بچے اور ہمارا نصابِ تعلیم

سکول کی گھنٹی بجتے ہی بچے سکول کے گیٹ کی طرف ایسی دوڑیں لگاتے ہیں کہ جیسے طویل قید کاٹنے کے بعد مجرم رہائی پا گیا ہو۔ سوچتا ہوں ایسا کیوں؟
کیا ہم بھی طالب علمی کے زمانے میں ایسے ہی تھے؟ تو اس کا جواب ہاں میں ہی آتا ہے کہ کس بے صبری سے ہم چھٹی کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور بالخصوص گرما کی چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی دل کی بہاریں کھل اٹھنا شروع ہو جاتی تھیں۔
ایک طویل زمانہ گزر گیا وہی کیفیت اب بھی نمایاں ہے۔ ہم ایک طویل عرصے گزارنے کے بعد تعلیمی اداروں کو وہ ماحول کیوں نہ دے پائے جس میں بچہ اور استاد دونوں ہی محظوظ ہو پاتے۔ دونوں وقت کی گھتی کو سلجھانے میں جھٹے ہیں۔
بچہ بغاوت پہ کیوں آمادہ ہے؟ تعلیمی اداروں کا ڈراپ آؤٹ ریشو کیوں بڑھتا چلا جا رہا ہے؟ بچے کی اس بغاوت کے حقیقی اسباب اور دیگر عوامل پر کبھی غور ہی نہیں کیا جاتا۔
یقین جانیں تعلیمی نصاب میں نہ ہی بچے کی دلچسپی کا معیار موجود ہے اور نہ ہی پڑھانے کے لیے استاد کی نفسیات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ چند روز قبل میں آٹھویں جماعت کے طلبہ کو اردو کا سبق "تہذیب و ثقافت” پڑھا رہا تھا سبق کا معیار دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اول تو یہ کہ سبق تخلیق کرتے ہوئے مضمون نگار کے پاس باقاعدہ کوئی خاکہ موجود نہیں ہوگا۔ دوم یہ کہ مضمون نگار نے خانہ پوری کی ہے سوم یہ کہ مضمون نگار نے تہذیب و ثقافت کو زبردستی مذہب کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ یقین جانیں 5 مرتبہ سبق دہرانے کے باوجود نہ ہی وہ سبق میرا دماغ کلیئر کر پایا اور نہ ہی ثقافت کے حوالے سے بچوں کا۔
اسی کلاس کے بچوں کو آمنہ علوی کی کتاب "ایک سبق سیکھا” سنایا نہ صرف انہیں کہانی پسند آیا بلکہ کہانی میں مِرگی کے مرض سے متعلق جو خاکہ تھا وہ سب کو سمجھ میں آیا اور تو اور کلاس کی ایک بچی نے اس کا خلاصہ مادری زبان بلوچی میں لکھ ڈالا۔ جان گیا کہ بچے اردو کا سبق کیوں سمجھ نہیں پائے اور کہانی کا خاکہ انہیں کیوں بھایا۔
سوچتا ہوں ہم تعلیمی اداروں کو ایسا ماحول اور ایسی نصاب کیوں نہیں دے پاتے جو بچے بشمول اساتذہ کو اس کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھے۔ میرے خیال میں سیکھنے سکھانے کے عمل کو پیچیدہ بنانے کے بجائے آسان بنا کر ہی ان اسباب کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
Facebook Comments HS

