کام اور ذاتی زندگی میں توازن کیوں ضروری ہے
ایک خوشگوار صحتمند متوازن ذاتی زندگی اور کام کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کام اور ذاتی زندگی کو پچاس پچاس فیصد کے دو حصوں میں بانٹ دیں اور بس، بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہفتے کے کچھ دن زیادہ کام کر لیں اور باقی دنوں میں اپنی ذاتی زندگی کے دیگر مشاغل کے لئے وقت نکال کر ان سے لطف اندوز ہو سکیں، یعنی ایک لچکدار منصوبہ بندی کی جانے کی ضرورت ہے جو آپ کو ذاتی زندگی اور کام کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکے۔
متوازن کام اور ذاتی زندگی کے کچھ اور بھی عوامل ہیں جو انسان کی نفسیات، صحت اور سماجی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ یعنی کام اور ذاتی زندگی دونوں جگہ طمانیت اور قلبی سکون کا احساس ہونا نہایت ضروری ہے، جن کا حصول مسلسل کاوش اور پختہ لگن کے بغیر ممکن نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ایک صحتمند و کا ر آمد توازن برائے کام و ذاتی زندگی کچھ اس طرح ہو:
کام کی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے پاس اتنا وقت ہونا چاہیے کہ کچھ وقت اہل خانہ کے ساتھ گزار سکیں، کچھ دیر اپنے دوستوں سے ملاقات کر سکیں اور ساتھ ساتھ اپنے ذاتی مشاغل سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔ تاکہ زندگی کی خوبصورتی اور چاہت برقرار رہے، اور زندگی یکسانیت و اداسی کا شکار نہ ہو جائے۔
بھرپور نیند بھی ہر انسان کے لئے نہایت ہی ضروری ہے، لہذا یہ بہت ہی اہم ہے کہ آپ پوری نیند لے رہے ہوں، نیند کی کمی بہت سی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں اور کمزوریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ساتھ ساتھ آپ متوازن اور خوراک بھی لے رہے ہوں یعنی کھانے پینے سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوں۔
جب آپ دفتر سے باہر یا گھر پر ہوں تو سر پر کام کا بوجھ یا فکر سوار نہ ہو۔ بلکہ جب آپ گھر پر ہوں تو دفتر یاد نہ آئے اور جب آپ دفتر میں ہوں تو گھر کی فکر نہ ستائے۔
بلاشبہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے، کیونکہ آپ کا سابقہ ایک ایسے باس سے بھی پڑ سکتا ہے جو کسی بھی وقت آپ کو کال کر سکتا ہے۔ یا آپ کی دفتری ذمہ داریاں بھی اس نوعیت کی ہو سکتی ہیں جن کی فکریں دفتر چھوڑ دینے کے بعد بھی آپ کو گھیرے رکھیں۔ یا پھر صحت کے مسائل آپ کے توازن کو غیر متوازن کردینے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بلاشبہ اس طرح کا مثالی توازن قائم رکھنا بہت مشکل ہو سکتا ہے مگر ناممکن نہیں ہے، اس کی عملی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں جو ذرا سی تحقیق سے مشاہدے میں آ سکتی ہیں۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ کام لوگوں کی زندگی میں اولین ترجیح بن جاتا ہے، اکثر ارادتاً اور کبھی کبھی غیر ارادی طور پر بھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کام کو باقی سب امور زندگی پر ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔
عموماً لوگوں کی پیشہ ورانہ ترقی کرنے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ باقی زندگی کے تمام معاملات پر حاوی ہو کر ان کو ترجیحات میں ثانوی حیثیت میں لا رکھتی ہے، جس کی وجہ سے صحت، خانگی تعلقات اور سماجی معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جن کے مضمرات خوشیوں اور ذہنی سکون سے محرومی کی شکل میں نکلتے ہیں۔ کام اور زندگی کا بہترین توازن اور ہم آہنگی ہر لحاظ سے نہایت ہی اہم اور ضروری ہے، یہ نہ صرف زندگی کے لئے بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔
یہ بلاشبہ لوگوں کی جسمانی، جذباتی اور ذہنی صحت و تندرستی کے لئے بھی بہت ہی ضروری ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک شخص جو کام اور ذاتی زندگی کے تقاضوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ ان دونوں کا توازن برقرار رہے۔ مگر کچھ عمومی وجوہات ایسی بھی ہیں جو ذاتی زندگی اور کام کے توازن کو خراب کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ جیسے کام کی زیادتی یا بہت زیادہ ذمہ داریاں، جس کی وجہ سے دیر تک دفتر یا فیکٹری میں کام کرنا، اسی طرح بہت زیادہ گھریلو ذمہ داریاں، یا پھر کثیر العیال ہونا بھی کام اور ذاتی زندگی کے توازن کو بگاڑنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
جبکہ دوسری جانب متوازن ہونے کے ممکنہ فوائد اور اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ کم سے کم ذہنی دباؤ، عمدہ صحت اور زندگی کا سہل و خوشگوار ہو جانے کا احساس۔ جس کا فائدہ جتنا ملازم کو ہو گا اتنا ہی ادارہ یا مالک کو بھی ہو گا۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جو آجر یا ادارے اپنے ملازمین کو کام اور ذاتی زندگی کو متوازن رکھنے کا موقع و ماحول فراہم کرتے ہیں وہ اس کا فائدہ مستقل، وفادار اور کارآمد افرادی قوت کی شکل میں پاتے ہیں ساتھ ساتھ ایسے اداروں میں غیر حاضری کی شرح بھی انتہائی کم دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح اور بہت سے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں جو ادارے کی ترقی و ترویج میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ایسا ہونا ذرا مشکل بھی ہو سکتا ہے کہ کامل ذاتی زندگی اور کام کا متوازن جدول فوری تیار ہو سکے یعنی لائحہ عمل کا لچکدار ہونا خاص اہمیت کا حامل ہے، معاملات کام و ذاتی زندگی کا احسن طریقے سے اہتمام و انتظام کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس لئے شاہکار لائحہ عمل کے لئے ہلکان ہونے کی یا بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے لچکدار رکھ کر ہی بہترین فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جیسے کبھی کام زیادہ ہے تو وہ مکمل کر لیا اور کبھی ذاتی زندگی کے دوسرے معاملات جیسے تفریح کے لئے جانا، یا احباب سے ملنا ملانا، یا کسی اور مشغلے کے لئے وقت نکال لیا۔ اس ضمن میں اگر ایسا کام مل جائے جسے آپ پسند کرتے ہیں تو یہ توازن اور بہت خوش اسلوبی سے بنایا جا سکتا ہے۔ تو کوشش کریں کے آپ کو آپ کی مرضی کا کام مل جائے۔
صحت کو ہمیشہ ہی خاص ترجیح دیں، آپ کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صحت سب سے اہم ہے اور صحت آپ کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ جسمانی اور نفسیاتی طور پر صحت مند ہوں گے تو نہ صرف آپ کام کے دوران ذمہ داریاں عمدگی سے سرانجام دے سکیں گے بلکہ ذاتی زندگی سے بھی بھرپور لطف اندوز ہو سکیں گے۔
کچھ دیر کے لئے دنیا سے کٹ جانے سے نہ ڈریں یہ آپ کو دوبارہ سے توانا کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے، کبھی کبھی کوئی کتاب لے کر تنہا بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دیں، یا اکیلے قریبی سفر پر نکل جائیں لمبی چہل قدمی کریں، اپنے کمرے میں اپنا پسندیدہ میوزک سنیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چھٹیاں بھی پلان کریں، موقع نکال کر پہاڑوں یا پرفضا مقامات کی سیر کو جائیں، تفریح کریں قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوں، ساحل سمندر پر جائیں، باقی سارے معاملات کو وہیں چھوڑ کر جائیں جہاں وہ تھے۔
اپنے لئے اور اپنے گھرانے کے لئے ضرور وقت نکالیں، اور باقاعدگی سے اس بات کا اہتمام کریں کہ آپ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزار سکیں۔ بہت ضروری ہے کہ آپ سب مل کر بیٹھیں، باتیں کریں، ایک دوسرے کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر گفتگو کریں، تفریح یا باہر کھانے پینے کے پروگرام بنائیں، یا کچھ گھریلو مشاغل اپنائیں جو سب کے پسندیدہ ہوں۔ کام اور ذاتی زندگی کے درمیان حدود مقرر کر لیں اور اس بات کا علم آپ کے ساتھی کارکنوں اور افسران کو بھی ہونا چاہیے کہ جب آپ کام ختم کر کے گھر کے لئے نکل گئے ہیں تو اب نئے کام، یا کام کی فکریں کام کی جگہ پر ہی چھوڑ کر جا رہے ہیں، کام سے متعلق تمام فکریں آپ اپنے گھر لے کر نہیں جائیں گے نہ گھر پر بیٹھ کر ان کے متعلق سوچتے رہیں گے۔
اور بالکل اسی طرح گھر کے فکر و پریشانی کو دفتر لے کر نہیں جائیں گے۔ نہ ہی خانگی مسائل کو اپنی دفتری کارکردگی کی خرابی کا سبب بننے دیں گے۔ اپنے وقت کا بہت احتیاط سے مشاہدہ کریں اور اس بات کا ضرور اہتمام کریں کہ وقت کو بہترین درجوں میں تقسیم کر کے استعمال کر سکیں، اس عمل کے بہترین نتائج مسلسل مشق اور تجربہ سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، ساتھ ساتھ ترجیحات کا صحیح ادراک اور ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جانا بھی ضروری ہے اب نہایت ہی احتیاط سے ان کی درجہ بندی کر لیں جو وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے اطوار میں شامل ہوتی چلی جائے گی۔ اب ہم امید کر سکتے ہیں کہ آپ ایک متوازن کام اور ذاتی زندگی گزار نے کی راہ پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں۔


