للی پوٹ پارا کا افسانہ: موبائل فون

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسئیشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔
***
سیریکو کو اس کی جنم دن پر اس کے ہمکاروں نے ایک موبائل فون تحفہ دیا۔ بات یہ نہیں تھی کہ کوئی خاص طور پر اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ جنم دن پر آخر کچھ نہ کچھ تو دینا ہی تھا۔ لوگوں نے آپس میں چندہ کیا اور ایرکسن فون کو ٹرامنی کی ایک بوتل کے ساتھ اچھی طرح پیک کر کے اسے تحفہ دے دیا۔
سیریکو کو موبائل کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ اگر وہ چاہتا تو کب کا خرید چکا ہوتا۔ بہر حال، اس کے پاس اب ایک ایرکسن فون تھا۔ اس نے چارجر کو پلگ کرنے کے لئے ایک ساکٹ کا انتخاب کیا۔ ہدایت نامے کو غور سے پڑھا اور اسے ایک خاص فولڈر میں رکھ دیا۔ پھر فولڈر کو بائیں طرف والی الماری میں جہاں وہ وارنٹی کارڈوں کے ساتھ دیگر ہدایت نامے رکھتا تھا، ایک خاص باکس میں رکھ دیا۔
سیریکو اپنے ہر کام بہت منظم ڈھنگ سے کرتا تھا۔ ہر چیز کا اپنا ایک خاص مقام تھا۔ ہر چیز سوچ سمجھ کر اور سلیقے سے اپنی جگہ پر رکھی جاتی تھی۔ لہٰذا ٹیکس بھرتے وقت سیریکو کو بے بسی سے دستاویزوں کی تلاش میں الجھنا نہیں پڑتا تھا۔ گلاش بناتے وقت اس کا داہنا ہاتھ اپنے آپ کڑاہی کے ڈھکن پر پہنچ جاتا تھا۔
سیریکو کے جنم دن کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ وہ بالکنی میں بیٹھا اپنی ماں کے ٹی سیٹ میں سے بچے رہ گئے چاندی کے کنارے والے ایک چھوٹے کپ میں کافی پی رہا تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا ہونا چاہیے تھا۔ اس نے مارکیٹ سے کچھ سیب اور سلاد پتے خریدے تھے۔ کل کا بچا ہوا لنچ کھا کر سیریکو نے پلیٹ اور کٹلری کو اچھی طرح سے دھویا، کافی بنائی اور بالکنی میں بیٹھ کر چسکیاں لینے لگا۔ سنیچر کا دن تھا۔ کافی پینے کے بعد اس نے اسمرنا پہاڑی پر جانے کا ارادہ کیا۔ ہر سنیچر کو اسمرنا پہاڑی پر جانا اس کا معمول تھا۔
ابھی وہ کافی پی ہی رہا تھا کہ موبائل بج اٹھا۔ پہلے تو اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ یہ چنچناتی ہوئی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ ایک دن پہلے اس نے ایک اینٹیک فون کا رنگنگ ٹون سیٹ کیا تھا۔ پورے ہفتے کے دوران اس کا فون صرف دو بار آفس میں بجا تھا۔ لیکن دونوں بار رنگنگ ٹون الگ تھا۔ اس سے سیریکو کی کم اور فون تحفہ دینے والوں کی زیادہ تفریح ہوئی تھی۔
ریڈیو سیٹ کے پاس والے کچن کاؤنٹر پر موبائل بج رہا تھا۔ اس کی وہی مناسب جگہ تھی، کیونکہ سیریکو نے گھر آنے کے بعد وہیں پر فون رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
آہستہ سے اٹھ کر وہ کچن میں گیا۔ اس مداخلت سے وہ تھوڑا جھنجھلا گیا تھا۔ اسے کسی فون کال کی امید نہیں تھی، اور اس وقت، کافی پینے کے دوران، وہ چاہتا بھی نہیں تھا کہ کوئی فون آئے۔
اس نے فون اٹھایا اور اسے اپنی آنکھوں کے قریب لا کر نمبر دیکھا۔ یہ فون بک کے تین نمبروں میں سے نہیں تھا اور ”زیرو ایک“ نمبر سے شروع ہوتا تھا جو اس کے آفس کا نمبر نہیں تھا۔ یوں بھی آج سنیچر تھا اور سنیچر کو اس کے دفتر میں چھٹی ہوتی تھی۔ وہ ایک پل کو ہچکچایا۔ اس کا پہلا ردعمل تھا کہ فون رسیو ہی نہ کرے۔ لیکن پھر اسے تھوڑا تجسس ہوا۔ ساتھ ہی وہ کچھ فکرمند بھی ہو اٹھا کہ کہیں کال رسیو ہونے سے پہلے ہی بند نہ ہو جائے۔
اس نے ہرا بٹن دبایا۔
” ہیلو؟“
” اوہ، ہیلو! ہوزے، تم فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟ کتنی دیر سے بج رہا تھا!“
عورت کی آواز میں خوشی بھری چہک تھی۔ اتنی طویل رنگنگ آخرکار ایک سوالیہ جملے میں بدلی تو۔
” معاف کیجئے، میں ہوزے نہیں ہوں۔ رانگ نمبر۔“
” اوہ! کیا؟ اچھا۔ زحمت کے لئے معافی چاہتی ہوں۔ گڈ بائی۔“
فون خاموش ہو گیا۔ سیریکو تھوڑی دیر تک موبائل اسکرین کے سوال کو دیکھتا رہا کہ آیا وہ نیا نمبر محفوظ رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ بالآخر اس نے ”نو“ پر انگلی رکھ دی۔ فون کو ریڈیو کے بائیں طرف والے کاؤنٹر پر رکھا اور کافی کے پاس گیا جو اب تک ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ وہ کپ پر انگلیاں پھیرتا رہا۔ اسے ٹھنڈی کافی پسند نہیں تھی۔ اس نے کافی کچن سنک میں انڈیل دی۔ سوچا کہ کیا پھر سے کافی بنائے؟ آخر کافی نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ کپ دھویا اور بیڈ روم میں کپڑا بدلنے چلا گیا۔
وہ ٹریک سوٹ پہن رہا تھا کہ ایک بار پھر کچن میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔
اس نے جو محسوس کیا اسے ابھی جھنجھلاہٹ تو نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن جھنجھلاہٹ کے کافی نزدیک تھا۔ سیریکو کو اپنے روز مرہ کے معمول میں کسی طرح کی مداخلت پسند نہیں تھی۔ اس کی زندگی منضبط، منصوبہ بند اور منظم تھی۔ ہر چیز کا اپنا خاص مقام تھا اور ہر کام کا اپنا مقررہ وقت۔
اسکرین پر پہلے والا نمبر تھا۔
’ ہیلو؟ ”اس نے مائکروفون میں کہا۔ آواز شاید کچھ زیادہ تیز ہو گئی تھی۔
” اوہ، ہوزے، دیکھو نا! ابھی غلط نمبر لگ گیا تھا اور ایک آدمی سے میری بات ہوئی۔ سنو۔“
”معاف کیجئے میڈم،“ سیریکو نے ٹوکا، ”پھر سے رانگ نمبر ہے۔ میں ہوزے نہیں ہوں۔“
” اوہ مائے! تو آپ کون ہیں؟ معاف کیجئے، میرا نام فانی ہے۔ آپ؟“
سیریکو تیزی سے سوچنے لگا کہ فانی نام کی اس عورت کو اپنا نام بتائے یا نہیں؟ کیا وہ اس سے کہہ دے کہ اسے اس کے نام سے کیا مطلب؟ یا یہ کہے کہ وہ سنیچر کی دوپہر میں اس طرح فون نہ کرے جبکہ اسے اسمرنا گورا پہاڑی پر جانے میں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔
آخرکار اس نے کہا، ”میرا نام سیریکو ہے اور یہ میرا نمبر ہے۔“
” اوہ سیریکو مجھے خوشی ہوئی کہ۔ میرا مطلب ہے کہ۔ میں پھر سے معافی چاہتی ہوں۔ گڈ بائی۔“
پھر خاموشی اور فون کٹنے کی آواز۔ سیریکو فون ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا۔ پھر اسے احساس ہوا کہ اس کی ٹی شرٹ ٹریک سوٹ ٹراؤزر سے باہر تھی۔ اس نے فون کو سلیقے سے اپنے مقام پر رکھا اور ٹی شرٹ کو ٹراؤزر کے اندر کھونسا۔ ’مجھے فون بند کر دینا چاہیے‘ اس نے سوچا۔ ’ٹھیک ہے، میں فون بند کر کے فوراً نکلتا ہوں۔ ‘ جیسے ہی اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا، فون پھر بج اٹھا۔ اس نے فوراً جواب دیا۔ آخر ہاتھ تو فون ہی پر تھا۔ اور خیر اسکرین دیکھے بغیر اسے معلوم تھا کہ دوسری طرف کون ہے۔
”میڈم۔“ وہ بولا۔ لیکن اسے بیچ میں ٹوک دیا گیا۔
” ہوزے، اوہ مائی گاڈ! بار بار میرا فون سیریکو نام کے کسی آدمی کو لگ جا رہا ہے۔“
”ایکسکیوز می فانی، پھر سے میں ہی ہوں۔ سیریکو۔“
”پھر سے؟ یہ ہو کیا رہا ہے؟ آخر آپ فون رسیو ہی کیوں کرتے ہیں؟ اور ہوزے کہاں ہے؟“
سیریکو جھینپ کر خود پر مسکرایا۔ یہ سب بہت غصہ دلانے والا تھا کیونکہ اس کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا تھا۔ لیکن یہ ایک نیا تجربہ بھی تھا۔ آج بہت زمانے بعد سیریکو کا ہفتہ ایک الگ انداز میں گزر رہا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ۔ کم ازکم اس کا یہی خیال تھا۔ کوئی مذاق کرے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی، لیکن تبھی اسے محسوس ہوا کہ فانی کا نمبر اسکرین سے غائب ہو چکا تھا۔
آخر کار اس نے فون رکھ دیا اور گاڑی میں تیزی سے اسمرنا گورا پہاڑی کی طرف بڑھا۔ اس نے پہاڑی کے لئے نزدیک ترین اور کم بھیڑ بھاڑ والے راستے کا انتخاب کیا، کیونکہ وقت ختم ہونے والا تھا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ایک کپ اربل ٹی اور پریتزل آرڈر کیا۔ ہوا چل رہی تھی، لیکن بہت تیز نہیں۔ اس نے نیچے گھاٹی کی طرف دیکھا اور اس کی نظر مضافاتی علاقے موستے پر ٹک گئی جہاں فانی رہتی تھی۔ فانی کے فون کے ابتدائی نمبروں کے مطابق۔
سیریکو نے شام کو فون چارجر سے لگایا۔ آرام سے دیر تک نہاتا رہا۔ ٹی وی آن کیا اور کمرشیل چینل لگا کر سوالوں کا انتظار کرنے لگا۔
وہ شام کچھ مختلف تھی۔ سیریکو تھوڑا بے سکون تھا۔ اشتہاروں کے دوران وہ کئی بار اٹھ کر کچن میں گیا۔ وہ آج بار بار پانی پی رہا تھا۔ اس نے ایک سیب دھویا۔ وہ فون کے پاس کئی بار کچھ پلوں کے لئے رکا۔
ساری شام فون خاموش رہا۔
دوسری صبح بھی فون خاموش رہا اور سوموار کے زیادہ تر حصے میں بھی۔ اتوار کی صبح میں سیریکو نے فیصلہ کیا کہ وہ فون اپنے سینے والی جیب میں رکھ کر باہر جائے گا کیونکہ اس میں بٹن تھے۔ وہ سائکل سے زالوگ گیا۔ اگر بارش نہ ہو رہی ہو یا برف نہ پڑ رہی ہو تو اتوار کو وہ ہمیشہ سائکل سے جایا کرتا تھا۔
فون بدستور خاموش رہا۔
سوموار کو کام کرتے وقت سیریکو کھویا کھویا سا تھا اور اس بات سے اسے کوفت ہو رہی تھی۔ اسے اپنی منظم زندگی، پرسکون شخصیت، متوازن فراست اور اس شبیہ پر کہ اسے کوئی چیز بھی بے چین نہیں کر سکتی تھی، فخر تھا۔
دوپہر میں اسے خود سے تسلیم کرنا پڑا کہ وہ نروس تھا۔ وہ میل باکس سے پیپر نکالنا بھول گیا اور لنچ کے بعد اسے پھر سے جوتے پہن کر پیپر لانے باہر جانا پڑا۔ وہ کاغذات کے صفحات پلٹتا رہا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایرکسن کے اسکرین پر نظریں ڈالتا اور اس کی نظریں کچھ دیر تک اسکرین پر جمی رہ جاتیں۔ لیکن فون نہیں بجا۔ اسی دوران اس نے رنگنگ ٹون کو ایک زیادہ مقبول ٹون میں بدل لیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس سے فون بجنے کی آواز دور سے بھی صاف سنائی دے گی۔
شام کو وہ فیصلہ نہ کر سکا کہ نہانے کے دوران وہ فون آف کر دے یا سوئچ آن کر کے کچن میں چھوڑ دے۔ فون کو باتھ روم میں لے جانے کا خیال عجیب تھا۔ لیکن جب کچھ فیصلہ نہ کر پانے کے سبب اس کی کیفیت دگرگوں ہو گئی تو وہ فون لے کر باتھ روم میں گیا۔ جلدی جلدی نہایا۔ اچھی طرح نہا نہ پانے کے سبب بعد میں اس نے خود کو جھڑکا بھی۔ لیکن فون نہیں بجا۔
بالآخر فون بجا۔ بالکل اس وقت جب سیریکو عادت کے مطابق جلدی سونے جا رہا تھا۔ یہ اس کے ہمکار جینیز کا فون تھا۔ اس نے کہا کوئی خاص بات نہیں، بس یونہی فون کیا تھا، کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ اب سیریکو کے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ سیریکو نے بات کو مختصر رکھا اور جینیز کو گڈ بائی کہہ کر فوراً فون بند کر دیا۔ جینیز کے فون سے وہ اس قدر جھنجھلا جائے گا، اس بات کو وہ خود سے بھی تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اچھی طرح نہیں سو سکا۔
منگل کو سیریکو نے اپنی کنپٹیوں میں سخت دباؤ محسوس کیا۔ اس نے یہ کہہ کر کہ اسے سر درد ہے، کام سے جلدی چھٹی لے لی۔ اس کمپنی میں کم کرتے ہوئے پندرہ سال میں پہلی بار وہ بارہ بجے ہی گھر آ گیا تھا۔
پہلے اس نے کافی بنائی۔ لیکن اسے پینے کا جی نہ چاہا۔ ابھی دوپہر کی کافی کا وقت بہت دور تھا، جو وہ لنچ کے بعد ساڑھے چار بجے بالکنی میں پیتا تھا۔ اگر بارش، برف یا تیز ہوا ہوتی تو کچن کے ٹیبل پر پیتا تھا۔
دو بجے سیریکو نے لکویڈ سوپ سے ہاتھ دھویا۔ تھوڑا پہلے ہی لنچ بنا لیا۔ کھایا۔ برتن دھلا۔ برتنوں کو پونچھ کر رکھ دیا۔ سینے والی جیب سے فون نکالا۔ صوفے پر بیٹھ گیا۔ ریڈیو کی آواز دھیمی کی۔ فون پر مل رہی ہدایتوں پر احتیاط سے عمل کرتا رہا۔ بالآخر دوسری طرف کے رنگنگ ٹون کی میٹھی موسیقی سنائی پڑی۔
”ہیلو؟“ عورت کی مانوس آواز تھی۔ ”کون؟“ آواز نے پوچھا۔ سیریکو نے راحت کی ایک بہت گہری سانس لی اور بولنے سے پہلے دوسری آزاد ہتھیلی سے اپنے گلے کو احتیاط سے سہلایا۔
مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد
سینئر لیکچرر، ہندی اردو، کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک

