کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کو الحاد کی طرف لے کر جا رہا ہے؟


ماہنامہ محاسن اسلام دسمبر کا شمارہ نظروں سے گزرا جس میں اس پریشانی کا اظہار تھا کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی الحاد کی طرف رہنمائی کرنے کا موثر ذریعہ بن چکا ہے اور 15 سے 25 سال کے بچے بچیاں زیادہ تر اس لہر کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ اس شمارہ کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام اور ٹویٹر پر ایسے سینکڑوں اکاؤنٹس ہیں جن کا کام دن رات سائنسی بنیادوں پر خدا کے وجود سے انکار، دین اسلام کے مختلف احکام کا مذاق اڑانا اور علماء کی تضحیک کرنا شامل ہیں۔

یہ بظاہر مسلمانوں کے نام سے اکاؤنٹ بناتے ہیں اور طریقہ واردات یہ ہے کہ جان بوجھ کر ایسے موضوعات پر بات کی جاتی ہے جن کا تعلق ایمان بالغیب سے ہوتا ہے اور اس کو سمجھنا سائنس کی دسترس سے باہر ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان نسل کنفیوز ہو کر گوگل اور انٹرنیٹ سے رہنمائی حاصل کرنے چل پڑتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ الحاد ہی نکلتا ہے۔ ان قباحتوں سے بچنے کا طریقہ بڑا ہی دلچسپ بتایا گیا ہے کہ اپنے بچوں کو الحاد سے بچانے کے لیے سمارٹ فون اور انٹرنیٹ سے دور رکھیں اور اپنے بچوں کو سختی سے تاکید کریں کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت علماء کی صحبت میں بسر کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے گلوبلائزڈ ورلڈ میں نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے استعمال سے عملی طور پر باز رکھا جا سکتا ہے؟ ایسا کرنا آج کے دور میں تو بالکل ممکن نہیں ہے بلکہ ہماری اولڈ جنریشن کو آج کی دنیا میں اپنی حیثیت بنانے کے لیے نئی جنریشن کے لیول تک آنا ہو گا وگرنہ وہ یونہی کڑہتے کڑہتے بہت ساری نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ اب رہی اس بات کی فکر کہ آج کی جنریشن سوشل میڈیا کے ذریعے سے الحاد کی طرف مائل ہو کر اور تشکیکیت کا شکار ہو کر عجیب و غریب قسم کے سوال پوچھنے کی عادت کا شکار بننے لگے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟

اگر سوالات کی چوٹ سے ”سٹیٹس کو“ ٹوٹتا ہے تو اس سے زیادہ دلچسپ بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ کیونکہ جو مزہ تغیر میں ہے وہ ٹھہراؤ میں کہاں ہے، ٹھہرا ہوا صاف شفاف پانی بھی گدلا ہو کر کچھ عرصہ بعد بدبودار ہوجاتا ہے اور اسی ٹھہراؤ کی وجہ سے فلسفے مقدس بن جاتے ہیں اور انسانی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔ جب یہ انسانی دسترس سے نکل جاتے ہیں تو یہ مقدس بن جاتے ہیں جن پر تنقید اور سوال نہیں اٹھائے جا سکتے، بس انہیں شعور کی آنکھ پر پردہ ڈال کر اندھے ایمان کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔

کسی چیز کا ”ان چینج ایبل“ ہونا اس کی خوبی میں شمار نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے دنیا میں صرف ایک عمل مستقل ہے جسے ”چینج پراسس“ کہا جاتا ہے جو چیز بھی تبدیلی کے عمل سے نہیں گزرتی اس کی کوئی کریڈبیلٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں نکھار آتا ہے۔ ریشنیلٹی والے جراثیم ہر ذہن میں ایک طرح کے نتائج کو جنم نہیں دیتے کیونکہ ہر ایک کے دماغ کا ذہنی میک اپ ایک جیسا نہیں ہوتا اور یہی مختلف نتائج ڈاگماز کو چیلنج کرنے کا سبب بنتے ہیں اور معاشرتی علم کو گلنے سڑنے سے بچاتے رہتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوالات صرف تشکیکی رویہ رکھنے والوں کے ذہنوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں یا مذہبی ذہن رکھنے والوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر مذہبی ذہن میں بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں مگر انہیں ایمان کی سرحد سے ذرا سا بھی باہر نکلنے پر سخت وعید سنا دی جاتی ہے اور اسی جبر کی وجہ سے مذہبی ذہن اپنے سوالات کو اپنے ذہن کی کال کوٹھڑی میں ہی دفن کرنے پر اکتفا کر لیتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء سوال اٹھانے کی سپیس نہیں دینا چاہتے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا محدود کتابی علم کا بھرم ٹوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے اور ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی پہلے ہی بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔

آج کی نئی نسل کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے پیچھے ان کا خوف اور ڈر ہے کیونکہ ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا سامنا کرنے کی ان میں سکت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے فرقہ کے نصاب میں جو کچھ بھی پڑھا ہوا ہے وہ اپنے ہی ہم مذہبی فرقوں کے خلاف مناظرہ بازی میں ہی کام آ سکتا ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اب تک منکرین مذاہب نے جتنے بھی سوالات اٹھائے یا کتابیں وغیرہ لکھی ہیں انہوں نے کبھی بھی سنجیدگی سے جواب دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔

تضاد بیانی کا یہ عالم ہے کہ عام مسلمانوں کو سادگی کا درس دے کر تھوڑے پر بھی شکر بجا لانے کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور خود بڑی ٹھاٹھ سے جدید زندگی انجوائے کر کے ایم ٹی جے برانڈ کے سربراہ بن کر اس کی افتتاحی تقریب پر کروڑوں خرچ کر ڈالتے ہیں، ”فلائنگ کس“ کا اجراء کرنے والے خود کے لیے جدید زندگی چنتے ہیں اور دوسروں کو ماضی کے غار میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس آپ سعودی عرب کو دیکھ لیں جہاں پر ”لونگ سٹینڈنگ ٹیبوز“ یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہے ہیں۔

فلسفہ جسے کبھی دہائیوں تک سعودیہ میں معاشرے کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا تھا اب باقاعدہ طور پر ”فری تھنکرز“ کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کھل کر سکیں گے۔ گزشتہ دنوں ریاض میں فلسفہ کے موضوع پر ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں دنیا بھر کے فلسفیوں کو مدعو کیا گیا جس میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سینڈل نے فلسفہ وجودیت، فری ول اور انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے ان جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی۔

کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کی کانفرنس کا انعقاد کر کے فلسفیاتی گتھیوں کو سلجھانے کا عمل تو پہلا قدم تھا مگر سعودی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ فلسفہ کو سعودی سلیبس کا حصہ بھی بنایا جائے گا تاکہ سعودی طلباء نئے تصورات و سوچ سے خود کو ہمکنار کریں۔ تصور کریں عرب ممالک اپنی جنریشن کو نئے تصورات سے آگاہ کرنے کے لیے فری تھنکرز کو مدعو کر کے فری تھنکنگ کو پرموٹ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہماری مذہبی کلاس اس وجہ سے سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کیے جا رہے ہیں کہ ہماری نسل سوشل میڈیا کی وجہ سے الحاد کی طرف مائل ہو رہی ہے اور مذہبی علماء سے تضحیک آمیز سوالات پوچھ کر ان کی تذلیل کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو آپ کی تضحیک و تذلیل سے کوئی مسئلہ ہے یا آپ سوالات کا سامنا کرنے سے گریزاں ہیں؟ آپ کو تو مخالفین کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے سوالات کی وجہ سے آپ کو اپنے مذہب کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے وگرنہ تو ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے معمولی اختلاف پر ایک دوسرے کو کافر کافر کہنے کی رسم سے ہی آپ کو فرصت ہی نہیں ملتی۔ نئی نسل کے پر کترنے کی بجائے خود میں علمی دم خم پیدا کریں تاکہ اس نئی دنیا میں آپ کا بھی کوئی مقام ہو۔

آپ تبلیغی جماعت کا طرز فکر دیکھ لیں جو آج بھی ہزاروں سال پہلے والی زندگی جی رہے ہیں، ان کا سارا فوکس آخرت کی زندگی سنوارنے پر ہوتا ہے مگر دنیا میں کیسے جینا ہے اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ تبلیغ سے صرف عام مسلمانوں کو ہی قائل کر سکتے ہیں علمی طور پر ساؤنڈ لوگوں کو نہیں اور دوسرے مذاہب کے کوالیفائیڈ لوگوں کو تو بالکل ہی قائل نہیں کر سکتے۔ تبلیغی نصاب کے اوپر تو جید علماء کے ہزاروں تحفظات ہیں اس لئے جدیدیت سے خائف ہونے کی بجائے ہمیں خود کو جدید تقاضوں کے مطابق کوالیفائیڈ بنانا چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے معزز علماء کرام میں دوسری یا الگ سوچ کو سننے کا کم از کم حوصلہ تو ہونا چاہیے اور اپنی ہی نئی نسل کو جدید سوچ سے استفادہ کرنے پر مشکوک نظروں سے دیکھنے کا رویہ کوئی صحت مند دانہ ایٹی ٹیوڈ نہیں ہے۔ آپ کا کام دوسروں تک اپنی بات کو حکمت کے ساتھ پہچانا ہے ناکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں گھس کر اپنی مرضی کے القابات سے نوازنا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کو الحاد کی طرف لے کر جا رہا ہے؟

  • 21/12/2021 at 4:08 شام
    Permalink

    واہ بہت خوب بہت صاف اور کھری کھری حقیقت بیان کی ہے آپ نے۔ حقیقت ہی یہی ہے کہ علماء صاحبان کو دین کے بیچ سے نکال دیا جائے تو انسانیت بچ جائیگی۔ جب ان کا وجود ہی نہیں رہیگا تو دین کے ٹھیکیدار آئینگے کہاں سے جو دفاع کرسکے۔

Comments are closed.