جمعیت کو بیدار رہنا ہوگا!
یوم تاسیس، یوم تجدید عہد ہوتا ہے۔ تحریکات اور تنظیمات کو یہ دیکھنا لازمی ہوتا ہے کہ اس کی قیام کا مقصد کیا ہے اور مقاصد کے حصول میں کہاں تک کامیاب ٹھہری ہیں؟
کیا وہ صراط مستقیم پر حکمت واستقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں یا حالات کے سامنے سرنگوں ہوچلی ہیں؟
جن حضرات نے طلبہ کی اس تنظیم کو قریب سے نہیں دیکھا وہ اسے "سیاسی بچوں” کا ایک سیاسی جھتہ سمجھتے ہیں جو تعلیمی اداروں کو سیاسی اکھاڑوں میں تبدیل کرانے کے خواں ہیں مگر۔۔
جن لوگوں نےاس تنظیم کو قریب سے دیکھا ہےاور خوب پرکھاہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ
یہ کوئی لاابالی بچوں کی کوئی علاقائی، نسلی، گروہی اور مروجہ سیاسی جھتہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی، فکری، علمی اور بامقصد تنظیم ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی، فعال، منظم اور ملک گیر طلبہ تنظیم ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ!
مطالعہ قران، مطالعہ حدیث، مطالعہ لٹریچر، شب بیداریوں ، قیام الیل اورتربیت گاہوں کے زریعے تزکیہ نفس کراتی ہے اور سیرت وکردار کی تعمیر۔
مزاکروں، مباحثوں، سٹڈی سرکلز، گروپ ڈسکشنز،اور تقاریر کے زریعے بولنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
پروگرامات کے انعقاد ،انتظامات اور زمہ داریوں کی ادائیگی کے زریعے منیجمنٹ سکلز دیتی ہے اور قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرتی ہے۔
قوم وملی ایشوز کو اٹھانے اور طلبہ کے مسائل حل کرانے کے زریعے اجتماعی جدوجہد کا خوگر بناتی ہے
جمعیت دراصل ایک اکیڈمی ہے جہاں ایسی قیادت کی تیاری مقصود ہے جونہ صرف قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال ہو بلکہ اخلاق و کردار کا بھی پیکر ہو۔ ادارہ کوئی بھی ہو، خاندان کا ہو، تعلیمی ہو، فلاحی و رفاحی ہو، عدلیہ کا ہو، مقننہ کا ہو، انتظامیہ کا ہو، سول ہو یا ملٹری اور یا کاروباری، مجموعی طور پر پورے معاشرے میں ایسی قیادت کے نمونے نمایاں صورت میں موجود ہیں۔
اسی بناء یہ تنظیم، فی الحقیقت قوم کا اثاثہ اور ملت کا سرمایہ ہے۔
اس طلبہ تنظیم نے نہ صرف لاکھوں طلبہ کو مقصد زندگی سے آشنا کیابلکہ ایک بڑی تعداد کو گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر زندگی کے افق پہ چمکایا۔ ان کی صلاحیتوں کو ابھارا، نکھارا اور بڑھایا۔
ہر شعبہ زندگی میں اس چشمہ صافی سے فیض یاب باشعور، پاکباز، دیانت دار، فرض شناس اور محب وطن افراد اپنی اہلیت، کردار اور کارکردگی کے لحاظ سے اس تنظیم کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔
ملک کے قابل زکر سیاسی جماعتوں، تنظیموں، تحریکوں اور اداروں میں جہاں جہاں کوئی خیر موجود ہے وہ اسی تنظیم کا تحفہ ہے۔
صحافتی اورادبی دنیا میں کہیں کہیں جو شعوری، نظریاتی،فکری اور بامقصد رمق پائی جاتی ہے یہ اسی تنظیم کی روشنی ہے۔
دنیا میں جہاں جہاں،جس جس صورت، محبت،خدمت اور دعوت کی تحریکات مصروف عمل ہیں اس پر اس تنظیم کا ضرور کوئی اثر ہوگا۔
یعنی باہر کی پوری دنیا میں اس تنظیم کے تربیت یافتہ افراد بہت منتظم اور شائستہ انداز میں دعوت دین کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جو نہ صرف اس تنظیم کا بلکہ پاکستان کا بھی فخر ہے۔ پورے ستر سالوں سے ایک طلبہ تنظیم کا پوری یکسوئی، جانفشانی ، صبر، استقامت، قربانی، ایثاراوراخلاص کے ساتھ مقصد کے حصول کی جانب گامزن رہنا اور مسلسل مصروف عمل ہونا ایک معجزہ اور بہت بڑا اعجاز ہے۔
لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور لاتعداد زندگیوں کی محسن جمعیت کو خوب یاد ہے کہ جمعیت بلاشبہ ایک تابناک ماضی رکھتی ہے مگر تحریکیں خوبصورت ماضی اور حسین یادوں کےسہارے تادیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اسے مسلسل اپنے حال کا جائزہ لینا ہوتاہے اور مسقبل کو محفوظ بنانے کے خاطر ہوشیار اور چوکنارہنا پڑنا ہوتاہے۔اپنی مقاصد کو بھول جانا اور وقتی کامیابیاں پانا عارضی تسکین تو پہنچاتی ہے مگر دھوکے میں رکھ کر ضعف دلاتی ہے۔ اس لئے حساسیت کو بیدار کرنا، اسے برقرار رکھنا اور اسے محفوظ بنانا زندگی کی ضمانت ہے۔
اج سیکولرازم اور لبرازم زہرکی طرح بہت خاموشی کی ساتھ قلوب و ازہان اور معاشرے میں سرائیت کرتا چلا جارہاہے اس کا مقابلہ ٹھوس اور دقیق علم کے بغیر ممکن نہیں یہ ایک نظریاتی جنگ ہے جو علم، اخلاق ،خدمت اور محبت کے ہتھیار سے مسلح ہوکر ہی جیتی جاسکتی ہے۔
جمعیت اوراس کے محبین کو یوم تاسیس مبارک ہو!💕


