بلدیاتی انتخابات اور منتخب نمائندوں کی خلاف ورزیاں
خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا دنگل 19 دسمبر کو ہو گا جس کے لئے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے کمپین زوروں پر جاری ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جب خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تو تمام سیاسی جماعتیں جن کی سرگرمیاں گزشتہ ایک سال سے سرد مہری کا شکار تھیں تو وہ سرگرم ہو گئیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے اپنی پارٹی کا 74 واں یوم تاسیس خیبرپختونخوا میں منانے اور ایک بڑے جلسے کا فیصلہ کیا، اس جلسے سے پیپلز پارٹی نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی صرف سندھ صوبہ تک محدود ہو گئی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئی کیونکہ جلسے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے جس میں سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی کارکنان لائے گئے تھے۔
جلسے سے پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے علاوہ سندھ صوبے کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سمیت کئی وزراء اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی خطاب کیا، اپنے خطاب کے آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے پشاور میئر کے امیدوار ارباب زرک عالمگیر کو سٹیج پر کھڑا کر کے کہا کہ پشاور کے میئر کے لئے یہ پیپلز پارٹی کا امیدوار ہے انہیں اپنا ووٹ دیجئے۔ جلسے کے روز شام کے وقت الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے جلسے کے انعقاد پر پیپلز پارٹی کے 7 منتخب نمائندوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کر دیے اور گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر پشاور نے الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ، مراد علی شاہ، سعید غنی اور قادر پٹیل کو فی کس 50 ہزار روپے جرمانہ کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے پیپلز پارٹی کی مخصوص نشست پر ایم پی اے نگہت اورکزئی کو وارننگ جاری کر دی ہے اور کیس کو مزید خلاف ورزی پر کیس الیکشن کمیشن بھجوایا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے جلسے کے بعد کسی سیاسی جماعت نے کوئی بڑے جلسے کا انعقاد تو نہیں کیا البتہ صوبے کے مختلف اضلاع پر منتخب نمائندوں کی انتخابی مہم کے دوران تقاریر اور سرگرمیاں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، علی امین گنڈا پور کی انتخابی مہم کے دوران تقریر وائرل ہوئی جس میں وہ نہ صرف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ وہ تو پی ٹی آئی کے امیدوار اور اپنے بھائی کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی اور جیت بھی گیا تو صوبے میں بلدیات کے وزیر فیصل امین گنڈاپور بھی تو ان کا بھائی ہے، فنڈ تووہ جاری کریں گے لہذا کسی اور کو منتخب ہونے سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر انہیں نوٹس جاری کر دیا۔ علی امین گنڈاپور الیکشن کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے اور اس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے کو وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا۔ اسی طرح صوبائی وزیر شاہ محمد خان اور ممبر صوبائی اسمبلی ملک پختون یار خان پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 50، 50 ہزار جرمانہ عائد کیا ہے۔ حکومتی منتخب نمائندوں کے علاوہ اپوزیشن کے منتخب نمائندے بھی مسلسل الیکشن کے حوالے سے قوانین کو نظر انداز کر کے اپنے پارٹی امیدواروں کے لئے مہم چلا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کو 30 ہزار روپے جبکہ ایم پی اے ملک شیر اعظم خان وزیر کو 50 ہزار روپے جرمانہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا اور مولانا فضل الرحمان کے بھائی لطف الرحمن کو 10 ہزار روپے جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے بیٹے اور ممبر قومی اسمبلی زاہد خان درانی کو 50 ہزار روپے جرمانہ کر دیا ہے اور ان کے والد اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کو نوٹس جاری کیا جو کہ بعد میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر بنوں نے تنبیہ کر کے نمٹا دیا۔
جرمانوں اور نوٹسز کے باوجود یہ سلسلہ رکنے والا نہیں اور گزشتہ دنوں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ایک مبینہ آڈیو لیک منظر عام پر آ گئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر ووٹروں کو ترقیاتی منصوبوں کا لالچ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس تقریباً 70 کروڑ کا فنڈ موجود ہے جو وہ منتخب ہونے والے بلدیاتی کونسلر کے حلقوں میں استعمال میں لائیں گے۔ اس آڈیو پر الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے اور پیمرا کو بھی آڈیو کلپ کی فرانزک کرانے کی ہدایت کی تھی جس پر سپیکر اسد قیصر کے وکیل پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن سے پیمرا کی جانب سے آٖڈیو کی فرانزک کرانے تک وقت مانگ لیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پشاور شہر کی میئر نشست کو سب سیاسی طور پر پر سب سے اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں پر تمام سیاسی جماعتوں کی کمپین زوروں پر جاری ہے اور اس کمپین میں بھی منتخب نمائندے بھی پیش پیش ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی میئر نشست کے لئے امیدوار رضوان بنگش کے انتخابی کمپین میں کامران بنگش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے مگر الیکشن کمیشن نے ابھی تک اس کا نوٹس نہیں لیا البتہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شوکت علی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دیگر جماعتوں کے منتخب نمائندے بھی اپنے امیدواروں کے لئے سرگرم اور وہ بھی انتخابی مہم میں مختلف کارنر میٹنگ میں نظر آرہے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کی ثمر ہارون بلور کافی سرگرم نظر آ رہی تھیں جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر پشاور نے 13 دسمبر کو طلب کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے کچھ منتخب وفاقی اور صوبائی منتخب نمائندوں کے خلاف بلدیاتی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے اور کئی کے خلاف کارروائی کی مگر 17 اضلاع کی دیگر سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار الیکشن کمیشن پر الزام لگا رہے ہیں کہ منتخب نمائندے سرکاری عہدے اور سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کر کے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے لئے کھلے عام کمپین چلا رہے ہیں اور کمپین کے دوران علاقوں کے عوام کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے وعدے بھی کر رہے ہیں مگر الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرنے پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
اسی طرح بعض سیاسی پارٹیاں اور امیدوار یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے بیشتر منتخب نمائندے اپنے سوشل میڈیا کے آفیشل تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے ان کے لئے پوسٹ کر کے سوشل میڈیا پر کمپین کر رہے ہیں مگر اس کے خلاف بھی الیکشن کمیشن کارروائی سے کترا تا ہے، دیگر منتخب نمائندوں بشمول صوبائی وزراء اپنے سوشل میڈیا ویری فائیڈ اکاؤنٹس سے امیدواروں کے لئے روزانہ کے بنیاد پر پوسٹیں اور ویڈیو شیئر کر رہے ہوتے ہیں، صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے اپنے ویری فائیڈ اکاؤنٹ سے تحصیل رزڑ کے چیئرمین کے امیدوار کی کمپین کے حوالے سے ریکارڈ کرایا گیا ویڈیو پیغام شیئر کر دیا ہے جو کہ اب بھی پیج پر موجود ہے، اور تواتر کے ساتھ اس سے الیکشن کے حوالے سے پوسٹیں کی جا رہی ہیں اس پر بھی دیگر سیاسی پارٹی اور آزاد امیدوار شکایت کر رہے ہیں کہ یہ بھی الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور اس پر بھی الیکشن کمیشن کو نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنا چاہیے اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق میں سوشل میڈیا پر منتخب نمائندوں کی کمپین کے حوالے سے کارروائی کا ذکر ہے بھی کہ نہیں؟
کیونکہ ابھی تک سوشل میڈیا پر منتخب کسی بھی نمائندے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اگر سوشل میڈیا پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا ذکر نہیں تو اس کے لئے اب الیکشن کمیشن کے لئے کون سے اقدامات اٹھا نا ضروری ہیں کیونکہ اب تو کمپین چلانے کے روایتی طریقہ کار کے ساتھ سوشل میڈیا کا بھی اہم کردار ہے اور سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق منتخب نمائندوں کے آفیشل ویری فائیڈ اکاؤنٹ سے کسی امیدوار کے لئے کمپین چلا نا بھی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے تو اس کے لئے اقدامات اٹھا نا بھی ضروری ہیں۔


