بچہ مزدوری (چائلڈ لیبر) ایک معاشرتی المیہ


چند دن پہلے کسی کام سے اندرون شہر کے مصروف ترین بازاروں میں سے ایک میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ بازار بیرون بوہڑ گیٹ بازار کہلاتا ہے۔ بوہڑ گیٹ قدیمی شہر کے سات داخلی دروازوں میں سے ایک ہے۔ اس بازار میں الیکٹرانکس اور پینٹ کی بڑ ی اور ہول سیل شاپس ہیں۔ قدیمی شہر اور اس کے بازاروں کی چہل پہل کے ساتھ ان کے کاروبار کا مزاج بھی کئی لحاظ سے جدا ہے۔ اور یہ جدیدیت کے متوازی اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ یہاں دوکان چھوٹی اور سڑ ک تنگ ہو گی ، پارکنگ نہیں ہو گی اور سامان کی آمد و رفت کے لئے ریڑھی ، ہاتھ ریڑھی یا لوڈر رکشا اور ذات کی آمد و رفت کے لئے پیدل مارچ ، سائیکل یا موٹر سا ئیکل سب سے موزوں سواری ہے یا پھر خواتین کے لیے رکشا یا تانگہ کی آ پشن ہے۔ یہ لوگ جگہ کی تنگی کو خامی نہیں مانتے اور کام کی مصروفیت کے باوجود ملنے ملانے اور یاروں کی محفلوں کو ایک ساتھ چلاتے ہیں۔ یہ بڑے اور جا ذب نظر آوٹ لک کے نہ تو قائل ہیں اور نہ اس کے لئے ان کے پاس جگہ ہے۔
بہرحال ایک الیکٹرانکس کی شاپ پر کچھ خریدنے کی غرض سے رکا اس شاپ کے ما لک نے کونے میں الیکٹرانکس ریپئر لیب کی جگہ کرا ۓ پر دی ہو ئی تھی۔ اس ریپئر لیب کو جو صاحب چلا رہے تھے انہوں نے کام میں مدد اور سکھانے کے لئے ایک چھوٹے سے بچے کو ساتھ رکھا ہوا تھا۔ اس بچے کی عمر بمشکل چھے سات سال ہو گی۔ وہ چھوٹا بچا اپنی تمام تر معصومیت اور بچپنے کے باوجود نہایت سرعت کے ساتھ اپنے استاد کے احکامات کی بجا آوری میں مصروف تھا حالاں کہ اب شام ہو چکی تھی مگر سارے دن کے کام کی تھکاوٹ کے اس کے چہرے پر کوئی آثار نہیں تھے۔
استاد نے کوئی کام کہا اور وہ اس حکم کی تعمیل کے لیے دوڑا کہ استاد نے اچانک ایک زوردار تھپڑ اس کے معصوم چہرے پر رسید کیا ، وہ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ اس کے چہرے پر استاد کے انگلیوں کے نشان چھپ گئے۔ ساتھ ہی استاد صاحب فرمانے لگے کہ "جو کام پہلے کر رہے ہو وہ اب تمہارا باپ آ کے مکمّل کرے گا جو اگلے کام کی طرف دوڑ پڑے ہو”۔ دوستو اگر استاد کی ہدایت کے برعکس وہ پہلے ، پہلا کام مکمل کرنے میں لگ جاتا ، تھپڑ اس بدنصیب کو پھر بھی رسید ہونا تھا کیوں کہ ایسے درماندہ، ریاستی لاوارث اور کم نصیب بچوں کو سزا ان کی غلطی کی وجہ سے نہیں ، عادتاً اور سکھانے کے طریقہ کار کے طوردی جاتی ہے۔ یہ راز بھی اسی وقت کھلا کہ یہ استاد کا غصّہ تھا ، جو تھکاوٹ کے باوجود ، اس کے آ ثا ر اس معصوم کے چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا۔ وہ بچہ آنسو صاف کرتا ہوا واپس پچھلے کام کو مکمّل کرنے میں لگ گیا۔
پاکستان بچہ مزدوری و ا لے ممالک میں سر فہرست ممالک میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ٣٣ لاکھ پاکستانی بچے ، بچہ مزدوری کے گرداب میں ہیں۔ یہ اس طرز کی کل آبادی کا لگ بھگ دس فی صد ہے۔ ان بچوں کو صحت ، تعلیم ، تحفظ اور بچپنے کے بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا ہے۔ یہ ایک بڑا نمبر ہے۔ ان میں سے تقریباً ستر فی صد زرعی اور اس سے منسلک شعبوں میں کام کرتے ہیں ، گیارہ فی صد صنعتی اور پیداواری شعبوں میں اور باقی بیس فی صد دیگر شعبہ جات میں کام کر رہے ہیں۔
یہ بچے پاکستان میں بھٹہ مزدوری ، قالین بافی ، چوڑی سازی ، زراعت اور کھیتی باڑی میں مدد، ہوٹل مزدوری ، ورکشاپ مزدوری ، چھوٹے کارخانے ، ہنر کی مزدوری جیسے الیکٹریشن ، میکینک ، پلمبر ، سائیکل ، موٹر سائیکل ، اور کار میکنک وغیرہ۔ گارمنٹس فیکٹریز ، لیدر ٹینریز غرض ہر شعبہ ہاۓ زندگی میں اپنی درماندگی ، کم مائیگی ، کم نصیبی ، اپنی عائلی غربت اور ایک غریب ملک میں پیدا ہونے کے جرم کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
 اوپر بیان کی گئی تمام اشکال بچہ مزدوری کی اقسام ہیں لیکن اس تمام کے ساتھ ساتھ یہ بچے بدترین جبری مشقّت ، جبری بھیک منگی ، کچرا کنڈیوں کی مزدوری ، گھریلو تشدّد ، جنسی تشدّد اور استحصال کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے شواہد بھی ہیں جن میں ان کم نصیب بچوں کو کاروباری مقاصد کے لیے جنسی استحصال کے لیے ا ستعمال کیا گیا۔
پاکستان میں بچہ مزدوری اور اس کے تدارک کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ اور ملک میں ان قوانین کے نفاذ کے لیے درکار انتظامی اور قانونی ڈھانچہ بھی دستیاب ہے۔ لیکن وسائل کی موجودگی ، اور وسائل کے مقاصد کے حصول کے لیے ا ستعمال کے درمیان ایک خلا کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان بچہ مزدوری کی لعنت کے خلاف نتائج حاصل کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔
مولانا جلال الدین رومی رح نے ایک بہت ہی خوبصورت اور پتے کی بات کی ہے کہ ہمیشہ انصاف کرو اور چُپ نہ رہو ورنہ یاد رکھو کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قاتل صرف چار لوگ تھے اور غرق پوری قوم ہوئی تھی ، باقیوں کا جُرم صرف اور صرف خاموش رہنا تھا ۔
Facebook Comments HS

محمد سجاد آہیر xxx

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 38 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer