دین اسلام کے ماخذ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہیں، کوئی ملک یا دینی مرکز اتھارٹی نہیں ہے


مسلمانان عالم کو یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر آخرت سے قبل اپنے آخری خطبہ میں کہہ دیا تھا کہ ہم تمہارے درمیان کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ چھوڑ کر جا رہے ہیں تم ان ہی دو کتابوں سے رجوع کرنا۔
اسی وضاحت کی وجہ سے مسلمانان عالم بالخصوص   دینی امور میں باشعور طبقہ عیسائیوں کی طرح کسی پوپ اور کسی ویٹیکن سٹی یا ہندوؤں کی طرح کسی مہنت اور مٹھادیش  کے محتاج نہیں ہیں۔ علماء اسلام نے دین کے معاملے میں کبھی بھی سعودی علماء و شیوخ یا جامعہ ازہر مصر کے فقہاء و مفتیان کو اتھارٹی نہیں مانا۔
ہمارے لئے اتھارٹی قرآن کریم و احادیث مبارکہ ہیں اور دنیا بھر کے وہ تمام علماء عرب و غیر عرب جنہوں نے ان علوم میں مہارت تامہ حاصل کی ہیں وہ ان دونوں ماخذوں کی تشریح کے اہل ہیں اور ان کی بے شمار تصنیفی و تالیفی خدمات ہیں۔
مسلمانوں میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام کو وہ دیگر مذاہب کے نظام سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی مہنت اور پوپ ہوتے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں میں بھی شنکر اچاریہ اور پادری جیسا اہرامی ہیکل ہے۔
اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کے بہت سارے مسلمان بعض مسائل میں پہلے جامعہ ازہر مصر سے اور پچھلے پچاس برسوں کے دوران سعودی عرب سے فرمان کا انتظار کرتے ہیں جس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں رابطہ عالم اسلامی کا مرکز سعودی عرب میں واقع ہے  جس میں ہر خطے کے علماء و فقہاء رکن ہوتے ہیں، ان سے راۓ لینے میں مضائقہ نہیں ہے ۔ مضائقہ اس وقت ہے جب وہ علماء سرکاری علماء کا کردار ادا کرنے لگیں اور  بدون خوف لومة لائم کہنے کی جسارت نہ کر سکیں۔ ہمارے یہاں بھی ایسے علماء کی کمی نہیں ہے۔
جس دن مسلمانوں نے سعودی عرب ملک کو ” مرکز اسلام” سمجھنا چھوڑ دیا اسی دن سے ان کی اضطرابی کیفیت اور مایوسی کی حالت ختم ہو جائے گی۔  اسلام کا حکم کیا ہے اور شریعت کیا کہتی ہے یہ دیکھیں۔ یہ نہ دیکھیں کہ سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے۔ اسلامی نظام اور اسلامی اخلاق و عادات اور کردار  کا پیمانہ آج کے دور کا کوئی  ملک یا شخصیت نہیں ہے۔
 اگر قرآن و احادیث کی بجائے کسی ملک کو اسلام کا مرکز اور مظہر سمجھیں گے تو آپ  ناحق اپنا خون جلاتے رہیں گے اس لئے کہ  سعودی عرب میں تبدیلی کی  بہت تیز لہر چل رہی ہے۔ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ وہاں سینما گھروں اور رقص و موسیقی کے ہال کھل چکے ہیں اور عنقریب وہ سب کام ہوں گے جو  امریکہ کینیڈا،  یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے     ماڈرن لبرل معاشرہ میں ہوتا ہے۔
اگر آپ قرآن و احادیث کی صحیح تعلیمات کی بجائے  تبلیغی جماعت کے مرکز اور امیر کو پیمانہ سمجھیں گے اور بطور ماڈل پیش کریں گے تو دین و دنیا کا نقصان کریں گے۔ ‘تبلیغی جماعت مفید ہے مگر کافی نہیں’۔ اگر مرکز اور مرکز والوں کو معیار بنائیں گے تو مایوسی ہاتھ آۓ گی اس لئے کہ ان سے وابستہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد اخلاق اور معاملات میں بہت کچے ہوتے ہیں اس لئے کہ اخلاقیات اور حقوق العباد ان کے تبلیغی نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔ سالوں سال ایک ہی کتاب فضائل اعمال یا حکایت صحابہ پڑھنے اور سنانے کا اہتمام ہوتا ہے اس سے ذرا سا انحراف بھی امام صاحب کی برطرفی کے لئے کافی ہوتا ہے۔
مسلمان پابند شریعت ہو یا نہ ہو، اللہ ، اللہ کی کتاب قرآن مجید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث مبارکہ کا وہ دل و جان سے احترام کرتا ہے۔
اہانت دین، اہانت اللہ، اہانت رسول ، اہانت قرآن بہت حساس معاملے ہیں اور ادنی درجے کے مسلمانوں، خواہ وہ پابند شریعت ہو یا نہ ہو، کے بھی ایسی اہانت آمیز حرکتوں سے دل آزاری ہوتی ہے اور مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہئے۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ عنقریب اہانت کو ہلکے میں لیا جانے لگے گا اس لئے کہ ” مرکز اسلام” میں جب نیم عریاں قلوپطرائیں رقص و موسیقی کے ایک کنسرٹ میں اس علم کو جس پر کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہے، لے کر رقص کر رہی ہیں تو اقوام عالم کے لئے یہ جواز کافی نہیں ہو گا کہ سعودی عرب ایک آزاد اور خودمختار ریاست اور یہ جھنڈا ان کا قومی علم ہے جس کا رنگ ہرا ہے اور جس پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے اور  قومی سرور میں قومی جھنڈے لے کر رقص کرنے کی آزادی کا حق اس ملک کے شہریوں کو حاصل ہے۔ کسی آزاد اور خودمختار ریاست کی ایسی حرکت پر ہمیں بھی اعتراض نہیں ہوتا اگر اس قومی علم میں کلمہ طیبہ نہ لکھا ہوتا۔
Facebook Comments HS