سقوط ڈھاکہ، کیا کھویا کیا پایا


پاکستان کا وجود امت مسلمہ کے لئے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں، پاکستان کا مقصد حقیقی اسلامی نظریاتی سرحد ارت کو تحفظ فراہم کرنا تھا، ہمارے بزرگوں پر ہندوؤں کے ناپاک عزائم عیاں ہوچکے تھے وہ سمجھ چکے تھے کے ہندو سامراج صرف مسلمانوں کو غلام بنانے کو کوشش میں مصروف نہیں بلکہ اسلامی تشخص تک کو مٹانے کے درپے ہے (آج ہندوؤں کا کردار دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے حامی رہنماؤں کا موقف حق بجانب تھا) مسلمان رہنماؤں کی جہد مسلسل اور کاوشوں سے ملک خداداد وجود میں آ تو گیا مگر ہم اپنے اجداد کی میراث کی حفاظت نہ کرسکیں، بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح کے سانحہ ارتحال کے بعد ہمارے کسی حکمران نے کوشش نہیں کی یا موقع میسر نہیں آیا کہ وہ اس نوزائیدہ مملکت خداداد کو اپنے مقصد عظمیٰ کی طرف گامزن سکے، وقت کا پہیا گھومتا رہا سسٹم میں موجود مافیا، خودغرض بیوروکریسی اور اداروں میں موجود آمرانہ سوچ کے حامل افسران مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے اور سیاسی و عوامی قوتیں کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئیں، جس کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا، سقوط ڈھاکہ کا سانحہ کسی دو سیاسی جماعتوں یا شخصیتوں کی صرف خود غرضی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ عشروں پر محیط نا انصافیوں اور زیادتیوں کا خمیازہ تھا، یقیناً سقوط ڈھاکہ ایک عظیم المناک ناقابل تلافی سانحہ ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا اتحاد صدیوں بعد دین اسلام کی درخشندہ تعلیم اخوت و بھائی چارگی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر ہمارے حکمران اور ادارے مساوات کو قائم نہ رکھ سکیں جس کی وجہ سے یہ مثالی اتحاد انانیت، بغض کینہ پروری اور حسد کی نذر ہو گیا، سانحہ سقوط ڈھاکہ اس قدر المناک اور جگر خراش ہے کہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی زخموں کی تکلیف کو محسوس کیا جاسکتا ہے، ہر گزرتا ہوا دسمبر خون و جگر کو ملامت کرتا ہوا ندامت کے آنسو دیے گزر جاتا ہے، حقیقت حال یہ ہے کہ 16 دسمبر 1971 ء کی صبح ہم نے عزت و وقار کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ہونے کا اعزاز بھی کھو چکے ہیں،

سقوط ڈھاکہ ایک سانحہ تھا جو گزر گیا پر ایک طبقہ آج بھی اس سانحہ کی وجہ سے متاثر ہے وہ طبقہ نصف صدی سے یہ ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ سانحہ سقوط ڈھاکہ ان کی خواہشات کے برخلاف تھا (مشرق پاکستان میں موجود ایک بہت بڑا طبقہ مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے سپورٹر اور ہمدردوں پر مشتمل تھا جو عوامی لیگ کے نظریات و افکار کے ناصرف مخالف تھا بلکہ دو قومی نظریہ نظریہ پاکستان کے زبردست حامی تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ عوامی لیگ کے تمام ووٹر پاکستان مخالف نہیں تھے بلکہ ان میں سے اکثر کا بیانیہ تھا کہ ہم نے شیخ مجیب کو وزیراعظم پاکستان بننے کے لئے ووٹ دیا تھا ملک دولخت کرنے کے لئے نہیں ) یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے پاکستان سے والہانہ محبت کی اور پاکستان ہی کو اپنا ایمان کا حصہ قرار دیا، یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے پاکستان کی محبت میں اپنے رشتہ داروں اپنے ہمسایوں، اپنے ہم زبان لوگوں کی ناراضگی کا پرواہ کیے بغیر پرخطر حالات کے باوجود پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرہ بلند کیے ، یہ وہ طبقہ ہے جو کو ملا، جاشور، سلہٹ ڈھاکہ، کھلنا، بیسال، راج شاہی سمیت مشرق پاکستان میں موجود ہر ایک فوجی چھاؤنی میں پاک فوج کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے تحفظ کے لئے ہراول دستے کردار ادا کیں، تاریخ کے اوراق میں ان مجاہدین کو رضاکار، الشمس اور البدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے حب الوطنی کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی، دشمنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا ان سے لڑنا بہت آسان ہے مگر وطن کی محبت میں اپنوں کے خلاف صف آراء ہونا مشکل ترین جنگ ہے جو جنگ مشرق پاکستان کے بنگالی مسلمانوں نے لڑی، (میں نے درجنوں ایسے غازیوں سے ملاقات کی جو 1971 ء کے جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑ چکے ہیں مکتی باہنی کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں پاکستان کی محبت میں اسیری کے مشقت بھرے لمحات گزار چکے ہیں میں نے ان سے پوچھا وہ کون سی قوت تھی جس کی بنا پر آپ نے اپنوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا جس کے لئے لازوال قربانیاں دیں اس عظیم مملکت اسلامیہ کو محض نظام سے مایوس ہو کر حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر کیسے دولخت ہونے دے سکتے تھے ) جس کی پاداش میں ان مسلمانوں پر باوجود وسعت کے مشرق پاکستان کی زمین تنگ کردی گئی ان کے مال و املاک کو نذر آتش کر دیا گیا بے دریغ قتل عام کیا گیا مؤرخین لکھے ہیں ہے صورتحال ایسی وحشت ناک تھی کہ زیر قلم لانا مشکل ہے شیطانیت کا ایسے دور دورہ تھا ایسی وحشت کا عالم تھا کہ خونی رشتہ دار ان وطن پرست مجاہدوں کو پناہ دینے سے گریزاں تھے المیہ یہ تھا کہ جو جہاں ملتا جنونیت سے لبریز عوامی لیگ کے غنڈے انہیں وہی قتل کر دیتے، نوے ہزار اہلکاروں کو تو بھٹو صاحب مرحوم لے آئے مگر ان نوے ہزار اہلکاروں کے ساتھ ڈٹے ہوئے پاکستان کے رضاکار فورس، الشمس فورس اور البدر فورس اور ان کے خاندانوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، وہ صرف مہاجر کیمپوں میں موجود بہاری نہیں بلکہ اس سے کئی زیادہ تعداد میں بنگالی مسلمان تھے جو وہاں رہ گئے جنہوں نے مختلف طریقوں سے بمشکل صرف اپنے جانوں کے ساتھ پاکستان کی جانب ہجرت کی یا جن کے خاندان مغرب پاکستان میں پہلے سے موجود تھے وہ شہری عوامی لیگ کے نظر میں غدار ٹھہرے ان کی زمین جائیداد سب ضبط کرلی گئے، جو بطور مجبوری سفر کی سکت نہیں رکھتے یا اثر و رسوخ کی وجہ سے چند سال روپوش ہو کر واپس اپنے علاقوں میں چلے گئے عوامی لیگ کی قیادت انہیں تک کو نہیں بخشا، نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستان سے محبت کرنے والوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، آج بھی نحیف کمزور اور بوڑھے بزرگوں کو تاحیات اسیری کی سزا سنا رہے ہے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں پھانسیاں دے رہے ہیں میں قربان جاؤں ان عظیم مجاہدوں پر جو تختہ دار میں کھڑے ہو کر بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہے،

وہ طبقہ آج بھی پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے میں مجبور ہیں دنیا چاند سے آگے ستاروں کی جانب سرگرداں ہیں اور یہ طبقہ سانحہ سقوط ڈھاکہ کے نصف صدی بعد بھی شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیا اس طبقے کا کوئی پرسان حال بھی ہے؟ یقیناً یہ مقام فکر ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔

Facebook Comments HS