کتاب، قلم اور فلم


آج کل خوش قسمتی اپنے عروج پہ ہے۔ ایک طرف تو ”سپائیڈر مین نو وے ہوم“ اور ”دی میٹرکس ریسرکشن“ جیسی فلمیں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور دوسری طرف ”ڈاکٹر غلام جیلانی برق“ کی کئی شہرہ آفاق تصانیف ہاتھ لگ چکی ہیں۔

”ڈاکٹر غلام جیلانی برق“ گزشتہ صدی کے بہت بڑے نامور عالم ہو گزرے ہیں جنہوں نے اسلام میں داخل ہونے والے اوہام و اباطل کو درایت و روایت کی رو سے غلط ثابت کر کے دکھایا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ایک زمانہ ان کے کام کا معترف رہا ہے جبکہ دوسری طرف ملاں ازم ان کا دشمن رہا ہے۔

”ڈاکٹر غلام جیلانی برق“ کی ایک مشہور تصنیف ”دو اسلام“ کل ہی شروع کی اور کل ہی ختم کر ڈالی جبکہ ان کی دوسری تصنیف ”من کی دنیا“ زیر مطالعہ ہے۔ اس سے قبل جاری مہینے میں ”علامہ نیاز فتح پوری“ کی مشہور زمانہ تصنیف ”من و یزداں“ اور ”علامہ علی عباس جلالپوری“ کی بے بدل تصنیف ”کائنات اور خدا“ بھی پڑھ چکا ہوں۔ یقین کریں تحیر و تعقل کے نئے باب کھلتے چلے جا رہے ہیں۔

اب آتے ہیں فلموں کی طرف۔

اس وقت لڑکپن تھا جب پہلی بار ”دی میٹرکس“ فلم دیکھی تھی۔ اس دور میں ہالی ووڈ کی فلمیں صرف دیکھنے کا شوق ہوا کرتا تھا۔ ایکٹر ڈائریکٹر وغیرہ کو جاننے کی نہ تو سہولت تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت محسوس کی تھی۔

کیانو ریوز سے پہلی پہچان ”جان وک چیپٹر ون“ دیکھ کر ہوئی تھی لیکن تب تک دی میٹرکس کے کردار اور اس کی کہانی ہر دو ذہن کے کسی تاریک گوشے میں چلے گئے تھے۔ پھر ایک دوست نے بتایا تو یاد آیا کہ ہاں بھئی ”دی میٹرکس“ میں تو اپنے جان وک بھائی ہی ہیں۔ پھر ”جان وک چیٹر ٹو“ اور ”جان وک چیپٹر تھری (پروبیلیئم)“ بھی دیکھ ڈالی اور یوں ”کیانو ریوز“ سے استوار یک طرفہ محبت و دوستی عروج پہ پہنچنے لگی۔ اس دوران ”کیانو ریوز“ کی کئی مشہور فلمیں دیکھ ڈالیں جن میں ”نوک نوک“ قابل ذکر ہے۔

”کرسٹوفر نولان“ کی ٹینٹ دیکھی تو پتہ چلا کہ موصوف اسی طرح کی فلمیں بنا کر دماغ کو چکرا کر رکھ دیکھتے ہیں اور ”انسیپشن“ ”پریسٹیج“ ”انٹرسٹیلر“ جیسی فلموں کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے۔ ”کرسٹوفر نولان“ کا تذکرہ اس لیے چل نکلا کیونکہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ہمیں اس دور میں صرف آم کھانے سے مطلب ہوا کرتا تھا پیڑ گننے سے نہیں۔ اور اب آم کھانے کے ساتھ ساتھ پیڑ گننے کی بھی عادت مستحکم ہو چکی ہے۔

”سپائیڈر مین“ اس وقت دیکھی تھی جب ابھی چہرے پر مونچھیں اگ رہی تھیں اور دماغ ہر جھوٹ کو سچ ماننے پر تیار ہو جاتا تھا۔ ”سپائیڈر مین“ دیکھ کر نجانے کتنی ہی مکڑیوں کو اپنے ہاتھ پہ بٹھا کر کاٹ دینے کی دعوت دی مگر ان نکمی نگوڑی مکڑیوں میں سے کوئی ایک بھی ”سپائیڈر مین“ والی مکڑی ثابت نہ ہوئی سو اس وجہ سے خاکسار، ”خاکسار“ ہی رہا۔ بلکہ ایک بار یہ مسئلہ نانی اماں مرحومہ مغفورہ کے گوش گزار کیا تو انہوں نے نہایت ہی سادگی سے فرمایا کہ ”پتر او انگریزیں دیاں مکڑیاں ہوندین، ساڈیں مکڑیں وچ او گالھ کائنی۔“ (بیٹا وہ انگریزوں کی مکڑیاں ہوتی ہیں، ہماری مکڑیوں میں ایسا کوئی جادو نہیں ہوتا۔ ) آج جب یہ بات یاد آتی ہے تو نانی اماں کی سادگی پر بے اختیار پیار آتا ہے اور آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔

”نو وے ہوم“ میں تینوں ”سپائیڈر مین“ اور ان کے ولن دیکھ کر ایک تو حیرت کا جھٹکا لگا اور دوسرا خوشی بھی ہوئی کہ مر گئے کرداروں کو ایک بار پھر زندہ دیکھنا نصیب ہوا۔ شاید انسان ایسی باتوں پر کچھ زیادہ ہی خوش ہوتا ہے کیونکہ اس کے لاشعور میں کہیں اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ بھی دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔ اسی لیے فلموں میں محیر القول واقعات سے انسان خوش ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جان اور سمجھ رہا ہوتا ہے کہ بقول شاعر ہمارے دوست ”کامران قمر صاحب“ ”سب جھوٹ ہے۔“

کل رات ”سپائیڈر مین نو وے ہوم“ دیکھی تھی اور آج ”دی میٹرکس ریسرکشن“ دیکھنے کی باری و تیاری ہے۔ اس قطار میں ایک اور فلم بھی باقی ہے حالانکہ وہ فلم میرے پسندیدہ ترین موضوع اور سلسلے پر مبنی ہے لیکن غلطی سے اس پر ایک ریوو پڑھ لیا تھا جس نے اس فلم کو آخر میں دیکھنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اور وہ فلم ہے ”ریزیڈنٹ ایول ریکون سٹی“ ۔

دیکھتے ہیں کہ اب وہ فلم کیا تاثر چھوڑتی ہے لیکن پہلے ”دی میٹرکس ریسرکشن“ کی باری ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments