گوادر کا تاریخی دھرنا


15 نومبر سے بلوچستان حق دو تحریک کا دھرنا اخر کار 16 دسمبر کواختتام کو پہنچا۔ 15دسمبر کو۔وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو صوبائ وزراء میں سید احسان شاہ اور میرظہور بلیدی گوادر پہنچے۔ جبکہ اس سے پہلے بھی دو بار گوادر بلوچستان کو حق دو کے قائد تحریک مولانا ہدایت الرحمان سے ملےلیکن جو مطالبات تھے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو دھرنا میں بیٹھے لوگوں کے مطالبات اتنے سنگین نہیں تھے۔ ان میں غیر قانونی ٹالرینگ کا خاتمہ، کوسٹ گارڈ کی طرف سے قبضے میں لی گئی ماہی گیروں کی کشیاں، اور گاڑیاں واپس کرنے کا مطالبہ، ایران بارڈر سے جو اشیاء خور و نوش کی نقل و حمل پر پابندی کا خاتمہ، اور ٹوکن سسٹم کا خاتمہ، اور شہر اور دیہی علاقوں میں پولیس کسٹم کوسٹ گارڈ اور ایف سی کی غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل تھے۔ مقامی ابادی کا صدیوں سے بارڈر سے تجارت کا انحصار ہے۔ بلوچستان بھر میں کوئی فیکٹری یا دیگر کاروبار کے ذرائع نہیں۔اس لئے بارڈر سے تجارت پر تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ۔
تحریک کے قائد مولانا کو گوادد کے حالات کا بخوبی ادراک تھا کہ اکثر سرکار سے دیگر پارٹیوں کے مذاکرات ہوئے لیکن وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ ہمیشہ حکمرانوں نے کہا کہ مسائل جلد حل کریں گے اور پھر وہ پورے۔ نہ ہو سکے۔
 احتجاج کا دورانیہ بھی کبھی طویل  نہ ہو سکا، لیکن اس دھرنے کو گوادر کی تاریخی دھرنا قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو اکتیس دنوں پْر امن طریقے پر چلا۔
قائد مولانا ہدایت الرحمان کے درمیان کامیاب مذاکرات اور معاہدہ طے پاۓ جانے کے بعد گوادر دھرنا 31 دن پورے کر چکا تھا ۔ اس سے پہلے جب صحافیوں کو بلانے کےلئے گوادر پریس کلب میں ڈپٹی کمشنر نے وین بھیجی تو ایکسپریس وے کے راستے میں ایف سی نے ہمیں واپس کیا کہ اجازت نہیں جبکہ  ڈی سی نے سرکاری وین بھیجی تھی۔ دوبارہ ہمیں فش ہاربر کے راستے سے چاہینہ کمپلکس جانا پڑا۔
گوادر پورٹ چائنہ کمپلکس میں وفاقی وزیر ڈیولپمنٹ اینڈ پلاننگ اسد عمر  اور وزیر دفاعی پیداوار  زبیدہ جلال نے گوادر کے صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ہم گوادر ائے ہیں گوادر کے غریب مچھیروں کے مسائل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ گوادر عوام کے مسائل یقیناً جنین ہیں۔ پانی کے مسائل حل ہو چکاہے۔بجلی کے مسائل پر قابو پانے کی ضرورت ہے اس کے لیے ہم گوادر کے مستحق خاندانوں کو 3200 سولر تقسیم کریں گے۔ طوفان بادو باراں میں ان کے نقصان کے ازالے کے لئے انہیں پیکجز دیں گے۔ ٹالروں کے مسلئہ پر انہوں نے کہا کہ یہ دو صوبوں کا مسئلہ ہے اور اس کے لئے آ ئین سازی کی ضرورت ہے۔پہلے ان پر 12 ناٹیکل میل پر پابندی تھی لیکن اب مقامی ماہی  گیر وں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کو بڑھا کر 30 ناٹیکل میل رکھاجائے۔
 وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس  بزنجو اور حق دو تحریک کے سربراہ  مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے مقام پر ہزاروں لوگوں کے سامنے معاہدے پر دستخط کیے ڈپٹی کمشنر گوادر نے فریقین کے درمیان ہونے والا معاہدہ پڑھ کرسنایا صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے تین نوٹیفکیشن قائد حق دو تحریک کے حوالے کئے حکومت بلوچستان  نے مولانا کا نام فورتھ شیڈول لسٹ سے نکالنے اور تمام ایف ائی ار کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نےدھرنے کے ہزاروں مرد و خوتین کے سامنے مطالبات منظور کرنے پر انکا شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔دھرنے پر ائے ہوئے ان خواتین میں چند ایک غریب خواتین کو کچھ رقوم بھی عطیہ کیں۔ دھرنا شرکا سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکاء نے جو مطالبات کئے گئے تھے وہ سب جائز تھے حکومت سنبھالتے ہی ہمارا واضح موقف تھا کہ بارڈر ٹریڈ کی اجازت ہونی چاہیئے ہم روزگار دے نہیں سکتے تو چھیننا بھی ناجائز ہے عوام کی خدمت ہمارا فرض ہے ماہی گیروں کیلئے ایک خصوصی پیکج بھی دیں گے تاکہ وہ اپنے لیۓ کشتیاں بناسکیں  وزیراعلیٰ نے گروک پسنی تربت روڈ پر جلد کام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ غیر قانونی فشنگ پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے غیر قانونی ٹرالنگ کی روک تھام کے لئے محکمہ فشزیز اور کمنشر مکران کو ہدایت بھی جاری کر دی گئیں ہیں، گوادر میں تین شراب خانوں کے لائسنس بھی منسوخ کی گئی ہیں۔
 گوادر کے لوگوں کو ترقی دینا اولین ترجیح ہے ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ گوادر کے عوام کو ان کا حق ملے ۔قبل ازیں مولانا ہدایت الرحمان نے خطاب کرتے ہوۓ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا انہوں نے وزیراعلئ کی گوادر آمد ،کھلے دل سے مزاکرات کرنے اور مطالبات تسلیم کرنے پر وزیراعلئ کا دھرنے کے شرکاء اور اپنی جانب سے شکریہ ادا کیا دھرنے سے صوبائی وزراء سید احسان شاہ اور میر ظہور بلیدی نے بھی خطاب کیا۔ اور کھلے دل سے وزیر اعلی نے دھرنے کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
Facebook Comments HS