عاجز کا کاسہ


چند ماہ قبل ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے’ کرونا کی پابندیوں کے باعث آج کل ملنے ملانے اور آنے جانے کی روایات کافی حد تک بدل گئی ہیں۔ لہذا انہوں نے بھی قانون کے احترام میں چہرے پہ ماسک چڑھا رکھا تھا اورانہوں نے آپس میں ہاتھ ملانے کی بجائے مکا ملانا زیادہ محفوظ جانا۔  شروع کی رسمی علیک سلیک کے بعد انہوں نے اپنی آمد کا مدعا بیان کیا۔ کام کے سلسلے کی سب تفاصیل طے ہو جانے کے بعد انہوں نے کچھ دیر مزید بیٹھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

غیر رسمی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو باتوں باتوں میں بات کسی اور طرف نکل گئی۔ اگلے کچھ منٹوں میں وہ میرے برابر والی کرسی پہ براجمان تھے اور ہم آپس میں باہمی دلچسپی کے امور پہ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ اظہار کا بھی کیا ہے ‘ کبھی اشارے ‘ کنائے ہی بات سمجھا دیتے ہیں اور کبھی الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ وہ جو بات کرتے یا خیال پیش کرتے ‘ اسی خیال کو وہ میرے ہاں پرورش پا کے کسی نہ کسی عملی شکل کو پہنچا ہوا پاتے۔ جب تیسرے خیال پہ ایسا حسنِ اتفاق ہوا تو انہیں لگا کہ شاید میں انہیں زچ کرنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا رہا ہوں۔

مجبوراً ان کو اپنے ان خیالات کےعملی کاموں کی فہرست اور اس پہ کی گئی پیش رفت کی پوری رپورٹ دکھانی اور بتانی پڑِی۔ اس ملاقات سے یہ ضرور حاصل ہوا کہ ابھی دنیا میں ایک جیسا سوچنے والے انسان دستیاب ہیں۔ ملاقات کا اختتام نہایت خوشگوار ہوا۔ ان کو باقاعدہ دروازے تک چھوڑ کے آیا اور انہوں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے اور ملاقات کی خاص تاکید کی۔

پھر جیسا ہوتا ہے ‘ کارِ جہاں دراز ہوئے اور ملاقات کا وعدہ کاغذوں کے پلندوں میں کہیں کھو گیا۔ ایک دن ‘چیچا’ ان کو فون کیا کہ صاحب سلامت کی جائے تو کہنے لگے کہ دانستہ رابطہ نہیں کیا۔ اس بات سے بڑی حیرانی ہوئی کہ اس دن تو واری صدقے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب ایسا بیان۔

پیر نصیر الدین نصیر بھی کہاں یاد آئے’ ایک مجلس میں انہوں نے شعر سنایا تھا کہ:

تھا کچھ ابھی بیان ‘ ابھی کچھ بیان ہے
گویا تیری زبان کے نیچے زبان ہے

(اس ضمناً یاد آ جانے والے شعر کو ان موصوف سے منسلک نہ کیا جائے ‘ ان کی دلیل اور توجیہہ کچھ مختلف تھی)

کہنے لگے میرا اصول ہے کہ راہ و رسم اپنے سے سات سال چھوٹے یا سات سال بڑے آدمی سے رکھتا ہوں۔ اسی سے ہم دونوں میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو گا کیونکہ پانی ہمیشہ زیادہ بلندی سے کم بلندی کی طرف سفر کرتا ہے۔ دونوں طرف اگر بلندی ایک سی رہے گی تو کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جیسے برقی رُو کے گزرنے کے لئے پوٹینشل ڈیفرنس ہونا ضروری ہے۔

اسی سے ملتی جلتی بات حافظ وصی صاحب نے نئے طالبعلموں کو کہی تھی کہ بیٹا بن کے کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں ‘ باپ بنیں گے تو کوئی کچھ نہیں بتائے گا۔ عاجزی اختیار کرنے اور موَدب رہنے ہی میں کوئی ہنر ہاتھ لگے گا۔ عاجز کا کاسہ ہمیشہ بھرا ہوا ہی ملے گا۔ اگر یہ صفات مستقلاً مزاج کا حصہ بن جائیں تو کوئی بھی بات ‘ رمز ‘ علم ‘ حکمت اور دانائی کی بات کسی سے بھی ‘ کہیں سے بھی سیکھی جا سکتی ہے۔ اسی طور سیکھنے سیکھانے کے عمل سے معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

Facebook Comments HS