کورونا وائرس: ایک وبا اور سو افسانے


دسمبر میں کورونا وبا کو شروع ہوئے دو برس مکمل ہو گئے۔ ان دو سالوں میں جہاں اس وائرس نے ہمیں نفسیاتی اور معاشی طور پر تھکا دیا وہیں وبا کا مقابلہ کرنے والوں نے محنت کے نئے باب بھی رقم کیے ۔ ایک ایسا وائرس جس کا دو برس پہلے دنیا کو علم بھی نہ تھا، اس کی ویکسین ایک برس میں ہی بنا ڈالی۔ نو دسمبر کے دن اس ویکسین کے عام استعمال کو شروع ہوئے بھی ایک سال مکمل ہو گیا۔

ویکسین کے ساتھ ساتھ دواؤں کی تیاری بھی جاری ہے کہ حتمی طور پر وبا کا اختتام ایک موثر اور عمومی طور پر دستیاب دوا کے بغیر ممکن نہیں۔ تحقیق کی دوڑ میں نئی ترین چیز ایک ایسی ویکسین ہے، جو سانس کے ذریعہ بھی دی جا سکے گی اور انجکشن کے لوازمات سے آزاد ہو گی۔ لیبارٹری میں یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوئی اور دسمبر کے مہینہ سے اس کی انسانوں میں جانچ کا عمل شروع ہو رہا ہے۔

لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بہت سے لوگ آج بھی وائرس کے وجود سے انکاری ہیں اور ویکسین کی افادیت سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں ویکسین اگر موثر چیز ہے تو اس سے بیماری ہونی ہی نہیں چاہیے۔ یہ کیا کہ ویکسین لگوانے کے باوجود کئی ممالک میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ویکسین کے باوجود ہونے والی یہ بیماری ان کے لئے ”دال میں کچھ کالا“ کی حیثیت رکھتی ہے حالاں کہ اصل میں تو وہ ”دال“ یعنی وائرس کے وجود سے بھی منکر ہیں۔

سائنسی تحقیق کو لوگوں تک پہنچانے والوں نے بارہا یہ بتایا کہ یہ دعویٰ تو کبھی کیا ہی نہیں گیا کہ ویکسین لگوانے کے بعد بیماری نہیں ہو گی۔ یہ ضرور کہا گیا کہ شدید بیماری نہیں ہو گی، ہسپتال جانا نہیں پڑے گا، موت کے منہ سے بچ نکلنے کے امکانات زیادہ ہو جائیں گے۔ وہ ممالک جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران بیماری کی شرح زیادہ لیکن ویکسین کافی مقدار میں لگ چکی ہے، ان کے ہاں اموات کی قلیل تعداد سے یہ بات سچ ثابت بھی ہوئی۔ لیکن لوگوں کی ایک تعداد اس حقیقت کو نہیں مانتی۔

انہیں جس حتمی لہجہ اور قطعیت والی زبان میں معلومات چاہئیں، وہ زبان ایک تیزی سے بدلتی عالمی وبا کے دوران ممکن نہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والے وائرس ”اومیکرون“ کو ہی لے لیجیے۔ اس طرح کی نئی قسم لیبارٹری میں شناخت سے پہلے ہی لوگوں میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔ کتنے عرصہ سے؟ حتمی جواب کسی کو بھی معلوم نہیں۔ شناخت ہو چکنے کے بعد والے دنوں میں بھی یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ نئی قسم پہلے وائرس کے مقابلہ میں کس رفتار سے پھیلتی ہے، لیکن یہ کتنی خطرناک اور شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے، اس کا علم بھی اگلے کچھ ہفتوں میں جا کر ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی معلومات دیتے ہوئے ذمہ داری دکھانا اور سوچ سمجھ سے کام لینا لازمی ہے۔ مگر عجلت پسند لوگ اس کی اجازت نہیں دیتے۔

اردو کے محترم لکھاری، ”ایک محبت سو افسانے“ کے خالق مرحوم اشفاق احمد اس کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر چکے ہیں۔ اٹلی میں گزرے دنوں کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ میں یونیورسٹی کے سٹاف روم میں بیٹھا تھا۔ میرے ساتھ فزکس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور فارسی شعبہ کے نگران بھی تھے کہ ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ یونیورسٹی کی لائبریرین تھی، نوجوان اور خوبصورت تھی اور ہر ایک کی اس میں جان تھی۔ اپنے جوتے کی نوکیلی ایڑی فرش پر ٹک ٹک کرتی وہ سیدھی میری طرف ہی چلی آئی۔

قریب رک کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔ ”پروفیسر! میں نے سنا ہے کہ تمہارے ملک میں لوگ ماورائی مخلوق یعنی جنوں، چڑیلوں اور پریوں پر بہت یقین رکھتے ہیں۔ اور اپنے پیسوں کی حفاظت کے لئے سانپ اور دیگر حشرات کو مامور کرتے ہیں۔ اور اگر یہ سچ ہے تو کیا تم بھی ایسے ہی ہو؟ کیا تم بھی کیلوں والے بستر پر سوتے ہو کہ تمہارے جادوئی معمولات مکمل ہو سکیں؟“

کہتے ہیں کہ میں تو جل کر کباب ہو گیا کہ یہ اتنی خوبصورت لڑکی ایک تو میرے ملک کے وجود سے واقف نہیں، دوسرا ہمارے بارے میں اتنے تضحیک آمیز خیالات رکھتی ہے۔ غیرت میں آ کر میں نے کہا۔ ”سینوریتا! یہ سب جھوٹ، لغو اور بکواس ہے۔ میرا ملک تو پڑھے لکھے لوگوں کا ملک ہے۔ اس میں تمام لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ انڈیا سے ہمارا ملک حال ہی میں الگ ضرور ہوا ہے لیکن ہم انڈیا سے بہت دور ہیں۔ ہم تو افغانستان سے قریب ہیں۔ اور ہم جنوں، بھوتوں اور پریوں پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتے۔

میری طرف دیکھو! میرے ابا ایک ڈاکٹر ہیں، میرے چھ بھائی بہنیں ہیں، ہم میں سے ہر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، اور ہمارا پورا ملک ایسا ہی ہے۔ یہ جو باتیں تم نے سنی ہیں، فقط مغرب والوں کی اپنے آپ کو بڑا اور مشرق کو نیچا دکھانے کی ایک کوشش ہیں، اور کچھ بھی نہیں۔“ اشفاق صاحب کے بقول ان میں شاید ایک بات بھی سچ نہ تھی لیکن اس وقت غیرت سچائی پر حاوی آ چکی تھی۔

خاتون تو اس بات پر کہ میں نے اس کی کتنی بڑی غلط فہمی درست کر دی، شکر گزار ہو کر چلی گئی مگر اس کے جاتے ہی فزکس کے پروفیسر کہنے لگے۔ ”تم نے خوب طبیعت صاف کی، میں تو امپریس ہو گیا۔ صرف ایسا شخص جسے روحانی طور پر کچھ طاقت میسر ہو جیسا کہ کشف وغیرہ، وہی اس خوبی سے یہ بات جھٹلا سکتا تھا۔ اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے سٹاف میں ایک ایسا شخص بھی ہے، جو صاحب کشف ہے۔ “ اشفاق صاحب کے بقول میں یہ سمجھا کہ میرا تمسخر اڑایا جا رہا ہے لہذا میں نے جھلا کر ان سے کہا۔

”جناب، کیا آپ جنوں، بھوتوں آسیب زدہ گھروں وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں؟“ تو وہ کہنے لگے۔ ”نہیں! لیکن میں ایک سائنس کا طالبعلم ہوں۔ میں اتنی تیزی سے اور اچھے طریقے سے جھٹلا نہیں سکتا تھا جیسا کہ تم نے کیا“ میں نے پوچھا ”کیا آپ کی سائنس جن بھوت اور آسیب پر یقین کرتی ہے؟“ کہنے لگے ”نہیں! لیکن سائنس میں ہمیں اعتماد سے کوئی بات کرنے کے لئے اسے تجربہ سے گزارنا پڑتا ہے۔ مفروضے بنانے پڑتے ہیں، ڈیٹا اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کرنا پڑتا ہے، پھر دیکھتے ہیں کہ مفروضہ ( ہائیپوتھیسس) ثابت ہوا یا ناکام ہو گیا۔ آپ نے اتنی خوبصورتی سے، بغیر یہ سب کچھ کیے ، اپنی بات کہہ دی“ ۔

اشفاق صاحب نے تو اپنا کمال دکھاتے ہوئے اس سینوریتا کی غلط فہمی کو چٹکی میں اڑا دیا لیکن ویسا کشف اور کمال سائنس کے ماہرین کو میسر نہیں۔ سائنس والوں کو تو جب تک حتمی بات معلوم نہیں، تب تک اس کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز ہے۔ اور اگر اظہار کرنا بھی پڑے تو ساتھ یہ جملہ ضرور بولنا پڑتا ہے کہ ”اب تک کی معلومات کے مطابق جو ہمیں علم ہے، وہ ہم آپ کو بتا رہے ہیں۔ مزید تحقیق جاری ہے“ ۔ وبا کے دنیا بھر میں پھیلاؤ اور اس میں سرعت سے ہونے والی تبدیلی کے پیش نظر سائنس والوں کو کو محتاط لائحہ عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔

جبکہ ان کے مقابلہ میں سنسنی پھیلانے والے یا ان جانے میں سنسنی خیز خبر کو اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے بغیر کسی فکری روک ٹوک کے، جو منہ میں آئے کہہ ڈالتے ہیں۔ اور جو ان کے فون یا کمپیوٹر پر آ جائے، اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ بغیر سوچے کہ یہ وبا تمام دنیا میں موجود انسانوں کی صحت اور بیماری، زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اس وبا میں اگر وائرس سے احتیاط لازم ہے تو اس کے بارے میں غیر مصدقہ باتیں پھیلانے سے بھی۔ احتیاط زندگی ہے!

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 11 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments