیلنے کے لیے صرف چودہ کھلاڑی دستیاب تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے ون ڈے کپتان شائی ہوپ بھی ان چھ کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کے کووڈ ٹیسٹ مثبت ہوئے ہیں۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہےجس میں تیرہ ٹیمیں شریک ہیں۔ کووڈ کی وجہ سے لیگ کی جو بھی سیریز ملتوی ہوگی اسے ری شیڈول کیا جائے گا۔
یہ پاکستان کے چوتھی ون ڈے سیریز ہے جو منسوخ ہوئی ہے۔اس سے قبل اس کی ہالینڈ ۔ افغانستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز منسوخ ہو چکی ہیں۔
پاکستان اسوقت آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپر لیگ کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے اس نے اب تک نو میچ کھیلے ہیں جن میں چار جیتے ہیں اور پانچ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
2023ء میں بھارت میں ہونے والے عالمی کپ میں میزبان بھارت سمیت آٹھ ٹیمیں براہ راست کھیلیں گی۔بقیہ دو ٹیموں کا انتخاب کوالیفائنگ راؤنڈ کے ذریعے ہوگا اس راؤنڈ میں سپرلیگ کی آخری پانچ اور پانچ ایسوسی ایٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔


