کیا آپ رومانوی لمحات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟

ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم بعنوان "آپ کی شادی کتنی صحت مند ہے؟” کا مطالعہ کر رہا تھا تو میرے ذہن کے افق پر میرے اپنے معاشرے سے جڑی ہوئی کچھ کہانیاں نمودار ہونے لگیں جو اس گھٹن زدہ معاشرے میں آئے روز سننے کو ملتی رہتی ہیں بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ ہم اپنی منافقت اور پارسائی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے ہر انسانی رشتہ میں اپنی انا کا زہر گھول کر اس کی اصل خوبصورتی کو ہی بگاڑ دیتے ہیں۔مشرقی معاشروں میں شادی کا مطلب میاں بیوی کا زندگی کی دھوپ چھاؤں میں "برابر کا ساتھی” بننا نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ خاندانی سسٹم میں ایک "رجسٹرڈ ملازمہ” کا اضافہ کرنا ہوتا ہے کیونکہ شادی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خاندان کے ہر فرد کی رضامندی شامل ہوتی ہے سوائے دلہن اور دولہا کے۔ ان بیچاروں کا تو پہلا ٹاکرا ہی شادی کی پہلی رات میں ہوتا ہے .
اس سے پہلے زندگی میں وہ کبھی ایک دوسرے کو آشنائی کی غرض سے ملے ہی نہیں ہوتے۔ انگریزی کا محاورہ ہے "فرسٹ امپریشن از لاسٹ امپریشن”یعنی پہلی رات ہی ” آر یا پار” کی صورتحال میں زندگی میں آگے اس رشتہ کی نوعیت کیا ہوگی وہ طے ہو جاتی ہے۔ حادثاتی طور پر کچھ رشتوں کی ذہنی کیمسٹری قائم ہوجاتی ہے مگر زیادہ تر رشتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں اور "لولیس میرج” میں تبدیل ہو کر بچوں کی زندگیوں پر بہت برے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ ان تباہ کاریوں کے پیچھے ہمارا روایتی خاندانی سسٹم ہوتا ہے، جیسے تیسے شادی کی خاندانی ایکٹنگ کے بعد کچھ بناوٹی سے رومانوی لمحات کو پورے کرنے کے بعد وہی روایتی لائف شروع ہوجاتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں دوسری رجسٹرڈ ملازمین میں ایک اور ملازمہ کا اضافہ ہونے کے بعد فیملی کا گھریلو کام کاج شیئر کر دیا جاتا ہے، پہلے سال ہی والدین کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے عورت کو مجبوراً ماں بننا پڑتا ہے۔ یعنی شادی کے ابتدائی ایام میں ہی مداخلت شروع ہوجاتی ہے۔ برائے نام شرم و حیا کے نام پر یہ گھٹن زدہ معاشرہ کسی بھی انسانی رشتے کو خالص نہیں رہنے دیتا۔ شادی سے پہلے ایک مرد اور خاتون کا باہمی رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے کو جاننے کی غرض سے ملاقات کرنا حرام ہوتا ہے اور جبری شادی کے بعد آشنائی کی غرض سے چند رومانوی لمحات کو اکیلے میں ایک دوسرے سے بانٹنا دو بھر ہو جاتا ہے۔
شادی سے پہلے لائف پارٹنر بنانے کی غرض سے ملاقاتوں پر معاشرہ نظر رکھے ہوتا ہے اور جبری شادی کے بعد ہمارے قریبی رشتے ماں باپ ،بہن بھائی نگاہ ٹکائے رکھتے ہیں صرف یہ جاننے کی غرض سے کہ "شادی کے بعد ہمارا لڑکا جورو کا غلام تو نہیں بن گیا؟” اور اکثر اس طرح کے طعنے تو سننے کو ملنے لگتے ہیں کہ "ہمارا بچہ بہت بدل گیا ہے” یا "یہ ہر وقت اپنی بیوی کے پاس بیٹھا رہتا ہے” اور "یہ رن مرید ہو گیا ہے”۔ ذرا سوچیں کیا اس طرح کی صورتحال میں رشتوں میں چاشنی برقرار رہ سکتی ہے؟ جب ایک بندہ اپنے ہی قریبی رشتوں کی نظر میں مجرم بننے کے ڈر سے ان "خاندانی فوبیاز” سے نکلنے کی ترکیبیں سوچتا پھرے وہاں کیا خاک پیار جیسا انمول جذبہ پروان چڑھے گا؟
جو بندہ ہر وقت سخت "انڈر آبزرویشن” میں رہتا ہو وہ نارمل زندگی کیسے جی سکتا ہے ؟زندگی کی مناسب منصوبہ بندی کے لیے انسانی زندگی میں اطمینان کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، ذہنی اطمینان ہی ایک خوشحال خاندان کو جنم دیتا ہے۔ بعض خوش نصیب پارٹنر تو اس روایتی جبر کو توڑ کر حقیقی خوشی پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ایسے خوشحال پارٹنرز کے بچے بھی کم سے کم ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک بیلنس لائف کا راز پا چکے ہوتے ہیں۔ ایسے باشعور پارٹنر یہ بات بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ "ننھی جان” جب دنیا میں آتی ہے تو اپنے ماں باپ سے ایک اچھی زندگی جینے کا تقاضا کرتی ہے اور یہ اچھی زندگی ایک مختصر فیملی میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ ماں باپ کا آئیڈیل ریلیشن شپ بچوں کے اندر پیار کے معنوں کو جنم دیتا ہے۔ اگر ماں باپ کا تعلق ڈنگ ٹپاؤ قسم کا ہوگا تو بچوں میں بھی یہ نفرت کا سائیکل منتقل ہو جاتا ہے جو صدیوں چلتا رہتا ہے اور ” نیور اینڈنگ پروسیس” کا روپ دھار لیتا ہے۔ کچھ روایتی قسم کے والدین یا ایسے پارٹنر جن کے رشتے گھریلو نوک جھونک کی نظر ہوکر اپنی افادیت کھو دیتے ہیں تو ایسے پارٹنر کے درمیان پیار نام کی خوشبو کہیں کھو سی جاتی ہے اور ایسے پارٹنر کے ہاں ہر سال نیا ماڈل "بے بی” پیدا ہوتا ہے اور یہ تعداد آٹھ دس تک چلی جاتی ہے۔ ایسے رشتوں میں "سیکس” اپنی افادیت کھو دیتا ہے اور ایک طرح کی”لو لیس میرج”کا آغاز ہو جاتا ہے۔
زیادہ بچوں کی پرورش صحیح معنوں میں نہ ہونے کی وجہ سے وہ تعلیم سے محروم ہو کر مختلف ورکشاپس کا ایندھن بن کر سسکتے سسکتے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک بچہ جننے کے بعد عورت کی صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟ ڈیلیوری چاہے نارمل ہو یا آپریشن کے ذریعے سے دونوں طرح عورت کو صحیح معنوں میں ریکور ہونے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ آپ اس عورت کا تصور کیجیے جسے ہر سال چاروناچار بچہ جننا پڑتا ہو اس کے پلے کیا رہ جائے گا؟ ایسی عورت تو ذہنی و جسمانی طور پر نارمل رہ ہی نہیں سکتی بلکہ وہ تو ایک زندہ لاش بن جاتی ہے جس سے اس کا شوہر بلا ناغہ اپنی ہوس مٹاتا ہے اور وہ چپکے چپکے یہ جنسی سزا برداشت کرتی رہتی ہے۔ کیونکہ وہ مولوی اور دو گواہان کی موجودگی میں "قبول ہے” نام کا پھندہ اپنے گلے میں پہن چکی ہوتی ہے اور اسے اس عہد کو قبر میں اترنے تک ہر صورت میں نبھانا ہوتا ہے۔
میں اس منافقت زدہ معاشرے کا ایک "پڑھا لکھا چہرہ” بھی آپ کو دکھانا چاہوں گا ،میرا ایک پی ایچ ڈی سکالر دوست ہے جس نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ اس کے والدین کو کوئی ایسا ڈھنگ کا رشتہ نہیں ملا جو ان کا کچن اچھے سے چلا سکے۔ میرے اس دوست کا کہنا ہے کہ جناب مجھے تو ایک ایسی لڑکی چاہیے جو میرے والدین کی خدمت اور گھر کی اچھے سے دیکھ بھال کرسکے اس کے علاوہ مجھے اس سے کچھ نہیں چاہئے ،وہ گھر کی زینت ہے اسے گھر میں ہی رہنا ہوگا۔
جناب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آپ نے بڑے عالمانہ انداز میں شادی کی صحت مند پہلو پر لکھا ہے اور ایسے پارٹنرز کو مشورہ دیا ہے ک جو لو لیس میرج گزار رہے ہیں انہیں اس حقیقی خوشی کو اپنی زندگی میں دوبارہ داخل کرنے کے لیے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔ معذرت کے ساتھ جناب ہماری یہ قوم اپنے ازدواجی زندگی کے مسائل ماہر نفسیات سے سانجھے کرنے کی بجائے مولویوں اور پیروں سے دعا اور ٹوٹکے حاصل کرنے کی صورت میں شیئر کرتے ہیں۔اب ایسی قوم کیا خاک اپنی شادی شدہ لائف کو بہتر بنائے گی جو 21ویں صدی میں مولویوں سے یہ مسائل پوچھ رہی ہو
1:کیا کھڑے ہو کر عورت سے جماع کیا جا سکتا ہے؟
2: کیا میاں بیوی ایک دوسرے کا جسم دیکھ سکتے ہیں؟
3: کیا بیوی شوہر کو ہاتھ سے فارغ کر سکتی ہے؟
4:کیا بیوی سے ہمبستری کرتے وقت لائٹ بند کرنا ضروری ہے؟
5:کیا میاں بیوی ایک دوسرے کا جسم دیکھ سکتے ہیں؟
آپ جیسے ماہر نفسیات تو اندھیروں میں چراغ جلانے کا کام بہت دیانتداری سے سرانجام دے رہے ہیں مگر آپ ایسے معاشروں کا کیا کریں گے جہاں میاں بیوی کے پرائیویٹ معاملات لوگ بخوشی مولویوں سے شیئر کرکے رہنمائی حاصل کرتے ہوں۔
Facebook Comments HS

