شادی ہے یا جادو کی چھڑی؟
ہمارے معاشرے میں سردرد، بخار، تھکاوٹ کی شکایت کے جواب میں چائے پینے کا مشورہ ملتا ہے اسی طرح زندگی کے ہر مسئلے کا حل ”شادی“ کرلینا ہی بتایا جا تا ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شادی ایک انتہائی خوبصورت بندھن ہے، لیکن ہم میں سے بیشتر اس رشتے کا آغاز غیر حقیقی توقعات و خواہشات کے ساتھ کرتے ہیں، اور جب حسب منشاء توقعات پوری نہیں ہوتیں تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔
یقین جانیے شادی عمرو عیار کی زنبیل سے نکلی ہوئی کوئی جادوئی دوا نہیں جس کا ایک گھونٹ پی لینے سے آپ اگلی صبح ایک مختلف انسان کی شکل میں بیدار ہوں گے، حقیقت کی دنیا میں لوٹ آئیے۔ بہت چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو شادی کے بارے میں اس سوچ سے روشناس کروایا جا تا ہے کہ بیاہ کر لینے سے کیسے انہیں تمام پریشانیوں اور مشکلوں سے جھٹکا رہ مل جائے گا۔ خاص طور پر نوعمر لڑکیوں کے لئے تو یہ تصور کسی افسانے سکیم نہیں ہوتا کہ شادی کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا، بعض اوقات کچھ لڑکیاں عجلت میں شادی بھی اسی لئے کر لیتی ہیں کہ کم از کم ان کی زندگی کی الجھنیں تو سلجھ جائیں گی۔
ان کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ پریوں کے دیس سے ایک شہزادہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے گا اور انہیں پرستان لے جائے گا، مگر ایسی سوچ رکھنے کا نتیجہ کیا ہو تا ہے، لوگ غیرحقیقی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، انہیں لگتا کہ بس میرے مسائل پر فل سٹاپ شادی کے بعد لگ جائے گا اور میری ذات مکمل طور پر بدل جائے گی۔ ہاں اس بات سے میں بالکل انکار نہیں جا سکتا کہ شادی آپ کو دکھ سکھ میں سانجھ، مضبوط تعلق اور ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے، یعنی کسی حد تک آپ کی شخصیت میں تبدیلی تو ضرور آتی ہے، لیکن یہ سوچ کہ شادی کے بعد جادو ہو جائے اور آپ کی دنیا بدل جائے گی، مصیبت کی وجہ بنتی ہے۔
خود سوچیں آپ شریک حیات پر کس قدر غیر منصفانہ دباؤ ڈال رہی ہوں گی، جب آپ سے محض سم سم کا منتر سمجھیں! اسے اپنے لئے چراغ کا جن سمجھیں۔ اتنی لامتناہی امیدیں باندھنا یقینا آخر میں انسان کے لئے پریشانی کا باعث ہی بنتا ہے۔ ہم آپ کو شادی سے منع نہیں کر رہے لیکن یہ سوچ کر شادی جیسا بندھن باندھیں کہ یہ دونوں فریقین کے لئے ایک بہتری کا سبب بن جائے، دونوں مل کر زندگی میں آگے بڑھیں، چاہے اچھے دن ہوں یا برے، دکھ سکھ کے سانجھی ہوں، یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ ایک بہتر انسان بن سکیں گی۔
شادی کا مطلب ہے بہت کچھ بدل جائے گا، دعوتیں اڑائی جائیں گی، ہلہ گلہ ہو گا لیکن ان سب کے باوجود ضروری نہیں کہ آپ کبھی بھی احساس تنہائی کا شکار نہیں ہوں گی۔ بعض اوقات لڑکیاں شادی کے بعد نئے ماحول، نئے گھر او ر اس کے مکینوں میں خود کو پہلے سے کہیں زیادہ تنہا محسوس کرتی ہیں، خاص طور پر اگر شہر یا ملک سے باہر جانا پڑ جائے تب تو ان کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ یہ توقع رکھتی ہیں کہ شوہر اپنی سوشل لائف، اپنی نوکری، اپنے گھر والوں سے ناتا توڑ کر صرف آپ کو خوش کرنے میں رات دن ایک کرنے والا ہے تو خدا کے لئے اس وہم سے نکل آئیے۔ ایسی امیدیں ہی تو ساس بہو میں کشمکش اور بڑے حد تک میاں بیوی میں بھی تکرار کا باعث بنتی ہیں۔ شریک حیات کو بھی انسان سمجھیں، اس کی ذمہ داریوں، اس سے جڑے رشتوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔
ہمارے ہاں مائیں بیٹیوں پر ہر لگائی گئی پابندی کا جواب دیتی ہیں کہ سسرال جا کر کر لینا، سیر کرنے جانا ہو، بال کٹوانے ہوں، میک اپ کرنا ہو اور بعض اوقات تو اعلیٰ تعلیم اور نوکری کی اجازت بھی یہ کہہ کر نہیں دی جاتی کہ سسرال جا کر لینا۔ اگر آپ کی زندگی کا ہر مقصد اس سوچ کے زیر اثر ہے کہ ”جب میری شادی ہوگی تو میں فلاں فلاں کام کر سکوں گی، تو آپ کو اپنی سوچ بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ضروری نہیں کہ اگر ابھی تک آپ کی شادی نہیں ہوئی تو آپ خود کو بالکل ہی دنیا سے لا تعلق کر دیں، سانس تو لیں مگر ہر لمحے سے لطف اندوز نہ ہوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی باتوں کو دل پر لگا کر بیٹھی رہیں۔
یقین کریں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے، آپ اپنی ذات کو ، اپنی تعلیمی قابلیت کو پہلے سے بہتر بنا سکتی ہیں۔ شادی کو عذر بنا کر اپنی ذات کو زنگ آلود نہ ہو نے دیں۔ مستقبل میں بننے والا شریک حیات ایسے انسان کو پسند کرے گا جو ایک بامقصد زندگی گزار رہا ہو، بجائے اس کے دن رات شادی کے انتظار میں سسکیاں بھرتا ہو۔
بہت اچھا لگتا ہے جب روزانہ کی بنیاد پر آپ سے کوئی پیار کا اظہار کرے، آپ خود کو خاص اور پراعتماد محسوس کرتے ہیں، ایک صحت مند اور مضبوط تعلق کی بنیاد ہی دونوں فریقین کی الفت ہوتی ہے۔ لیکن آپ کو شریک حیات کی ان باتوں پر اعتبار بھی تب ہی آتا ہے جب آپ خود اپنی ذات سے پیار کرنا جانتے ہوں، آپ کو خود پر اعتماد ہو۔ آپ جس بارے میں عدم تحفظ کا شکار ہوں، ان سے چھٹکارا پانا بہت ضروری ہے اور اس سب کے لئے کوئی دوسرا آپ کی مدد نہیں کر سکتا، اپنی ذات کو پہلے خود قبول کریں پھر کسی دوسرے سے التفات کی امید رکھیں۔
ان ساری باتوں کا لب لباب ہے کہ آپ کو ایک ایسے ساتھی کے ساتھ رہنا ہے جس نے ہر دکھ سکھ میں سانجھ کا ساری دنیا کے سامنے آپ کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ شادی کے دن پھولوں کی مہک اور ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھ کر یقینا جی چاہتا ہے کہ کاش آج کے بعد ہر دن یوں ہی زندگی میں رنگینیاں لے آئے، ہر دن عید جیسا بن جائے۔ لیکن نکاح کے کاغذوں پر دستخط کرتے ہیں ہوئے اس بات کو مت بھولئے گا کہ وہ فرد چٹکی بجائے ہی آپ کے مسئلے ختم کرنے کا وعدہ نہیں کر رہا بلکہ وہ آپ کا ساتھ نبھانے آ رہا ہے۔


