جبری گمشدگیوں کا بد نما داغ!


ملک میں ماورائے عدالت لوگوں کو اٹھا کر پتہ بھی نہ چلنے دینا کہ کہاں اور کس حالت میں ہیں، ایک معمول بن چکا ہے، ہر دور اقتدار میں لا پتہ افراد کی بازیابی اور سد باب کے لئے دعوے، وعدے بہت کیے جاتے رہے ہیں، لیکن یہ معاملہ حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں اور یہ اپنے پیاروں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ مطالبہ جمہوری ہے کہ ان کے پیارے کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں کورٹ کچہری میں پیش کیا جائے، ان کی چارج شیٹ منظر عام پر لائی جائے، ان کے خلاف مقدمات کے ذریعے عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں اور اگر انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تو پھر انہیں کس جرم میں غائب کر دیا گیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جو سر اٹھائے ملک کے کرتا دھرتاؤں کے سامنے ایستادہ کھڑا ہے، مگر اس سوال کا جواب ابھی تک عوام کو ملا نہ عدالتوں کو دیا جا رہا ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ پاکستان میں پندرہ سال پہلے تک جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشوں کا معاملہ بلوچستان کی حد تک محدود تھا، بعد ازاں خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر ریاستی اہلکاروں کی طرف سے لوگوں کو اٹھا کر غائب کرنے کی شکایتیں عام ہوئیں، تاہم حالیہ برسوں میں ملک بھر سے مختلف شعبوں ست تعلق رکھنے والے درجنوں لوگ لاپتہ ہونے لگے ہیں، اس میں ایک لاپتہ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کا ہے، جس کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، مدثر نارو کی بازیابی کے لئے عدالت نے اٹارنی جنرل اور وکلا سے اس نکتہ پر معاونت طلب کی ہے کہ کیوں نہ شہریوں کے لاپتہ ہونے کی ذمہ داری ملک کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعظم) پر عائد کر کے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے، جبکہ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ لوگوں کا لاپتہ ہو جانا پاکستان پر بدنما داغ ہے، لیکن کچھ بیماریوں کا علاج عدالتی فیصلوں سے نہیں ہوتا، بلکہ عوام کرتے ہیں، اگر دس لاکھ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں تو لاپتہ ہونے کا سلسلہ رک جائے گا۔

اس میں شک نہیں کہ اٹارنی جنرل نے بات بالکل درست کہی ہے کہ دس لاکھ لوگ سڑکوں پر نکلیں تو لاپتہ ہونے کا مسئلہ حل ہو جائے گا، اس ملک میں لوگوں کو لاپتہ کرنے والوں کو روکنے کے لیے دس نہیں ایک لاکھ لوگ ہی کافی ہوں گے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سڑکوں پر کون نکلے گا؟ آخری مرتبہ تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے لوگ سڑکوں پر بذات خود نکلے تھے، اس کے بعد سے پاکستان میں لوگوں کے نکلنے اور گھر بیٹھنے کا نظام کسی اور کے ہاتھ میں آ چکا ہے، دوسرا عوام کو کسی پر اعتماد بھی نہیں رہا ہے، عوام اچھی طرح جان چکے ہیں کہ انہیں محض اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، تیسرا عوام کو روز معاش کے چکر میں اس طرح الجھا دیا گیا کہ اب سڑک پر آنا تو کجا گھر سے باہر نکلتے وقت بھی ہزار بار سوچتے ہیں کہ اس احتجاج کا ان کی بجائے اشرافیہ کو فائدہ ہو گا۔

اس وقت عوام میں احتجاج اور حق بات کے لیے کھڑے ہونے کی حس ختم ہو چکی ہے، اٹارنی جنرل اور چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ریمارکس سے عوام کو حوصلہ ضرور ملتا ہے، لیکن مسئلہ وہی ہے کہ لا پتہ افراد کے معاملے کا سدباب کرنے کے لئے دس لاکھ افراد کیسے نکلیں گے، یہاں تو ختم نبوت کے لیے لوگوں کو نکالنے اور گھر بھیجنے کا سارا نظام سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، عوام نے دیکھا ہے کہ کون سڑکوں پر نکالتا ہے اور کون لفافے دے کر واپس بھیجتا ہے، یہ جمہوری لبادہ اوڑھے حکومتی نظام، قانون کی چھتری تلے پھلتا پھولتا نظام اور ایک پیج پر چلتا نظام کسے تحفظ اور کیسے غائب کر رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل خرابی یہی ہیں اور یہی لوگ اپنی ہی شاخیں کاٹنے میں لگے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس بار لا پتہ افراد میں ایک طاقتور صحافی کا معاملہ تھا، اس لیے جبری گمشدگیوں کا اتنا شور مچا ہوا ہے، ورنہ اس سے پہلے بھی بہت سے صحافی لاپتا ہوئے اور واپس آئے یا لاشیں ملیں، اتنا شور نہیں مچایا گیا تھا، اس شور کا کوئی طاقتور مرکز بھی ہو سکتا ہے کہ جس کے اشارے پر سب کچھ کیا جا رہا ہے، تا ہم اگر اس شور شرابے میں عدالت عظمیٰ ہی کوئی ایسا فیصلہ کر دیں کہ لوگوں کو لاپتا کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے تو پاکستان کے چہرے سے بدنما داغ دھل جائے گا، محض بیان بازیاں تو کوئی بھی کر سکتا ہے کہ ایک کروڑ افراد نکل آئیں تو ملک سدھر جائے گا، اصل کام یہ ہے کہ جس کا جو کام ہے، وہی کرے اور کوئی اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہ نکلے تو مسائل پیدا ہی نہیں ہوں گے، لاپتہ افراد کے معاملے کو عالمی دباؤ کے ڈر سے دیکھا جائے یا پاکستانی آئین و قانون کی نظر سے، ایک محب وطن پاکستانی کے دل سے سوچیں، متاثرہ خاندانوں کو مسلمان جان کر احساس کریں یا بحیثیت انسان مسئلے کا جائزہ لیں تو ہر زاویے سے ایک ہی نتیجے پہ پہنچیں گے کہ اس معاملے کا مستقل حل ہی پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔

Facebook Comments HS