پاکستانی معیشت اور مہنگائی
پاکستان کی معاشی حالت سنبھلنے نہیں پا رہی۔ گزشتہ تین سال سے تو اس کی تنزلی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ حکومت کے دعوے اپنی جگہ، ہماری معیشت اس تیراک کی طرح ہے جسے ڈوبنے کا خدشہ ہے اور وہ سر توڑ کوشش کر کے تیر رہا ہے اور اپنی جان بچا رہا ہے۔ بیرونی اور اندرونی قرضے ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور حکومت قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پر مجبور ہے۔ اسٹیٹ بنک کے مطابق مجموعی طور پر 40 ہزار ارب سے زائد ہو چکے ہیں جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
حکومت کی کمزور معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے نتیجے میں پیدا شدہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ تا حال آئی ایم ایف سے امدادی فنڈ یا معاشی بحالی کے لئے قرض کی فراہمی کا معاہدہ نہیں ہو سکا اور شنید ہے کہ چند مزید اقدامات کے بعد یہ 12 جنوری کو آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس میں زیر غور آئے گا اور اس کے بعد پایا تکمیل کو پہنچ جائے گا اور پاکستان کو آئی ایم ایف سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط بھی مل جائے گی۔
لیکن آئی ایم ایف کی مزید شرائط پوری ہونے تک عوام کا مزید معاشی کچومر نکل جائے گا جو اب بھی دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں کر پا رہے۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگاری، غربت اور معاشی بدحالی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور ڈالر بڑھتا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین خود میڈیا پر تسلیم کر چکے ہیں کہ سٹے بازوں کی وجہ سے ڈالر مہنگا ہوا ہے اور حقیقت میں اسے 180 روپے کی بجائے 166 روپے کا ہونا چاہیے۔
لیکن حکومت ڈالر کی سٹے بازی کا سد باب نہیں کر پائی ہے۔ ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے سٹے باز تو فائدہ اٹھا ہی رہے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں جو مہنگائی ہو رہی ہے وہ ڈالر کے ریٹس کم ہونے سے بھی نیچے نہیں آ سکے گی جبکہ ملکی قرضوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوتا جائے گا۔ ہم اپنی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو دیکھیں تو یہ عالمی ساہوکار اداروں کے گروی اور یرغمال نظر آتی ہیں۔ حکومت پہلے آئی ایم ایف کے پاس تاخیر سے گئی اور جب گئی تو نہ ماننے والی شرائط بھی مان کر قرضے حاصل کرلئے۔
دور رس پالیسی سوچ سے عاری اور عالمی ساہوکاری کے مائنڈ سیٹ کی تابع و غلام معاشی ٹیم ملک کو بحران سے نکالنے کی بجائے لگتا ہے اسے مزید دلدل میں پھنساتی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے حصول کے ایسے ٹریک پر پھنس رہی ہے جہاں خدا نخواستہ کوئی ار ریورس ایبل صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔ حکومت نے مہنگائی زدہ معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر اسٹیٹ بنک کے پاس جمع کروانے کے لئے 4 فیصد شرح سود سے قرض حاصل کیا ہے تاکہ آئی ایم ایف کو زرمبادلہ کے ذخائر دکھائے جا سکیں۔
اس کے علاوہ سعودی عرب 1.2 ارب ڈالر کا تیل ڈیفرڈ پیمنٹ کے تحت پاکستان کو دے گا۔ پاکستان نے 4 فیصد سود پر ایسا قرض لیا ہے جو وہ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ صرف اسٹیٹ بنک کے پاس رہے گا۔ اس قسم کا قرض اور معاہدہ شاید ہی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کبھی ہوا ہو۔ بعض حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان عالمی طور پر ٹرسٹ ڈیفیسٹ کا تو شکار نہیں ہوتا جا رہا؟ سعودی عرب ریزرو قرض معاہدے کی شرائط میں سے ایک مبینہ شرط یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ اگر پاکستان کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے میں ڈیفالٹ کر جائے تو 72 گھنٹے میں سعودی عرب کو مذکورہ ریزرو قرض واپس کرنا ہو گا۔
لوگ بے چارے مہنگائی کے آسیب سے ایک طرف پریشان ہیں، مگر دوسری طرف حکومت نے عجیب بیانیہ اپنا لیا ہے کہ پاکستان میں دنیا کے مقابلے میں سب سے کم مہنگائی ہے۔ حکومت ڈھٹائی سے بجلی، تیل و گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کر رہی ہے۔ چند روز قبل بجلی کی قیمت میں پونے پانچ روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔ عوام کدھر جائے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کے پاس معاشی بحران کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا اور مایوسی اور بے یقینی کے سائے بڑھتے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
اور ماہرین بڑھتے معاشی بحران کو ریاست کی لئے بھی خطرہ گرداننا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سیاست ملکی و عوامی مسائل سے ہٹ کر حکومت اور اپوزیشن کے پاس ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور پروگرام نظر نہیں آ رہا جبکہ آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لئے شرائط پر عملدرآمد کی غرض سے سبسڈیز واپس لینے کا منی بجٹ بھی تیار ہو چکا ہے جس کے آنے کے بعد مہنگائی کے جس طوفان کے خدشات ہیں، اس سے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن ہو جائیں گی۔
جاری مہنگائی کا بے قابو جن معلوم نہیں قوم و ملک کو کس دلدل میں لے جائے گا۔ عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ سیل ٹیکس اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں کئی گناہ زیادہ وصولیوں نے تو عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ بلوں میں بجلی کی قیمت کے ساتھ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں چار گناہ زیادہ وصول کیا جا رہا ہے اور کوئی اس کے خلاف بولنے کو تیار نہیں۔ انڈسٹری اور زراعت کو بجلی اور گیس مہیا نہیں ہو رہی اور حکومت بمپر کراپ اور کسانوں کی ترقی کا راگ الاپتے تھکتی نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 5200 روپے میں ملنے والی ڈی اے پی کھاد کی بوری 11000 روپے میں اور 1780 میں ملنے والی یوریا کھاد کی بوری 2200 روپے کسانوں کو مل رہی ہے۔
آلو، گندم اور مکئی کی فصلوں کے لئے نہ صرف کھاد بلکہ پیسٹیسائیڈز کی قیمتیں بھی تین گناہ زیادہ ہو چکی ہیں۔ مہنگی ہونے کے باوجود مارکیٹ ہیں کھاد دستیاب نہیں ہے۔ ملک میں تیار ہونے والے ٹریکٹرز کی قیمتوں میں گذشتہ ماہ تقریباً تین لاکھ روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جامع پالیسی اور قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے صنعت، زراعت اور عام کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اور صرف مافیا یا بڑا سرمایہ دار بھرپور کمائی کر رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی آڑ میں آئے روز قیمتوں میں اضافہ ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کورونا، ماضی کی حکومتوں کے قرضے، روپے کی ڈیویلیوایشن، خطے اور دنیا میں کساد بازاری کے سبب بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن قوموں نے انتظامی اخراجات میں کفایت شعاری، بہتر اقتصادی پالیسیوں اور منصوبہ بندی سے مہنگائی میں اضافے کو ممکنہ حد تک کنٹرول کیا ہے۔ ہمارے ملک میں عالمی مالیاتی اداروں کے اکنامک منیجرز نے حکومت کی مجبوریوں کے پیش نظر ایسے اقدامات تجویز اور منوائے ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کا تمام تر بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے جبکہ امیر ترین اور سرمایہ دار مافیا اور اجارہ دار طبقہ کی کمائی اور آمدنی میں بے حد اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت سے توقع ہی کر سکتے ہیں کہ وہ مہنگائی کو کم کرنے کے لئے جامع پالیسی اپنائے اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرے۔


