گزشتہ سے پیوستہ
مسافر یروشلم پہنچ گیا اور پھر مسجد اقصی کا رُخ کرتا ہے جہاں قہبتہ الصخرہ کی زیارت کے بعد اب مسجد اقصی کی طرف روانگی ھو رھی ہے جہاں انکشافات کا ایک جہان اس کا منتظر ہے۔
***      ***
یہ تو واضح ہے کہ قہبتہ الصخرہ ایک شاندار عمارت ہے جسے پہلے سے انسانی تعمیر شدہ ٹیلے پر تعمیر کیا گیا  ہے۔ اس کو مسلمان خلیفہ عبدالمالک اور اس کے بیٹے ولید بن عبدالمالک نے تعمیر کیا تھا۔
لیکن ان کو اس عمارت کی تعمیر کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
مصنف کے مطابق مسلم مورخ مقدی کا کہنا ہے کہ شام اور فلسطین کے گرجوں  کی شان و شوکت کو دیکھ کر وہ بھی چاہتا تھا کہ ایسی کوئی عمارت تعمیر  کرے اور اس کے مخالفین یہ تو جیح پیش کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ ان باپ بیٹوں کی دسترس میں نہیں تھا لہذا وہ اپنا ایک مرکز تقدس تیسرے کسی ایسے مقدس مقام پر  بنانا چاہتے تھے جو پہلے دو مقدس مقامات کی یاد کچھ دنوں کے لئے بھلا دے۔ مسجد اقصی انھیں بہت سادہ لگی اور مذہبی نقطہ نظر سے بھی وہ تبدیلی کرنے سے جھجک گۓ تھے چناچہ انھوں نے اس کے عین مقابل حرم شریف کے صحن کے دوسری جانب اس مقدس چٹان کو چنا اور اس کے اوپر سنہرہ گنبد بنایا۔
(آپ سمجھ تو گئے ھوں گے؟ اگر نہیں تو دوبارہ پڑھئیے آخر ہم بھی تو دوبارہ پڑھتے ہیں)
یہاں پر اگر "بیرالارواح” کا ذکر نا ہوا تو  داستان ادھوری رہے گی جو کہ ایک غار نما کمرہ قہبہ الصخرہ کے پہلو میں معلوم ہوتا ہے اور قاری بھی مسافر کے ساتھ ساتھ ہی اس کنویں میں اتر جاتا ہے۔ اصل میں یہودی عقیدے کے مطابق ان کا مشہور "تابوتِ سکینہ” یعنی Ark of Covenant
یعنی لکڑی کا وہ مقدس صندوق جس میں ان کے عقیدے کے مطابق وہ دو تختیاں جو اللہ نے حضرت موسی (ع) کو کوہ طور پر عطا کیں تھیں ، حضرت ہارون(ع) کا عصا اور وہ برتن جس میں آسمان سے بھیجا جانے والا من وسلوی تھا، یہیں محفوظ تھا ، اس صندوق کو ایک بیانئیے کے مطابق بابل کی افواج 587 قبل از مسیح اپنے حملے میں ہیکل سلیمانی کو برباد کر کے ساتھ لے گئی تھیں۔ بعد میں کچھ یہودی ربیّ یہ کہنے لگے ک اس کو حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کے لئیے عین اس جگہ چھپا دیا گیا جہاں ہیکل سلیمانی موجود تھا۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن تمام روحیں ہہلے یہاں جمع ہوں گی۔ یہیں وہ پلیٹ فارم ہےجس کے درمیان میں وہ سوراخ ہے جہاں سے سواری روانہ ہوئی تھی اور مسافر کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ اس سوراخ کے نیچے کھڑے ہو کر با ہر آسمانوں کو دیکھے اور زمان و مکان کی وہ گتھی حل کر لے جو فلکی طبعیات اورخود فلکیات اور ریاضی کے لئے بھی الجھن بنی ہوئی ہے۔
اب جب مسافر نے مسجد اقصی کی قدم بڑھاۓ اور عجیب سی کیفیت کے ساتھ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ جوتے اتار کر اندر داخل ہوا تو ظہر کی نماز ادا کی جا چکی تھی اور سامنا نبیل انصاری سے ھوا جو اس وقف بورڈ کے ممبر تھے جو مسجد کا نظم ونسق چلاتا  ہے۔ مسافر کو مسجد اقصی کا سائز استنبول کی نیلی مسجد کے لگ بھگ لگا۔ اس کی اونچی چھتیں اور لٹکتے فانوس ،دھاریدار قالین کا زکر قاری کے دل پر ایک عجیب ہیبت اور رقت طاری کر تے ہیں۔ منڈیروں پر اڑتے بیٹھتے کبوتوں کے بارے میں پڑھ  کر اس فانی زندگی سے ایک بےرغبتی اور بے ثباتی کا احساس گہرا ہوتا ہے۔
نبیل انصاری  اور مسافر ایک کونےمیں بیٹھ گئے اور حال دل کہنے لگے۔ نبیل انصاری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کتنی کسمپرسی اور بے بسی کی زندگی گذار رھے ہیں اور مسجد اقصی ان کے لئے ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔ قاری کے لئے کچھ سچ ہضم کرنا بے حد تکلیف دہ ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی دو کلو میٹر دور ارد گرد کے محلوں میں آباد ہیں. تنگ و تاریک گلیاں اور گھٹے ھوۓ چھوٹے چھوٹے مکان جہاں چودہ افراد تک رہائش پزیر ہیں۔ ان پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہیں اور نامسائد حالات کے باعث کاروبار کے دروازے بھی بند ہیں۔ بچوں کے لئے تعلیم کا حصول ناممکن ہے غرض اسرائیلی حکومت نے ہر طرح سانس گھونٹ رکھا ہے تا کہ مسلمان یہاں سے ہجرت کر جائیں۔
مگر ایسا نہیں ہوگا ہم مسجد اقصی کے ساتھ ہی زندہ ہیں
انصاری صاحب کا لہجہ مصمم اور مظبوط تھا مگر وہ مسلمانوں کے روئیے پر بھی نالاں نظر آۓ کیونکہ ویسے تو عام طور پر مسلمانوں کو اسرائیل ویزے نہیں دیتا مگر جو مسلمان کسی ایسے ملک کے ویزے پر آئیں جو یہودیوں کے لئے قابل قبول ہو تو غریب عربیوں پر نگاہ غلط بھی نہی ڈالتے اور بڑی بڑی گاڑیوں میں آکر تصویریں بناتے ہیں اور بس مگر ہماری یعنی قدیم فلسطینیوں کی مو ہوم سی مدافعت دنیا کو یہ یاد دلاتی رہتی ہےکہ یہ مقدس عبادت گاہ ہماری ہے اور یہ کسی اور کے حوالے نہی کی جاۓ گی۔
مسافر کو نبیل انصاری کی باتوں میں شدت پسندی کا رنگ نظر آرھا تھا مگر بعد میں ایک انکشاف ایسا ہوا جو مسلمانوں کی کم علمی اور مغربی پروپیگنڈا کے باعث نظروں سے اوجھل ہے۔ اب یہاں نبیل انصاری رخصت  ہوتے ہیں مگر مسافر کو رات کے کھانے پر مدعو کرنا نہی بھولتے۔
ڈاکٹر صاحب ( مسافر اور مصنف بھی انھی کا نام ہے) روحانیت کے احساس سے شرابور مسجد اقصی کا ٹور لینے کے لئے تیار ہیں جب حاطم صاحب  نے پہلا وار کیا
اس کا کہنا تھا کہ یہ اصل مسجد اقصی نہی ہے بلکہ یہ تو وہ عمارت ہے جو آٹھ سو سال پہلے صلاح الدین ایوبی نے بنائی تھی، اصل مسجد اقصی تو اس کے  نیچے ہے۔ یہ سن کر مسافر کے بدن ایک پھریری دوڑ گئی تو حاطم کا اشارہ کیا اس قرانی حوالے سے تھا جو مسجد اقصی کے بارے میں ہے۔
یہاں اسرار کا ایک جہاں ہے جو قاری کو ایک ایسے فسوں میں لے جاتا ہے جس سے باہر کوئی نکلنا نا چاہے گا اور دل اس جگہ کی زیارت پر ننھے بچے کی طرح مچلے گا۔ حاطم اور مسافر ایک دروازے پر پہنچے جہاں سے سیڑھیاں نیچے جارہی تھیں اور ایک پیلے رنگ کی اداس سی تختی "اقصی القدیم” کا اعلان کر رہی تھی۔  دونوں نیچے اترنے لگے تو یہاں بھی عرب گارڈز سے واسطہ پڑا مگر انھوں نے خوشدلی سے حاظم اور مہمان کا استقبال کیا۔ اقصی القدیم میں داخل مسافر کو اپنے اعصاب شل ھوتے محسوس ہو رہے تھے اور حاطم صاحب تھےتھے کہ معلومات کا خزانہ انڈیلے چلےجا رھے تھے۔
ہاں تو کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم(ع) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل(ع) کے ساتھ چھ ہزار سال پہلے کی تھی تو تب ان کو حضرت حاجرہ(ع) کے پاس چھوڑ کر واپس فلسطین حضرت سارہ(ع) اور حضرت اسحق کے پاس لوٹے تو ایک مسجد یہاں پر  بھی بیٹے کے ساتھ مل کر کعبہ کی تعمیر کے ٹھیک ساٹھ سال کے بعد بنا دی اور یہ وہ ہی جگہ ہے جہاں ہم داخل ہو رھے ہیں۔ قاری پر گویا ایک ہپناٹزم کا حملہ ہے اور مسافر بھی مبہوت گائیڈ کا منہ تک رھا ہے،
اس مسجد کا انتظام حضرت اسحاق(ع) اور ان کی نسلوں کے پاس دو ہزار سال تک رھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل مصر ہجرت کر گئے مگر اس مسجد اسی رب عظیم کی عبادت ہوتی رہی جو حضرت ابراہیم(ع) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے۔
یہاں مسافر مبہوت تو ہے مگر غافل نہیں اب وہ اپنے قاری کو ایک انکشاف زریعے اپنے زورِ بیاں سے جکڑ رہا ہے اور قاری ایک سبک خرام ہوا کے جھولے پر سوار  ان انکشافات پر سر دھنتا چلا جا رھا ہے
سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ہے کہ
"بہت اعلی مرتبت ہے وہ زات (بےشک)جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایک ہی رات میں مسجدالاحرام سے مسجد الاقصی تک لے گئ جس کے ارد گرد کے ماحول ماحول میں بڑی برکات ہیں تاکہ ہم انھیں(رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی کچھ نشا نیاں دکھائیں۔
بےشک اللہ ہی سب کچھ جاننے اور سننے والاہے”
بےشک بےشک بےشک
قاری کو اب ایک نقطے پر غور کرنا ہے کہ کعبہ اور اقصی کے لئےقران مجید میں لفظ مسجد استعمال ھوا ہے مطلب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے یہ دونوں مقدس مساجد موجود تھیں۔ یہ نکتہ بہت نازک ہے مگر اسلام مخالف پروپیگینڈے نے اسے اپنی چادر میں چھپا لیا ہے لیکن اگر اقصی القدیم کے بارے میں جانیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علاقہ مسلمانوں کے لئے مقدس کیوں ہے اور نہتے مٹھی بھر لوگ کیوں اپنی جانیں گنواتے رھتے ہیں
اگر اس مقام کی اہمیت نا ہوتی تو اللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مکہ مکرمہ سے آسمانوں میں معراج پر لے جاتا اگر اس مسجد اور اس کے ارد گرد کی نشایاں اور برکات دکھانا مقصود نا ہو تا۔ یہ سفر ایسا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے آتے جاتے کئی مقامات پر مختلف قافلے بھی آتے جاتے دکھائی دئیے۔ اس سفر کی صداقت کو جانچنے کے لئے (جو کہ 75501 لمبا ہے) کفار اور مشرکین نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے ان قافلوں کے بارے میں سوال جواب کئے جو بلکل درست ثابت ہوۓ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیانِ صادق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے قلوب بہت تقویت ملی تھی۔
اب یہاں مصنف کا نقطہ بلکل سمجھ میں آتا ہے اور قاری بھی اس چیز کو مانتا ہے کہ آ خر یہودی اور اسرائیل نواز قوتیں مسجد اقصی کو گرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا کیا جواز پیش کرتی ہیں ؟
توجیح یہ پیش کی جاتی ہے کہ توریت یعنی Old Testament میں یروشلم کا زکر 823 مرتبہ اور انجیل یعنی New Testament میں 154 مرتبہ مگر قران مجید میں یروشلم کا نام ایک بار بھی نہیں آیا مگر وہ حضرت ابراہیم(ع) کا اپنے بیٹے حضرت اسحق(ع) سے مل کر ایک مسجد کی تعمیر کا زکر گول کر تے ہیں جس جانب قران الحکیم کی مزکورہ بالا آیت میں اشارہ ہے۔ وہ اپنی دشمن داری کا آغاز اور اختتام موجودہ مسجد (جو بالائی میدان میں واقع ہے) کی تعمیر کا الزام سید نا حضرت عمر (رض) اور صلاح الدین ایوبی کو غاصب فاتحین کی تعمیر کردہ عمارت قرار دے کر مسمار کرنے کے درپے ہیں تاکہ اقص القدیم بھی ساتھ ہی برباد ہو جاۓ مگر ایسے بھلا کیونکر ممکن ہے؟
اللہ اکبر
حاطم صاحب تُلے بیٹھے ہیں کہ مسافر اور قاری کو چین سےبیٹھنے نہیں دیں گے اور ایک خصوصی مقام کی طرف جانے کا اشارہ دے رہے ہیں تو چلتے ہیں پھر مگر ہم تو اتنے گناہ گار ہیں کہ بس کیا کہیں  بس جب پڑھتے ہیں تو تصور میں آنکھوں سے ان مقدس مقامات کو چوم لیتے ہیں۔
حاطم نے مسافر کو کشاں کشاں  بلکہ گھسیٹ کر ایک زیرِ محراب راہداری میں لاکھڑا کیا جو لال قالینووں سے آراستہ تھی اور دھیرے دھیرے بڑے پٹھروں کی ایک دیوار جو کسی آرائش سے مبرا تھی کے سامنےجا کر  کھڑے ہوگۓ ،مسافر کےساتھ ساتھ قاری کا دل بھی دھڑک دھڑک کر گویا پنجر ے سے با ہر آرہا ہے۔
"یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کو انبیا اکرام کی نماز کی امامت کرائی”
حاطم کی سرگوشی ابھری گویا وہ مسافر کے لئے اس انکشاف کو قابلِ فہم بنارہا ہے
"یہاں”
مسافر کے ساتھ قاری کا دل بھی پتے کی طرح کانپتا ہے
وہ منظر کیا ہوگا جب حاطم نے دوبارہ مسافر کو ایک جانب گھسیٹ کر ایک جاۓ نماز تک لے جا کر کھڑا کر دیا
” یہاں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور امام کھڑے ہوۓ تھے۔ تکبیر سید نا حضرت ابراہیم(ع) نے پڑھی۔ پہلی صف میں سیدنا ابراہیم(ع) اسحق(ع) اسماعیل(ع) موسی(ع) داؤد(ع)سلیمان(ع) اور آدم(ع) جیسے انبئیا تھے اور پچیس پیغمبر پچھلی صفوں میں محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں تھے۔ اقصی لقدیم انبئیا کی مسجد ہے جہاں حضرت خضر(ع) مغرب کی نماز ادا کرنے آتے ہیں
اللہ اکبر
یہاں پر مسافر کا دورکعت نفل ادا کرنا اور اپنے تھرتھراتے وجود پر قابو پانا اور حاطم کا کہنا کہ آج بھی یہاں انبئیا کے وجود کی خوشبو محسوس ہوتی ہے قاری کو کسی اور جہاں میں لے جاتی ہے اور اپنے ٹوٹے پھوٹے گناہگار وجود کو سمیٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ حضرت ابراہیم(ع) کا کنواں ہے ، یہ وہ محراب ہے جہاں حضرت مریم(ع) بیٹے کی پیدائش سے پہلے عبادت فرماتی تھیں اور جہاں حضرت زکریا نے اسی برس کی عمر میں بیٹے کے لئے دعا کی اور انھیں یَحیٰ(ع) عطا ہوۓ۔
حاتم محل وقوع سمجھا رہا ہے
قاری کے دل کی آواز ہے کہ وہ اس سارے تقدس اپ ے اندر سمو لے مگر مسافر ہی وہاں سے رخصت لے تو وہ کیا کرے؟حاطم کا کہنا تھا کہ وہاں سے نکلنا ضروری ہے کیونکہ کون کون سی ہستی کی آمد آمد ہے کون جانے۔
اب پھر وہی احاطہ ہے اور وہ تمام مقدس عمارتیں اور جہاں ایک اکھاڑہ ہے اور ساتھ ہیں اس کے دو قدیم کمرے!
اس اکھاڑے میں حضرت داؤد(ع) نے کشتی میں ایک شیطان کو پچھاڑا اور ان کمروں میں قید کردیا مگر ایک لوک روائت کے مطابق تین دن بعد وہ کسی گارڈ کو رشوت دے کر فرار ہو گیا(تم بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا)
یہ جو ایک شکستہ سا چبوترا ہے گھاس پھونس سے اٹا ہوا ، یہ کیا کہانی کہتا ہے
جی ہاں یہ تو وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمان(ع) کی نشست ہوتی تھی اور وہ اپنے اعصا سے ٹیک لگاۓ ہوۓ کھڑے کھڑے انتقال کر گئے مگر پتہ تب چلا جب اعصا کو دیمک چاٹ گئی اور وہ گر گیا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ جن جو ہیکل سلیمانی تعمیر میں مصروف تھے ، جان گئے کہ ان کے آقا نبی کا سایہ ان پر نہیں رھا تو سب بھاگ گئے اور کوہ عزرائیل پر پناہ لے لی۔
یہاں حضرت سلیمان(ع) کے مزار کے بارے میں کوئی حتمی راۓ نہیں ملتی۔ اہل یہود مصر ہیں کہ وہ حضرت داؤد(ع) کے پہلو میں دفن ہیں  حالانکہ حاطم جو بے پناہ اور authentic معلومات کے حامل ہیں ان کے خیال میں وہ مسجد اقصی اور مسجد براق کے درمیان کہیں مدفون ہیں۔
مسجد براق؟
مسافر چونک جاتا ہے اور قاری کے پاس تو چونکنے کے علاوہ اب اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔ یہاں پر مسجد براق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ جو ایک وقت میں تو اقصی الاقدیم کا ہی حصہ تھی مگر بعد میں عثمانی خلافت کے زمانے میں ان  کے درمیان دیوار کھینچ دی گئی تھی اور الگ الگ کردیا گیا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے یروشلم سے آمد پر اپنی سواری براق کو باندھا تھا۔ یہاں سے تقریباً پچاس گز آگے وہ جگہ ہے جہاں پچیس جلیل القدر انبئیا(ع) نے آپ
صل اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا۔ ایک لوہے کا کھونٹا اب بھی اس دیوار میں موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی کنڈا ہے جس کے ساتھ براق کو باندھا گیا تھا۔
اللہ اکبر
یہاں پر ایک یہودی ربی سے مسافر کی ملاقات کا احوال درج ہے جو یہ بتاتا ہے کہ یہ  لوگ اپنے عزائم میں کس قدر گھناؤنے اور واضح ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ
” جان لو کہ دنیا کا مرکز اسرائیل ہے، اسرائیل کا مرکز یروشلم ، یروشلم کا اپنا مرکز یہ ٹمپل آف ماؤنٹ (یعنی حرم شریف ہے )اور اسکا مرکز ی مقام یہ صخرۂ یعنی ہمارا ماؤنٹ موریہ ہے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ یہ چٹان دنیا اور ماوراۓ دنیا کے درمیان ایک رابطہ ہے اور اس کا مرکز ایک سوراخ ہے جو تم لوگ کہتے ہو کہ تمھارے نبی صل اللہ علیہ وسلم اوپر آسمانوں پر تشریف لےگئے تھے۔
یہ کہہ کر وہ چھلاوے کی طرح اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
کتاب کے اس باب میں بعض اوقات کنفیوژن ہوتا ہے کیونکہ کئی چیزوں کی وضاحت ایک سے زیادہ بار پڑھنے کو ملتی ہے مگر لطف ہر بار اتنا ہی ملتا ہے اور بعض گتھیاں سلجھنے لگتی ہیں جو قاری کو کسی اور جہاں میں لے جاتی ہیں۔
اب ڈنر ٹائم ہے اور نبیل انصاری نے مدعو کر رکھا ہے
(باقی آئندہ)