بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز قسط نمبر 2

تل ابیب: اسرائیل کا دارالحکومت
اسرائیل کا دوسرا بڑا شہر تل ابیب ہے۔ اس کی آبادی قریباً پانچ لاکھ ہے۔ یہ شہر اسرائیل کی مغربی سرحد پر بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ اسے اسرائیل کا معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی کیپیٹل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ عالمی مالیاتی انڈیکس میں یہ شہر 25 ویں نمبر پر ہے۔ اس شہر میں واقع یونیورسٹی میں تیس ہزار سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ غیرملکی سفارت خانے بھی اسی شہر میں موجود ہیں۔
حائفہ: جس کی فتح میں ہندوستانی فوجیوں نے ایک اہم کردار ادا کیا
اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر حائفہ (Haifa) ہے جس کی آبادی تین لاکھ کے قریب ہے۔ یہ تقریباً تین ہزار سال پرانا شہر ہے۔ یہ اسرائیل کی ایک بندر گاہ ہے جو بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ تل ابیب کے شمال میں 90 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ شہر اسرائیل کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جنگ عظیم اول کے دوران فلسطین میں ترکوں اور انگریزوں کی ایک جنگ حائفہ کے مقام پر بھی ہوئی۔ اس جنگ میں انگریزوں کی فتح ہوئی۔ اس چھوٹی سی جنگ کی ایک دلچسپ کہانی بھی ہے جس کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ اس ذکر کرنا بھی مناسب ہو گا۔
حائفہ اسرائیل کے شمال میں بحیرہ روم کے ساحل پر ایک قدیم بندرگاہ ہے۔ یہ پہاڑ کی ڈھلوان پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے۔ تاریخ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دو ہزار سال قبل بھی یہ بندرگاہ زیر استعمال تھی۔ ترکوں کے نزدیک بھی ایک اہم شہر تھا۔ وہ اس کی حفاظت کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے۔
پھر 1918 میں یہ شہر انگریزوں نے اپنے وفادار ہندوستانی فوجیوں کی مدد سے ایک خونریز لڑائی کے بعد قبضہ میں لے لیا۔ اس جنگ میں چالیس سے زائد ہندوستانی فوجی مارے گئے۔ ان کی قبریں بھی اسی شہر میں ہیں۔ اس جنگ کی یاد میں انگریزوں نے دہلی کے تین مورتی چوک میں تین ہندوستانی فوجیوں کے مجسمے بھی بنا رکھے ہیں۔ نیتن یاہو بھی اس مقام پر آیا اور اس کی فرمائش پر اب اس چوک کا نام حائفہ تین مورتی چوک ہے۔
یاد رہے یہ اسی دور کا مجسمہ ہے جب ہندوستان میں مسلمان خلافت بچاؤ تحریک چلا رہے تھے۔ ایک طرف ہم خلافت کے حق میں تھے اور دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی لوگ ( جن میں ہندو، مسلمان اور سکھ سبھی شامل تھے ) انگریزوں کی خاطر وطن سے ہزاروں میل دور دیار غیر میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔
شہر پر قبضے کی یاد میں ہر سال 23 ستمبر کو یوم حائفہ منایا جاتا ہے۔ مودی جب اسرائیل گیا تو وہ بھی ان انگریزوں کے وفادار فوجیوں کی یاد میں بنائی گئی یادگار پر گیا تھا۔
فلسطین کے چند اہم شہروں کا تذکرہ بھی آپ کو فلسطین کی تاریخ سمجھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ یاد رہے کہ فلسطین دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک کو ویسٹ بنک کا نام دیا گیا ہے اور دوسرے کو غزہ کی پٹی کہا جاتا ہے۔
خان یونس
خان یونس غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ایک طویل عرصے سے پناہ گزین کیمپ موجود ہے۔
الخلیل: یہودیوں کی نئی بستیاں
الخلیل جسے ہیبرون بھی کہا جاتا ہے جنوب مغربی کنارے پر واقع ایک ایسا شہر ہے جس کے ایک حصہ پر یہودیوں نے اپنی بستی بسا رکھی ہے۔ یہ یروشلم سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں تین ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ غزہ کے بعد فلسطینی علاقوں کا یہ دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی اڑھائی لاکھ کے قریب ہے۔ اس شہر کے قرب و جوار میں کئی تاریخی اور مقدس مقامات بھی موجود ہیں، جن میں ایک غار بھی شامل ہے۔ یہ یہودیوں کے نزدیک یروشلم کے بعد دوسرا مقدس شہر ہے۔ اس شہر کا کنٹرول بھی فلسطین اور اسرائیل دونوں کے پاس ہے۔ اس لحاظ سے یہ شہر انتظامی معاملات میں دو حصوں میں تقسیم ہے۔
نابلس: فلسطین کا ایک تجارتی شہر
نابلس شمالی مغربی کنارے کا ایک شہر ہے جو یروشلم کے شمال میں تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس کی مجموعی آبادی سوا لاکھ سے زائد ہے اور یہ فلسطین کا تجارتی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں پر کئی اہم تعلیمی مراکز بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی آبادکاری کی تاریخ رومیوں کے دور تک جاتی ہے۔
غزہ کی پٹی: ایک خودمختار فلسطینی علاقہ
یہ بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر ایک علاقہ ہے جس کے جنوب مغرب میں مصر واقع ہے اور اس کے ساتھ اس کی سرحد کی لمبائی 11 کلومیٹر ہے۔ مصر سے متصل علاقے میں فلسطین کا شہر رافعہ واقع ہے جبکہ اس کی مشرقی اور شمالی سرحد اسرائیل سے لگتی ہے جو 51 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ یاد رہے جو دو علاقے فلسطین کے کنٹرول میں ہیں ( یعنی ویسٹ بنک مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی) ان دونوں کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی پر حماس کا کنٹرول ہے۔
غزہ کی پٹی کی لمبائی 41 کلو میٹر جبکہ چوڑائی چھ سے بارہ کلومیٹر ہے۔ اس کا کل رقبہ 365 مربع کلومیٹر ہے۔ اس جگہ پر بیس لاکھ کے قریب فلسطینی آباد ہیں۔ یہ دنیا کا تیسرا گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ ایک طرح سے یہ تمام علاقہ اسرائیل کے محاصرے میں ہے۔
مصر کی طرف سے سرحد بند ہے اور اسرائیل بھی انہیں یہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ یوں ایک طرح سے یہ علاقہ ایک بڑی جیل کا منظر پیش کرتا ہے جس میں بیس لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔
مصری سرحدوں کی بندش اور اسرائیلی سمندری اور ہوائی ناکہ بندی کی وجہ سے کوئی بھی اس علاقے میں آنے جانے کے لیے آزاد نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کے لوگ آزادانہ طور پر سامان درآمد یا برآمد کر سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ ترک شہریوں کی طرف سے امدادی سامان لے کر یہاں پر ایک بحری جہاز بھی آیا جس پر اسرائیل نے حملہ کر دیا تھا۔ اسے فورٹیلہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ 2010 کا واقعہ ہے۔ اور اس حملہ کے نتیجے میں نو کارکنان بھی ہلاک ہوئے۔
تاریخ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ عثمانی سلطنت کے دور میں غزہ اس کا ایک اہم حصہ تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد یہ علاقہ انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ عربوں اور اسرائیل کی پہلی جنگ (جو 1948 میں ہوئی تھی) کے نتیجہ میں 1967 تک مصر اس علاقے پر قابض رہا۔ 1967 تک غزہ کی پٹی ایک مصری فوجی گورنر کے زیر انتظام تھی۔ بعد ازاں اس پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ پھر ایک وقت آیا جب 1993 میں اوسلو معاہدے کے تحت اس علاقے کو محدود خودمختاری دے دی گئی۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا براہ راست بیرونی کنٹرول اور غزہ کی اندرونی زندگی پر بالواسطہ کنٹرول برقرار ہے۔ اسرائیل کو غزہ کی فضائی، سمندری اور سات زمینی گزرگاہوں کا مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ اسرائیل کی فوج دفاع کے نام پر کسی وقت بھی غزہ میں داخل ہو سکتی ہے۔ غزہ کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات جیسے پانی، بجلی، ٹیلی مواصلات اور دیگر سہولیات پوری کرنے کے لیے اسرائیل کے مرہون منت ہیں۔
رفع : مصر اور غزہ کی پٹی کا ایک سرحدی شہر
رفع شہر غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ غزہ شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ہے۔ اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ فلسطینی مہاجر ہیں۔ اس علاقے سے اسرائیل کے اعلان دستبرداری کے بعد اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جن میں سے ایک حصہ فلسطین کے پاس اور دوسرا مصر کے پاس ہے۔ اس طرح کئی خاندان بھی تقسیم ہو گئے۔ فلسطین کے لوگ یہیں سے مصر آتے جاتے ہیں۔ اسے رفع بارڈر کراسنگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں پر یاسر عرفات بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تھا جسے اسرائیل نے تباہ کر دیا۔ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے وقت بفر زون بنانے کے لیے شہر کے ایک وسیع علاقے کو بھی خالی کروایا گیا۔
مغربی کنارہ: فلسطین کا ایک حصہ
1948 کی عرب اسرائیل جنگ میں اردن نے دریائے اردن کے ”مغربی کنارے“ پر قبضہ کیا اور اس کا نام ویسٹ بنک یا مغربی کنار1رکھا گیا۔ اب اسے ہم اردو میں بھی ویسٹ بنک کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ یہ علاقہ 1967 تک اردن کے قبضہ میں رہا۔ پھر وقت بدلا اور 1967 میں ہونے والی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ آخر کار اوسلو معاہدے کے تحت یہ علاقے فلسطین کے کنٹرول میں آ گئے۔

