کیا پاکستان سستا ترین ملک ہے؟


اس وقت مہنگائی پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے، مہنگائی نے تھاں تھاں ڈیرے ڈالے ہوئے، جس کی وجہ سے عام آدمی پریشانی کا شکار ہے۔غریب آدمی دو وقت کی روٹی کھانے سے تنگ ہے۔اور دن بدن اس مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا  چلاجارہا ہے۔

رواں ہفتے بدھ کو پاکستان میں جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح یعنی افراط زر(inflation) 11.5فیصد رہی جبکہ اکتوبر میں یہ شرح
9.2فیصد تھی۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تقریبا40 فیصد ہوچکی ہے۔لیکن ہمارے وزیراظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔

روٹی دا سوال اے جواب جے دا روٹی اے
وڈے وڈے لوکاں لئی ایہیہ گل چھوٹی اے

ہردفعہ اورجتنی بار بھی مہنگائی ہوئی ہےاس سے ہمیشہ متوسط طبقہ ہی متاثر ہوا ہے۔امیر کو اس مہنگائی سےآج فرق پڑا ہےنہ کل پڑے گا، پاکستان میں امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہے۔اور غریب مزید غریبی کی طرف دھکیل دیاجاتا ہے، مہنگائی کی اس تیز رفتار چکی میں ہمیشہ غریب ہی پسا ہے۔

مہنگائی نے عوام کی رات کی نیندیں اور دن کا چین غارت کردیا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جس دن مہنگائی کی خبرکانوں سے نہ گزرے، آٹا، گھی، چینی، دال، سبزی، غرض روزمرہ استعمال کی ہر شئے بیچارے غریب کی پہنچ سے اس حکومت نے دور کر دی ہے۔لوگ غربت کی وجہ سےخودکشیاں کررہے ہیں۔

شاید آپکو یاد ہو وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں صحافی پارس جہانزیب کے سوال پر کہا تھا کہ لوگ اگر خودکشیاں کررہےہیں۔ تو ہم کیا کریں، واہ خان صاحب کمال کردیا، آپ کچھ نہیں کرسکتے، گھر توجاسکتےہیں، لوگوں کی زندگی مزیدکیوں اجیرن کررہے ہیں۔ باتیں، بھاشن، تقریریں، لولی پاپ، یہ کردونگا وہ کردونگا، نتیجہ صفر، ہر تقریر میں اپوزیشن پر چڑھائیاں، ملک کوکھا گئےلوٹ گئے، ہر تقریر میں یہی باتیں سن سن کے کان پک گئے، خان صاحب سے بھی یہ بھی کہنا، وہ تو لوٹ گئے، جان چھوڑ گئے، آپ کیا کررہے ہیں۔خدارا غریب کی زندگی آسان کرے، غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اوپر کون بیٹھا ہے، اسے ضرورت کی چند بنیادی چیزیں سستی چاہیئے بس، جو آپ اس میں سراسر ناکام رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب کہے رہے تھے کہ اگر گولی 3 سے7 روپےکی ہو جائے تو کونسی قیامت آ جائے گی، ٹھیک کہتے ہیں، ان کے پاس پیسا، پروٹوکول اور سب کچھ انھیں تب پتا چلے، جب یہ بیمار ہوں، اور ان کے پاس دوا کے پیسے نہ ہو، ویسے ہمارا اپنا ہی قصور جو ان لوگوں کو ہم نے اپنے اوپر مسلط کرلیا، اب بھگتنا تو پڑے گا۔

وزیراظم  نے اب تک مہنگائی پر 25 سے زائد اجلاس بلائے، لیکن مہنگائی مزید بڑھی، بس باتیں کروالوں ان سےاپوزیشن کی پگڑیاں گرانے کی فکر میں یہ حکومت عوام سے بےفکر ہے۔عوام پل پل رل رہی دھکے لےرہی، اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔
انھیں فکر تو اپنی فکر، اپنوں کو نوازنے کی فکر، اپوزیشن کو نیچا دیکھانے کی فکر ضرورہے۔انھیں یہ سب بھول گیا کہ یہ کیا نظریہ لے کے حکوت میں آئے، خان صاحب دوسروں حکمرانوں سے بھی حکومت چلانے میں ناکام ہوئےہیں۔

اب سنا ہے کہ بجلی کا بم پھر گرنے والا ہے، پٹرول سے لیکر مٹی کے تیل تک چینی سے لیکر آٹےتک، دالوں سے لے کر سبزیوں تک، کوئی بم اب باقی  نہیں بچا جو عوام پر اس حکومت نے نہ گرایا ہوں۔

چائے20روپے کی بجائے50روپے کی مل رہی، بازار سے روٹی7روپے کی بجائے14روپے کی مل رہی، دالوں، سبزیوں، آٹا، گھی، چینی، پٹرول سمیت استعمال کی ہر چیز غریب آدمی خریدنے سے قاصر ہیں۔ لیکن وزیراظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے اتنا سستا کہ غریب رل، مر رہے، خودکشیوں پر مجبور، ہر پاکستانی قرضوں کے بوجھ تلے، سفید پوش طبقہ ہاتھ پھیلانے پر مجبور، لیکن پاکستان سستا ترین ملک ہے۔
واہ میرے پرائم منسٹر کیا بات ہے تیری، ناشےاور کھانے میں ون پونی ڈشز دائیں بائیں پڑی ہو، دکھ کبھی قریب نہ آیا ہو، آگے پیچھے لمبی گاڑیاں ہو، توپاکستان سستا ترین ملک آپ کوضرور لگےگا۔خان صاحب آپ بھی پہلے جیسوں ہی کی طرح نکلے، آپکو بھی کرسی کا نشہ آخرچڑھ گیا۔

سستےترین ملک پاکستان کے وزیراعظم صاحب بصد ادب، غریب آدمی کیلئے اشیاءضروریہ کی چیزیں بھی سستی کردیں، تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں، اور پاکستانی عوام بھی یہ کہہ سکیں کہ پاکستان واقعی سستا ترین ملک ہے۔

Facebook Comments HS