آئن سٹائن کی نظر میں اضافیت کا تصور


ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کا نام اہل علم کی فہرست میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ 1940 میں انہوں نے علمی اور سائنسی سطح پر کارنامہ ہی ایسا سر انجام دیا کہ وہ اسی اعزاز کے مستحق ہیں۔ جامعہ عثمانیہ حیدراباد دکن میں ریاضی پروفیسر تھے اور اپنے زمانے کے تمام صاحبان علم سے ربط و رابطہ رکھتے تھے۔

علامہ اقبال سے بھی دوستی تھی۔ یہ 1938 کے اوائل کی بات ہے کہ علامہ جو فلسفے اور سائنس کے بھی دل دادہ تھے، ان دنوں کافی متفکر دکھائی دیتے تھے کیونکہ 1905 میں مشہور سائنس دان آئن سٹائن نے ایک پرچہ شایع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نیوٹن کے کشش ثقل کے نظریہ کی بنیاد پر کائنات کی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ یعنی کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے والی بات تھی۔ علامہ چاہتے تھے کہ آئین سٹائن کے نظریہ کی کوئی ایسی تشریح کی جائے جسے عام فہم و فراست کا انسان بھی آسانی سے سمجھ لے۔

ظاہر ہے کہ یہ بات عام لوگوں کے لیے تو بالکل ایک سر سری سی خبر کی طرح تھی لیکن جو صاحبان علم سائنس کے گہرائیوں سے واقف تھے وہ بھی بس محض مطالعے سے گزر کر یا تو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر بے سرو پا اعتراض کرنے لگے یا اپنی سماجی شہرت کے لیے بحث و مباحثے میں مگن دکھائی دینے لگے۔ علامہ کی خواہش پر پروفیسر رضی نے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا اور ابھی انہوں نے اضافیت کے نظریہ پر مشکل سے ایک آدھ باب ہی قلم بند کیا تھا کہ 1938 ہی میں علامہ اقبال کا انتقال ہو گیا اور پھر ڈاکٹر رضی کی توجہ بھی بٹ گئی۔

لیکن بھلا ہو بابائے اردو ڈاکٹر عبدالحق کا جن کے کہنے پر ڈاکٹر رضی نے چند ماہ کے اندر اندر اپنے شروع کیے گئے کام کو مکمل کیا اور دنیائے اردو میں ایک ایسی مختصر اور جامع تصنیف سامنے آئی جس پر نہ صرف سائنسی علوم سے دل چسپی رکھنے والوں بلکہ اردو زبان کی شیرینی سلاست اور روانی کے مداحوں کو بھی فخر ہونا چاہیے یہ اہم تصنیف انجمن ترقی اردو نے اسی برس پہلے شائع کی تھی لیکن افسوس سائنس بلکہ علم و ادب سے عدم دلچسپی کی عمومی فضا کے نتیجے میں یہ محدود صاحبان علم کے ہی زیر مطالعہ رہی اور علامہ اقبال اور ڈاکٹر رضی کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کہ یہ عوامی سطح پر پڑھی اور سمجھی جا سکتی۔

عجیب اتفاق ہے کہ میں گزشتہ چند ماہ سے آئین سٹائن دوراں اسٹیفن ہاکنگ کی بریف ہسٹری آف ٹائم کو اسی جذبے کے تحت سہل اور سادہ اردو میں منتقلی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوں کہ ایسے میں ڈاکٹر رضی کی یہ نایاب تصنیف ہاتھ لگ گئی جسے پڑھ کر خود میری بہت سے الجھنیں دور ہو گئیں اور مجھے لگا کہ جیسے ڈاکٹر رضی کہہ رہے ہوں۔ دیکھ اس طرح سے لکھتے ہیں سخن ور سہرا۔ میرا خیال ہے کہ کہ جو اردو داں دوست

اسٹیفن ہاکنگ کو سمجھنا چاہتے ہیں انہیں سب سے پہلے ڈاکٹر رضی کی سہل اور سادہ توجیہات کو ضرور پڑھنا چاہیے اس طرح وہ کائنات سے متعلق قدیم تصورات سے جدید سوچ تک کا سفر بہ آسانی زینہ بہ زینہ طے کر سکیں گے۔ چاہیں تو میرے ساتھ اس کتاب کی تھوڑی سی سیر آپ بھی کر لیجے۔ میں ڈاکٹر رضی کی اس کتاب کو ایک خلاصے کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ سولہویں صدی تک زمیں کو کائنات کا مرکز اور ساکت مانا جا رہا تھا اسی طرح یہ عقیدہ بھی جڑ پکڑ چکا تھا کہ آسمان کے طبقات ہیں جس میں بے شمار اجرام فلکی جڑے ہوئے ہیں جن کے متعلق یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ یہ سب زمین کے گرد ٹیڑھے راستوں اور دائروں میں چکر ہیں۔

مورخوں کا متفقہ خیال ہے کہ سائنس کی ابتدا علم ہیئت سے ہوئی یعنی انسانی آنکھ نے جس چیز کو جیسا دیکھا ویسا ہی تصور کر لیا، سورج اور چاند کے طلوع اور غروب ہونے کے مناظر دیکھے گئے پھر ستاروں کی روزانہ حرکت کا انکشاف ہوا لہذا انسان نے اسی کو اصل مان لیا اور زمین کو کائنات کا مرکز تسلیم کر لیا گیا۔ کائنات کا یہ بطلیموسی نظام جس کی ابتدا مصر اور یونان میں ہوئی اس میں عربوں اور ہندؤں نے بھی کئی اضافے کیے اور یہ سوچ سولہویں صدی تک چلتی رہی۔

اضافیت کا سب سے پہلا تصور زمین کی شکل سے متعلق ہے۔ یہیں سے پہلی بار انسان کو احساس ہوا کہ ہمیں جو چیز جیسے دکھائی دیتی ہے ممکن ہے ویسی نہ ہو۔ مثلاً جب ہم اپنے گرد زمین پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہمیں چپٹی نظر آتی ہے۔ قبل تاریخ سے یونانیوں کے زمانے تک زمین کی شکل چپٹی ہی تصور کی گئی لیکن کچھ یونانیوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ زمیں چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔ اس انکشاف کے ساتھ ہی اوپر اور نیچے کی سمتوں کا تصور اضافی لگنے لگا کیونکہ جو سمت قطب شمالی کے باشندے کے لیے اوپر کی سمت ہے وہ قطب جنوبی کے باشندے کے لیے نیچے کی سمت ہوگی۔

1905 میں آئن سٹائن نے اضافیت کا ٹھوس نظریہ پیش کیا تھا لیکن اس سے پہلے بھی علم حرکت میں اضافیت کا تصور موجود تھا جسے اب گیلیلو کا اصول اضافیت کہا جاتا ہے۔ اس اصول کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ سیدھی اور یکساں رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد کے لیے نیوٹن کے قوانین حرکت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ یہ اصول صرف علم حرکت تک صحیح ہے برقی مظاہر کے لیے درست نہیں کیونکہ برقی قانون میں مشاہد کی سیدھی اور یکساں رفتار کی وجہ سے بھی فرق پڑ جاتا ہے۔

آئن سٹائن نے گیلیلو کے اصول اضافیت کو عام کرنے کی کوشش کی تا کہ مشاہد کی ہر طرح کی حرکت سے قوانین قدرت غیر متاثر رہیں۔ گویا آئن سٹائن کا اصول قدیم اصولوں ہی کا نتیجہ ہے اور فلسفیانہ طور پر بھی ہماری تشفی کرتا ہے کیونکہ مشاہد کا مقام یا اس کی رفتار اس کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا قوانین قدرت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 1534 میں کوپر نیکس نے دعوی کیا تھا کہ زمیں کائنات کا مرکز نہیں ہے بلکہ زمین نظام شمسی کا ایک رکن ہے جس کا مرکز سورج ہے اور یہ کہ زمیں اپنے محور پر لٹو کی طرح گھوم رہی ہے۔

خود زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گرد دائروں میں حرکت کرتے ہیں۔ یہ بے شمار ستارے جو ہمیں بہت نزدیک دکھائی دیتے ہیں ہم سے بہت دور ہیں اور ان میں سے ہر ایک خود ہمارے سورج کی طرح ایک سورج ہے، اس نظام کا مرکز ہے۔ اور اس کے گرد متعدد سیارے گردش کرتے ہیں۔ در اصل کوپر نے ہیئتی مشاہدوں کی توجیہ کی تھی لیکن 1618 میں کیپلر نے دریافت کیا کہ سورج کے گرد سیاروں کی گردشی مدار دائرے نہیں ہیں بلکہ دائرے کی شکل کے منحننی ہیں جنہیں ناقص بیضوی کہتے ہیں جن کے ایک ماسکہ پر سورج واقع ہے۔

ان کے علاوہ کیپلر نے دو اور قوانین بھی دریافت کیے جن سے سیاروں کا مدار ناپا اور ایک پورے چکر کا وقت معلوم کیا جا سکتا ہے، کیپلر کے یہ تینوں قوانین بہت اہم ہیں اور نیوٹن کے قانون تجاذب کا انکشاف ان ہی پر مبنی ہے۔ اسی زمانے میں گیلیلو نے اس تصور کے بھی مخالفت کی کہ بھاری چیز تیزی سے اور ہلکی چیز سست روی سے گرتی ہے۔ گیلیو نے پیسا کے مینار سے بھاری اور ہلکی چیزیں ایک ساتھ گرا کر ثابت کیا کہ گرنے والی چیزوں کا اسراع مستقل اور یکساں ہوتا ہے اسراع یعنی کسی متحرک جسم کی رفتار جس شرح سے تبدیل ہوتی ہے اسے اسراع کہتے ہیں۔

چونکہ گیلیلو کے خیالات کلیسائے روم کی تعلیمات سے مختلف تھے اس لیے گیلیلو کو جو پریشانیاں اٹھانی پڑیں ان کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ گیلیلو نے اپنے اصول حرکت میں اس سوال کا جواب دیا تھا کہ کہ آخر قوت سے حرکت کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ گیلیلو پہلا شخص ہے جس نے بتایا کہ یہ اصول سرے سے ہی غلط ہے کہ جہاں کہیں حرکت ہو وہاں قوت کی بھی ضرورت ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر قوت ہی حرکت کو جاری رکھتی ہے تو پھینکے جانے والے پتھر نے ایک مخصوص فاصلہ کیسے طے کیا کیونکہ ہاتھ سے نکلتے ہی پتھر کو پھینکنے والی قوت تو ختم ہو گئی تھی۔

اس نے ثابت کیا کہ قوت کا اثر رفتار کی تبدیلیوں پر ہوتا ہے۔ جس حرکت میں رفتار کی سمت اور مقدار دونوں مستقل رہتے ہیں اس کو قائم رکھنے کے لیے کسی قوت کی ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی اس کا بر عکس بھی درست ہے کہ جب کوئی قوت عمل نہیں کرتی تو رفتار کی سمت اور مقدار مستقل رہتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی جسم حالت سکون میں ہے تو سکون میں رہے گا اور اگر کوئی جسم ہموار رفتار سے خط مستقیم میں حرکت کر رہا ہے تو اسی طرح حرکت کرتا رہے گا۔

اس سے معلوم ہوا کہ قوت حرکت کے ساتھ نہیں بلکہ رفتار کی تبدیلی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس رشتے کو واضح طور پر نیوٹن نے بیان کیا جو نیوٹن کا قانون حرکت کہلاتا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی قوت کسی جسم پر عمل کرے تو وہ اس جسم کی رفتار میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ اگر کسی جسم کی کمیت زیادہ ہوگی یعنی کسی چیز میں مادے کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی قوت لگائے جانے پر اس کی رفتار میں تبدیلی کی شرح اتنی ہی کم ہوگی اور اگر اتنی ہے قوت کسی کم کمیت والے جسم پر لگائی جائے گی تو اس کی رفتار میں تبدیلی کے شرح زیادہ ہو گی۔

جسموں پر جو مختلف قوتیں عمل کرتی ہیں ان میں سے ایک ان کا وزن ہے جو ان جسموں کو زمین کے مرکز کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ بھاری جسموں میں رفتار کو تبدیل کرنے والی قوت کو زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہلکے جسموں میں کم۔ مختصر یہ کہ انیسویں صدی تک طبعی کائنات کے بارے میں یہ سائنسی تصور قائم ہو گیا تھا کہ کائنات میں مادہ اور توانائی دونوں پائے جاتے ہیں۔ تمام مادی اشیا ایک یا زیادہ عناصر کے آمیزوں یا مرکبات سے مل کر بنی ہیں۔

ان عناصر کی تعداد 92 ہے اور کسی عنصر کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کو جس میں اس عنصر کی خاصیت باقی رہتی ہے جوہر یا ایٹم کہتے ہیں۔ مادہ تین حالتوں یعنی ٹھوس مائع اور گیس کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کسی جسم کی کمیت اس کے حرکت یا سکون پر منحصر نہیں بلکہ مستقل ہے۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ جوہر کی مزید تقسیم ناممکن ہے لیکن انیسویں صدی میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ہر جوہر میں مزید چھوٹے ذرات ہوتے ہیں کچھ پر مثبت برقی بار ہوتا ہے کچھ پر منفی۔

منفی بار والے ذروں کو الیکٹران کہتے ہیں اور ان کی کمیت سب سے کم ہوتی ہے۔ مقناطیس کی کشش بھی ان ہی الیکٹران کی ترتیب پر ہوتی ہے۔ برقی اور مقناطیسی توانائی کے علاوہ توانائی کی اور بھی قسمیں ہوتی ہیں جیسے نور یعنی روشنی اور حرارت وغیرہ۔ کسی ایسے نظام میں میں جو بیرونی اثر سے محفوظ ہو توانائی اپنی شکل بدل سکتی ہے اور اس کی مقدار مستقل رہتی ہے۔ جس طرح آواز کا سفر ہوا کی لہروں پر ہوتا ہے اسی طرح روشنی کے سفر کے لیے بھی موجوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی موجوں اور ہوا کی موجوں کی طرح روشنی کی موجوں کے لیے بھی ایک واسطے کی ضرورت پڑتی ہے جسے ایتھر کہا جا تا ہے۔ ایتھر اگر چہ مادی نہیں لیکن اس میں مادے کی بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہاں تک آپ کا سفر اگر چہ ذرا سا کٹھن لیکن خوش گوار گزرا ہو گا اور میری طرح آپ میں بھی یہ تجسس ضرور پیدا ہوا ہو گا کہ انیسویں صدی کے آخر میں ان توقعات کا کیا بنا جو نیوٹن کے قانون حرکت سے وابستہ کر لی گئی تھیں، کیا نیوٹن کے قانون میں کسی ترمیم و اضافے کی گنجائش نہیں تھی۔ کیا آئن سٹائن جیسے بڑے دماغ نے نیوٹن کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے یا کسی اور زاویے سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ان سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں اس افسانوی کردار کی طرح آگے بڑھنا ہو گا جو جادو بھرے محل میں کھل جا سم سم کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھتا جاتا تھا اور اس پر نئے نئے انکشافات ہوتے رہتے تھے۔ میرے ساتھ رہیے گا میں آپ کو اسٹیفن ہاکنگ کی سوچ اور نظریہ سے ملانے کی پوری کوشش کروں گا۔

Facebook Comments HS