سریلی آواز کا بےتاج بادشاہ
وہ آیا اور چھا گیا اور ایسا چھایا کہ دنیا حیرت سے تکنے لگی اپنے بیگانے رفيق و حریف سب ہی عش عش کر اٹھے اس نے محمد رفیع لتا منگیشتر اور سروں کی ملکہ میڈم نورجہاں کی طرح جس بھی شاعر کے کلام کا انتخاب کیا اور اسے پھر اپنی سریلی آواز سے عوام الناس کی سماعت تک پہنچایا اس کلام نے مقبوليت کی بلندیوں کو چھونا شروع کردیا۔
میں بات کر رہا ہوں ایک ایسے درویش ، خاموش طبع، سادہ مزاج گلوکار کی جس کا نام حافظ اسد قریشی ہے یہ گلوکار آنکھوں کی بصارت سے پیداٸشی طور پر ہی قدرت خداوندی کی جانب سے محروم ہے اسکا تعلق کسی پیشہ ور فنکار گھرانے سے بھی ہر گز نہیں بلکہ ضلع مانسہرہ کی تحصيل بالاکوٹ کے ایک پسماندہ گاٶں کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے سریلی آواز کا یہ بےتاج بادشاہ حافظ اسد قریشی سوشل میڈیا پر اپنی سریلی آواز کے سر بکھیرتے ہوٸے نظر آیا اور پھر اچانک شہرت کی بلندیوں کو اس وقت چھونا شروع کیا جب کسی گمنام شاعر کا ایک عام سا لکھا ہوا کلام اپنی سریلی اور دکھ درد بھری آواز میں گایا جس کے ابتدائی چند بول مندرجہ ذیل ہیں …….
” مزہ کالیاں بالاں دا”
"تداں چنا کے وے پتا”
"میرے دل دیاں حالاں دا”
بس پھر یہ گانا راتوں رات مقبوليت کی انتہا کو نا صرف پہنچا بلکہ ایک غریب منش درویش گلوکار کی سریلی آواز اور معصومانہ انداز کو بھی فن کی دنیا میں بامِ عروج بخشا اس گانے کی ویڈیو معروف اداکار عمران انور نے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی بس پھر کیا تھا جس نے بھی کانوں میں رس گھولتی یہ دکھ درد بھری سریلی آواز سنی وہ اس نابینہ گلوکار کا دیوانہ ہی ہوکر رہ گیا۔
حالانکہ یہ گانا اس سے قبل فن کی دنیا پر راج کرنے والی معروف گلوکارہ افشاں زیبی اور منفرد آواز کے مالک فوک غمگین گلوکار یاسر کشمیری نے بھی گایا مگر عوام الناس میں زرہ بھر پزیراٸی نہیں مل سکی بلکہ یہوں لگا جیسے لکھنے والے شاعر کی ابھی ٹریننگ ہورہی ہے اور وہ شاعر بننے کی کہیں ناکام کوشش میں مصروف ہے۔
مگر حافظ اسد قریشی نے جس دل و جان سے سروں کی دنیا میں کھو کر اس شاعری کو دل کی دنیا پر محسوس کر کے جب اپنے سر بکھیرے تو اس پھیکے سے کلام کا ایک ایک لفظ بھی قیمتی محسوس ہونے لگا ہر بول دوسرے بول سے انمول لگنے لگا جب یکایک اس گانے کی سوشل میڈیا پر دھوم مچنے لگی ہر سمت اس نابینہ گلوکار کی واہ واہ ہونے لگی تو اس سے قبل جن گلوکاروں نے یہ گانا گایا تھا وہ سب اپنے آپ کو بھی عظیم گلوکار سمجھنے لگے اور ثابت کرنا شروع کردیا کہ یہ گانا تو سب سے پہلے میں نے گایا تھا ایک نے کہا میری کاپی کی دوسرے نے کہا میری کاپی کی ہے اور سبقت ثابت کرنے کے لیٸے ایک ایک بار دوبارہ اعلیٰ مہنگے ترین اسٹوڈیوز کا رخ کیا خوب سر لگانے کے جتن بھی کیٸے مگر زرا برابر بھی کوٸی رسپانس نہ ملا اور اب بھی کٸ فوک گلوکار قسمت آزمانے میں مصروف ہیں کہ کسی طرح اس گانے کی وجہ شہرت کی فہرست میں اول نام اپنا درج کراٸیں مگر تاحال سب ناکام ٹہرے ہیں۔
فوک گلوکاری کی دنیا میں سریلی آواز کے مالک حافظ اسد جیسے باصلاحیت گلوکار کا اضافہ ایک خوش آٸند بات ہے ماضی میں باصلاحیت فوک گلوکاروں کی بدولت فوک گلوکاری ایک انڈسٹری کی صورت اختیار کرچکی تھی بچے بوڑھے جوان مرد وزن ہر شعبہ ہاٸے زندگی کے لوگ فوک گلوکاروں کے شیداٸی نظر آتے تھے لوگ شادی بیاہ و خوشی کے دیگر پرمسرت لمحات میں ان فوک گلوکاروں کا انتخاب کیا کرتے تھے اور پھر تمام عزیز واقارب کو بھی مدعو کرکے شام کے بعد موسیقی کی محفل سجایا کرتے اس محفل میں جو بھی اس وقت کے گلوکار آتے تھے وہ کسی کی آواز ،انداز اور کلام کو کاپی کرنے بجاٸے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے اسی سبب 80ٕ کی دہاٸی کی وہ موسيقی کی محفلیں آج بھی یادگار ہیں اور لوگ آج بھی ان گلوکاروں کی آواز کو سنتے اور پسند کرتے ہیں وجہ صرف ایک ہی ہے کہ اس وقت کے لوگ اپنی محنت پر انحصار کرتے تھے کسی کی آواز انداز کو کاپی کرنے کے بجاٸے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔
فوک انڈسٹری میں عطإاللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی ،شفإ اللّٰہ خان روکھڑی کے بعد آج اگر کسی گلوکار کا نام ،مقام اور وقار ہے تو وہ صرف چوہدری نعیم ہزاروی اور پھر کسی حد تک افشاں زیبی کا ہے باقی تو سب پارٹ ٹاٸم کے فنکار ہیں اگر غلطی سے کوٸی ان نومولود گلوکاروں کو کسی تقریب میں مدعو کربھی لے تو گاتے کم اور لچے لفنگے چھچورے اوباش لونڈوں کی طرح عجیب و غریب آوازیں نکالتے ذیادہ نظر آٸیں گے اور پھر عین اس موقع پر احقر کو مرحوم ماسٹر حسین بخش مرحوم اور شہرہ آفاق گیت
"چٹے چنے دی چاندنی”
کے خالق سعید ہزارہ مرحوم یاد آجاتے ہیں جو زندگی کے آخری ایام میں کہا کرتے تھے ہمارے فن کی ناقدری کرنے کی سزا یہی ملے گی کہ اس فیلڈ میں لچے لفنگے اوباش لوگ آکر فن کے ساتھ ساتھ ادب ثقافت مشرقی کلچر اور تہذیب کو بھی روند ڈالیں گے اور افسوس صد افسوس آج کچھ ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
ہمیں چاہٸے کہ فن اور فنکاروں کی قدر کریں کیونکہ یہی لوگ عام آدمی کو انٹرٹیمنٹ کے مواقع فراہم کرتے ہیں معاشرے کے حالات دل پر لگی سماج کی گہری چوٹیں اپنوں کے دیٸے دکھ ، درد اور بے رخی غیروں جیسے روّیے ، مفاد پر مبنی دوستی تعلق ، لالچ پر منحصر رشتے ناتے وغیرہ وغیرہ کی وہ سب باتیں جو عام طور پر ہم نہیں کہہ سکتے وہ شاعر لفظ بہ لفظ جوڑ کر کلام کی شکل میں لکھتا ہے اور پھر حافظ اسد قریشی جیسا گلوکار اپنی دکھ درد بھری میٹھی سریلی کبھی دھیمی اور کبھی اونچی آواز میں ہمیں سناتا ہے اور ہم پھر بوقت ضرورت جابجا اس کو حسب مزاج گنگنا کر کبھی کسی کو اپنا حال دل کہتے ہیں کبھی اپنے دل کو بہلاتے ہیں تو کبھی اپنے دکھی اور غمگین دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں. اس لیٸے میری گزارش ہے کہ آنکھوں کی بصارت سے محروم حافظ اسد قریشی جیسے باصلاحیت گلوکار کی ناصرف حوصلہ افزاٸی کریں بلکہ ان کے فن کی قدر کرتے ہوٸے ان کو مزید پرموٹ بھی کریں تاکہ یہ گلوکار تادیر اپنی سریلی آواز کے سر بکھیرتا رہے۔
Facebook Comments HS

