بچے کا نام کیا رکھیں

حضرت مولانا سید محمد خلیل چشتی امروہوی رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی خوش مزاج و تفریح پسند تھے۔ اکثر لطائف و ظرائف سنا دیا کرتے تھے۔ ایک مجلس میں قافیہ بندی کا ذکر چھڑ گیا تو ارشاد فرمایا کہ ہمارے یوپی کے ایک مولانا صاحب ریاست حیدرآباد کے کسی گاؤں میں وارد ہوئے تو دیکھا کہ ایک جگہ بہت سے لوگ فرش پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں شیرینی کے طباق درمیان میں رکھے ہوئے ہیں۔ مولانا صاحب بھی فرش پر بیٹھ گئے۔ بہت دیر منتظر رہے مگر سب لوگوں کو خاموش ہی پایا اور ان کو اجتماع کا مقصد معلوم نہیں ہوا۔
مجبور ہو کر خود ہی مولانا صاحب نے اس خاموشی کو توڑا اور فرمایا کہ حضرات! اللہ کے واسطے مجھے بتائیے کہ آپ لوگ یہاں کیوں مجتمع ہو کر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں؟ اور یہ شیرینی کیسی اور کیوں رکھی ہوئی ہے؟ یہ سن کر لوگوں نے کہا : غالباً آپ پردیسی معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ میں یوپی کا باشندہ ہوں۔ لوگوں نے بتایا کہ قبلہ! یہ تسمیہ خوانی کی مجلس ہے۔ ایک بچے کا نام رکھنے کے لیے برادری کے لوگ جمع ہوئے ہیں۔
نام رکھ لینے کے بعد یہ شیرینی تقسیم ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ ارے بھائی! تو پھر لوگ نام کیوں نہیں رکھتے، گھنٹوں سے بیٹھے کیا سوچ رہے ہیں؟ چوہدری نے کہا کہ جناب من! اس بچے کا نام رکھنے میں بڑی دشواری نظر آ رہی ہے۔ مولانا نے فرمایا دشواری کیسی؟ حاضرین نے کہا کہ صاحب یہاں کا رواج یہ ہے کہ بچے کا نام باپ اور دادا کے نام کے وزن پر رکھا جاتا ہے اور ایسا نام منتخب کیا جاتا ہے جو بالکل ہی نیا ہو۔ مولانا نے دریافت کیا کہ اس بچے کے باپ کا نام کیا ہے؟
لوگوں نے کہا ”معشوق علی“ ۔ مولانا نے کہا کہ پھر اس بچے کا نام ”فاروق“ علی رکھ دیجیے۔ وزن و قافیہ بالکل برابر ہے۔ لوگ ہنس کر بولے کہ جناب یہ تو بچے کے دادا کا نام ہے۔ کوئی اس کے ہم وزن دوسرا نام تجویز فرمائیے۔ اب مولانا کا قافیہ بھی تنگ ہو گیا۔ بار بار معشوق علی، فاروق علی کی تکرار ذہن میں کرتے اور ہم وزن سوچتے رہے مگر اس کے ہم وزن کوئی نام ذہن میں آتا ہی نہیں تھا۔ مولانا بھی تھوڑی دیر خاموش رہے۔
پھر ارشاد فرمایا کہ حضرات! ایک نام میرے ذہن میں آیا ہے جو بالکل ہی باپ اور دادا کے وزن پر ہے اور نیا تو اتنا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں شاید ہی آج تک یہ نام کسی کا رکھا گیا ہو۔ لوگوں نے کمال اشتیاق سے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور سب یک زبان ہو کر بول اٹھے کہ ضرور ضرور ارشاد فرمائیے کہ وہ کون سا نام ہے؟ تو مولانا نے فرمایا کہ سنیے : باپ کا نام ”معشوق علی“ اور دادا کا نام ”فاروق علی“ ہے۔ اس لیے اس بچے کا نام ”بندوق علی“ رکھ دیا جائے۔
وزن بالکل برابر ہے اور نام بالکل ہی نیا ہے۔ یہ سن حاضرین بگڑ کر بولے کہ کیا آپ مذاق کر رہے ہیں؟ آپ کو شرم نہیں آتی کہ مولانا ہو کر ایسی سنجیدہ مجلس میں یہ مسخرا پن دکھا رہے ہیں۔ مولانا نے بھی بلند آواز سے فرمایا کہ مذاق کرنے والے کی ایسی کی تیسی۔ اس میں تمسخر اور مذاق کی کیا بات ہے؟ کیا ”شمشیر علی“ نام نہیں رکھا جاتا؟ کیا ”تیغ علی“ نام نہیں ہوتا؟ تو جب علی کی شمشیر اور علی کی تلوار و تیغ ہو سکتی ہے تو اگر علی کی بندوق ہو جائے تو اس میں کون سا کفر ہو جائے گا؟
جس طرح علی کی تلوار ہو سکتی ہے اسی طرح علی کی بندوق بھی ہو سکتی ہے۔ میں عالم و مفتی ہوں، میں فتویٰ دیتا ہوں کہ بندوق علی نام رکھنے میں ہرگز ہرگز شرعاً نہ کوئی کفر و شرک ہے نہ کوئی بدعت، نہ حرام ہے، نہ مکروہ تحریمی، نہ مکروہ تنزیہی۔ یقیناً یہ نام جائز و مباح ہے۔ بہر کیف مولانا نے اپنی عالمانہ تقریر کی ہیبت سے سب کو خاموش کر دیا اور سب لوگوں نے بالاتفاق بچے کا نام ”بندوق علی“ رکھ دیا اور مٹھائی تقسیم ہو گئی۔
پھر مولانا نے کہا حضرات! ایک نام اس کے وزن پر اور بھی میرے خیال میں آ گیا۔ اس کو آپ لوگ نوٹ کر لیں تاکہ آئندہ بھی اگر ایسا حادثہ پیش آئے تو یہ نام آپ کے کام آئے گا۔ لوگوں نے بڑے شوق سے پوچھا تو مولانا نے ارشاد فرمایا کہ ”صندوق علی“ رکھ لیجیے۔ وزن و قافیہ بالکل برابر ہے اور نام بھی نیا ہے۔ لوگوں نے خوش ہو کر مولانا کا شکریہ ادا کیا اور سب ان کی تلاش قافیہ اور ذہانت کی داد دینے لگے۔ (روحانی حکایات، ص319)
واقعہ تو یہاں ختم ہوا۔ یقیناً معاشرتی حقیقت یہی ہے کہ بچے کی ولادت کے بعد والدین کو سب سے پہلے نام رکھنے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ اگر پہلے سے ایک یا دو بچے موجود ہوں تو فکر مزید بڑھ جاتی ہے کہ ان کے نام کے وزن پر ایسا نام رکھیں جو بالکل نیا ہو۔ اس کی تلاش میں والد صاحب مارے مارے پھرتے ہیں، یا تو عالموں اور مفتیوں کے دماغ کھاتے ہیں کہ فلاں نام کی طرح کوئی نیا نام بتائیں۔ یا پھر مارکیٹ میں دستیاب یا انٹر نیٹ پر موجود کوئی بھی نام کی کتاب اٹھا لیتے ہیں اور نئے نام کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔
ان غیر مستند اور غیر معیاری کتابوں اور ویب سائٹس میں عجیب و غریب نام لکھے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ بعض ایسی کتابیں اور ویب سائٹس نظر سے گزری ہیں جن میں ابلیس، قادیانی، پاڑھا، پانڈا، آتما، ٹائبر، ٹلوا، ٹاپو، ٹلم، ٹکمی، جاثلیق، جپسی، خصیم، دقیانوس، ڈھولا، رجم، سجین، سوداگر، صابی، ظلیم، غضبناک، کاذب، کماچ، مذنب، مندر، ناقوس، والا، ہصیص، ہطل، ہمراہی، ہندوس، ہوش، ہوشنگ، ہنگار، ہیکل، ہیام، ہیرو، یاسج، یگونہ، یگانہ، یلدز، یلدرم، یورش، یہودا وغیرہ جیسے الفاظ کو بچوں کے نام کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
لوگ نئے نام رکھنے کے شوق میں بے معنی الفاظ منتخب کر کے نام تجویز کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ قرآن سے نام رکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور خود نام کے لیے قرآن کا کوئی بھی لفظ منتخب کرلیتے ہیں۔ ایک صاحب نے اپنے بیٹے کا نام ”اسفل“ رکھا ہوا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسا نام ہے؟ اس کے معنی آپ کو معلوم ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ قرآن سے لیا ہے۔ اب ان صاحب کو کون سمجھائے کہ قرآن میں یہ لفظ ایمان نہ لانے والے انسانوں کی مذمت کے لیے استعمال کیا گیا کہ انسان کو نیچے سے نیچے کی حالت کی طرف پھیر دیا۔ مگر ان صاحب نے نئے نام کی تلاش میں قرآن سے یہ لفظ نکال کر اپنے بیٹے کا نام رکھ لیا۔
الغرض والدین کی خدمت میں عرض ہے کہ نام رکھنے کے حوالے سے بچوں کے اسلامی ناموں پر مشتمل مستند اور معتبر کتب کا مطالعہ کریں۔ مارکیٹ یا انٹرنیٹ پر دستیاب بے سروپا ناموں والی کتب یا سرچ انجن پر اعتبار نہ کریں۔ مزید یہ کہ ”عبد“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام یا انبیاء کرام، صحابہ عظام، اولیاء کا ملین، سلف صالحین اور بزرگوں کے نام پر بچوں کے نام اور ازواج مطہرات، صحابیات، عابدات اور صالحات کے نام پر اپنی بچیوں کے نام رکھیں، اس کی بہت برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ نئے نام کے چکر میں اوٹ پٹانگ بے معنی الفاظ کو بچے کا نام مت دیں۔ والدین کی طرف سے بچے کو سب سے پہلا تحفہ نام ہی کا ہوتا ہے جیسا کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”آدمی سب سے پہلا تحفہ اپنے بچے کو نام کا دیتا ہے، اس لیے چاہیے کہ اس کا نام اچھا رکھے۔ “

