پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی: چند واقعات
ہم چھ بہن بھائیوں نے جس مسجد سے قرآن پاک پڑھا تھا ایک روز اسی مسجد کے ایک نئے آنے والے امام صاحب، جو خود بڑے نفیس اور شریف انسان تھے، نے نماز عصر کے بعد ہمیں قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا کہ
”کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ اس مسجد میں نماز پڑھنے نہ آیا کریں“
ہم نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور کہا
”جن لوگوں نے یہ پیغام آپ سے ہم تک پہنچانے کے لیے کہا ہے انہیں کہیں کہ خود سامنے آ کر ہمیں روکیں“
ہم نے ان امام صاحب سے کہا
”یہ اللہ کا گھر ہے اور کسی کو حق حاصل نہیں کہ کسی کو بھی اس میں داخل ہونے سے روکے“
اور آج تک ہم اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جاتے رہتے ہیں اور کسی میں جرات نہیں ہوئی کہ ہمیں سامنے آ کر روک بھی سکے اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے انتہاپسندانہ سوچ کے سامنے حوصلے سے کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ روکنے والے ایسے جاہل تھے اور ہیں کہ انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات تک کا علم نہ ہے اور ان کے منہ میں ہر وقت دبے مخمور کردینے والے سگریٹ بھی انہیں فلمی بڑھک باز ولن کا سا کردار ادا کرنے پر اکساتے رہتے تھے، المیہ ہے کہ ہم نے اپنے علاقے کی بریلوی مسلک کی مسجد کے باہر یہ بورڈ لگا دیکھا کہ
”تبلیغی جماعت کا مسجد میں ٹھہرنا سختی سے منع ہے“
ہم نے اپنے علاقے کی دیوبندی مسلک کی مسجد میں دیکھا کہ اذان دینے والے کو صرف اس وجہ سے اذان سے منع کر دیا گیا کہ اس نے ایک روز قبل مغرب کی اذان سے پہلے ”سلام“ پڑھ دیا تھا۔
ہم نے ایک بی ایس سی کے اسٹوڈنٹ کو کلاس میں منع کرنے کے باوجود موبائل استعمال کرتے پکڑنے کے بعد ایک کالج اہلکار پر صرف اس لیے توہین مذہب کا الزام لگاتے دیکھا کہ جب اس اہلکار نے انتہائی بدتمیزی کے بعد اس اسٹوڈنٹ کو کلاس روم سے باہر نکالا تو اس کا بیگ نیچے گر گیا اور اس اسٹوڈنٹ نے اس اہلکار کے خلاف درخواست دے دی کہ "”میرے بیگ میں اسلامیات کی کتاب تھی وہ اس اہلکار نے زمین پر گرائی تو مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اسی لیے بدتمیزی کی تھی“
اسی طرح ابھی ایک کالج لیکچرار نے بتایا کہ ایک طالبہ نے اپنے پروفیسر سے کہا کہ
”اسٹوڈنٹس عربی آیات پر مبنی کتب لے کر بیٹھتے ہیں تو“ پیٹھ ”ہونے کی وجہ سے قرآن پاک کی توہین ہوتی ہے۔
یہ بات بتانے والے پروفیسر حیران تھے کہ طالبہ کو ایک مسلمان استاد کی کلاس میں یہ خیال ہی کیونکر آیا کہ وہ قرآن پاک کی توہین یا ایسے ہی کسی ناپسندیدہ معاملے پر خاموش رہ سکتے ہیں؟ اور اس طالبہ کو کیا علم نہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہری ہے اور یہاں ایسا جان بوجھ کر کوئی بھی نہیں کر سکتا ہے اور جو سوچ وہ لے کر چل رہی ہے وہ کسی بھی طور اس کی ذہنی سطح سے لگا نہ کھاتی ہے لیکن وہ جس ماحول میں رہتی ہوگی وہاں سے اسے ایسی ہی انتہاپسندانہ تربیت سازی کے جہان سے گزرنا پڑتا ہو گا تو پھر کیا وہ کچھ اور سوچنے کی طرف کبھی جا سکے گی؟
المیہ ہے کہ ہمارے بچے کس نہج پر جا کر سوچنے لگ گئے ہیں اور ”من سب نبیا فقتلوہ“ ( جو نبیوں کی توہین کا مرتکب ہو اسے قتل کر دیا جائے ) یہ ضعیف ترین حدیث ہے اور ممتاز کالم نگار خورشید ندیم کے مطابق جس کا نہ موطا امام مالک اور نہ ہی صحاح ستہ سے ثابت ہونا ملتا ہے لیکن پھر بھی اسے بنیاد بنا کر نام نہاد علما آگ بھڑکا رہے اور انسانوں کے قتل تک کی نوبت بھی آنے لگی ہے اور بڑے فخر سے اور سینہ تان کر قاتل اس حدیث کو بطور جواز پیش کر کے اپنے اسلام کے سچے پیروکار ہونے کی گواہی دیتے ہوئے ملتے ہیں اور اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے ان لوگوں کی ایسی حرکات کی وجہ سے دنیا میں ایک تشدد پسند مذہب کی حیثیت سے اپنا منفی امیج بنا چکا ہے اور پاکستان جسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے وہ اپنے ایسے ہی نادان، جاہل اور سفاک شہریوں کی وجہ سے مسلسل گرے لسٹ میں رہ کر تماشا بنا ہوا ہے مگر کیا اس کے اندر رہنے والے ایسے عناصر کو علم ہے کہ ان کے اقدامات سے پاکستان کس قدر گھاٹے کی طرف جا چکا ہے؟
اور مزید کس پاتال میں گر سکتا ہے؟ المیہ ہے کہ چند شرپسند عناصر ریاست کی کمزوری، مصلحت، حماقت اور ڈھیل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 22 کروڑ عوام کو دنیا کے لیے ناپسندیدہ قوم بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ان کے عزائم بتا رہے ہیں کہ یہ قوم و ملک کو کسی گہری کھائی میں گرا کر ہی دم لیں گے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں ریاست ابھی سے لگام ڈال دے ورنہ آنے والا وقت کوئی اچھے اثرات نہیں دکھا رہا ہے اور چند جاہلوں کے کرتوتس کا خمیازہ پوری قوم بڑے بھیانک نتائج کے ساتھ بھگتے گی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کسی کو اس بات کا احساس تک نہ ہو رہا ہے، ریاست ایسے عناصر کو کبھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے تو اسی ملک کا اہم ترین منصب دار ان عناصر کو ”نان اسٹیٹ ایکٹر“ کہہ کر ان سے دوری کا اظہار بھی کرتا ہے مگر پھر ”گڈ طالبان اور بیڈ طالبان“ کی باتیں بھی کانوں میں پڑتی ہیں اور ایسے ہی عناصر کو ”اسٹریٹجک اثاثہ“ بھی کہنے والے مل جاتے ہیں۔
دیکھنے والے پاکستانی گلی کوچوں کو لہولہان کرنے والے حکیم اللہ محسود کو ”شہید“ کہنے والے جماعت اسلامی کے سید منور حسن کی آواز بھی سنتے ہیں اور جنرل (ر) امجد شعیب کے منہ سے احسان اللہ احسان سے سفاک کی طرف سے ملالہ اورAPS پشاور پر حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے باوجود ”ذمے داری قبول کرنے سے کوئی قصوروار کیسے کہا جاسکتا ہے“ ؟ جیسا حیرت انگیز بیان بھی بھی اپنی سماعتوں تک پہنچتا ہوا پاتے ہیں اور عوام تب بھی چونک سے جاتے ہیں جب ملک کا ایک اہم سیاسی لیڈر اپنے اپوزیشن دور میں ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیاں گل کرنے والے طالبان کا آفس پشاور کھولنے کی بات کرتا ہے اور وہی وزیراعظم بن کر ان طالبان کی دوبارہ آمد پر خوشی سے پھولے نہ سماتا ہے اور انہیں ایک اچھی آمد سے تعبیر کرتا ہے اور دنیا کو بھی بار بار ان کی حکومت سے تعاون کی صلاح دیتا ہوا ملتا ہے، المیہ ہے کہ قاتلوں کو ہیرو بنانے کی کوشش میں ہمارے اپنے ہی شامل ہوئے ملتے ہیں اور یہ کوشش کرتے انہیں دنیا کا موڈ سمجھنے کی توفیق بھی نہ ہوتی ہے اور ایسے ہی ناسمجھوں کے کارن اقوام عالم کی نظروں میں ہمارا امیج ایک انتہاپسند کا سا بنا ہوا ہے اور یہ تب تک بنا رہے گا جب تک ہم انسان کے بچے نہیں بن جاتے ہیں۔
آخر میں ایک واقعے کا ذکر کرتے چلیں جو 90 کی دہائی میں ہماری آنکھوں کے سامنے پیش آیا تھا، ان دنوں پاکستان میں اسٹوڈنٹس یونین کا دور دورہ تھا اور اسٹوڈنٹس یونینز تعلیمی اداروں میں کسی مافیا ڈان کی سی حیثیت رکھا کرتی تھیں، جھنگ شہر جس سے ہمارا تعلق ہے فرقہ واریت کے حوالہ سے خاصا معروف تھا اور اس کے تعلیمی اداروں میں مذہبی جماعتوں کا زور زیادہ تھا، ایک بار اس کے ایک بڑے کالج میں اس کے پرنسپل پروفیسر سمیع اللہ قریشی کے خلاف اسٹوڈنٹس نے قادیانی ہونے کا الزام لگا کر خاصا ہنگامہ کھڑا کر دیا، چند اسٹوڈنٹس لیڈرز کو پرنسپل آفس میں مذاکرات کے لیے بلایا گیا تو دھکم پیل کے دوران ہم بھی پرنسپل آفس کے اندر گھس گئے، وہاں اسٹوڈنٹس نے پرنسپل پروفیسر سمیع اللہ قریشی کے ساتھ سخت لہجے میں نہ صرف بدتمیزی شروع کردی بلکہ حد سے زیادہ گستاخانہ انداز بھی اختیار کیا تو بھیگی آنکھوں کے ساتھ پرنسپل پروفیسر سمیع اللہ قریشی نے دراز کھول کر ختم نبوتﷺ کے لیے آواز اٹھانے والے چنیوٹ کے معروف دینی رہنما مولانا منظور چنیوٹی کا فتوی نکال کر اسٹوڈنٹس لیڈرز کے آگے رکھ دیا اور کہا
”یہ دیکھیے۔ چنیوٹی صاحب نے اپنے فتوی کے ذریعے مجھے مسلمان قرار دیا ہوا ہے“
( یاد رہے کہ پروفیسر سمیع اللہ قریشی کی فیملی قادیانی تھی لیکن انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، اتفاق سے خاکسار ایجوکیشن یونیورسٹی فیصل آباد میں پروفیسر سمیع اللہ قریشی کے بھائی پروفیسر امان اللہ قریشی کا فلسفے کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہے اور امان اللہ قریشی قادیانی تھے )
لیکن اسٹوڈنٹ لیڈرز نے نہایت بدتمیزی کے ساتھ اس فتوے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکار کر دیا اور کافر کافر کے نعرے لگاتے ہوئے پرنسپل آفس سے باہر نکل گئے۔ باہر نکلتے ہوئے خاکسار نے پروفیسر سمیع اللہ قریشی کے چیرے پر عجیب سے بے بسی دیکھی تھی اور خاکسار آج تک اس بے بسی کو بھول نہ سکا ہے بلکہ جب بھی وہ دن یاد آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ جب ایک شخص کہہ رہا کہ وہ مسلمان ہے تو اسے کوئی کیسے کافر کہہ سکتا ہے؟ کیا کسی کو کسی مسلمان کو کافر کہنے کا حق حاصل ہے؟
یاد رہے کہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے اس طرح کے بے شمار واقعات پیش آچکے ہیں جن میں چند لوگوں یا گروہوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا اور حقائق کو جاننے، سمجھنے یا جانچنے کی بالکل بھی زحمت نہ کی تھی اور المیہ یہ ہے کہ اب روز ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن سے پتا چل رہا ہے ملک میں انتہاپسندی کا جن بوتل سے مکمل طور پر باہر آ چکا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس جن کو واپس بوتل میں بند کرنے کی راہ نہیں اپنا رہا ہے اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں بلکہ مالی نقصان بھی بے تحاشا ہو رہا ہے اور دین، قوم اور ملک کی رسوائی سے بات آگے بڑھ کر گرے لسٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس لسٹ میں رہنے سے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں، اس کا سوچ کر ہی بندے کو ہول اٹھنے لگتے ہیں مگر ریاست کے بزرجمہر مسلسل غفلت میں ہیں۔


