منشیات کی دلدل میں دھنستا بلوچستان

24 جون 2021 اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم UNODC رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 275 ملین افراد نے منشیات کا استعمال کیا ہے. UNODC کے مطابق پاکستان میں نشہ آور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والوں کی تعداد 67لاکھ ہے۔ ان میں سب سے بڑی تعداد 25 سے 31 برس تک کے افراد کی ہے۔ دوسرا بڑا گروپ 15 سال سے 24 سال تک کی عمر کا ہے تقریبا 42لاکھ ایسے ہیں جو مکمل طور پر نشے کے عادی ہیں۔
26 جون 2021 کو دنیا بھر میں منائے جانے والے "انسداد منشیات کے دن "پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیروئن کی وباء کا آغاز 1982 میں ہوا 1983 میں پاکستان میں ہیروئن کے استعمال کے صرف 4 کیس سامنے آئے تھے۔
افغانستان دنیا بھر کی افیون کا 80 فیصد پیدا کرتا ہے۔ اور دنیا میں برما سب سے زیادہ ہیروئن پیدا کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان میں72 فیصد افغان مہاجرین منشیات کے کاروبار سے منسلک ہیں . افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بلوچستان میں آباد ہے۔ بلوچستان سمگلنگ کا ایک انٹرنیشنل روٹ بھی ہے۔ اس وجہ سے منشیات کے استعمال اور کاروبار میں اضافہ ہورہا ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کو آسانی سے منشیات مل جاتا ہے سرے عام بلوچستان بھر میں منشیات کے اڈے چلائے جاتے ہیں۔ منشیات کے کاروبار سے منسلک لوگوں کی پشت پناہی کی جاتے ہے۔ انہیں معاشرے میں معزز شخصیات دیکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اس وجہ سے وہ اپنی جڈیں اتنی مضبوط کر چکے ہیں کہ کوئی بھی سرکاری افیسر ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرسکتا۔ سیاسی پارٹیاں بھی ان کے خلاف بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور زیادہ تر سمگلر بھی سیاسی جماعتوں کے سپورٹر ہونے کی وجہ سے سیاسی لوگ ان کے اس عمل کی مخالفت نہیں کرتے۔ سیاسی پارٹیاں ان کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ان کو تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلوچستان میں خواتین اپنے گھروں سے نکلتے بھی نہیں تھے لیکن وہ اپنے نوجوانوں کو منشیات کی عادی دیکھ کر وہ مجبور ہوئیں کہ منشیات کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بلیدہ سے ایک تحریک شروع ہوئی منشیات کے قائم اڈوں کے خلاف۔ لوگ روڈوں پر نکل گئے اس میں بہت بڑی تعداد خواتین کی تھی۔
اس تحریک کے اثرات بلوچستان بر میں دکھائی دینے لگے لوگ منشیات پروشوں کے خلاف بات کرنے لگے . لوگ یہ سمجھ چکے کہ ہم ان کو جتنا معاشرے کے اندر برداشت کریں گے اتنا ہی نقصان ہوگا۔ اس وجہ سے بلوچستان بھر میں لوگ ان کے خلاف لکھنے لگے میڈیا بھی ایکٹیو رہی۔ نوشکی میں سمگلروں کے خلاف آواز اٹھائے جانے پر سمگلروں نے بلوچستان یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو قتل کیا تاکہ وہ اپنے کاروبار اور اپنی دہشت کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کی کاروبار اور دہشت کی وجہ سے نوجوان نسل نشے کے عادی ہوچکے ہیں۔
سمگلر اور نشے کے عادی لوگ معاشرتی اور دوسری برایوں سے جڑ رہے ہیں۔ لوگوں کو اغواء کرنا چوری کرنا قتل کرنا یہ سارے کام ان کے لئے معمولی ہیں معاشرے میں ان کے اثرات کی وجہ سے کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔
اس وقت نوشکی, ماشکیل,پنجگور, تربت, گوادر میں سمگلروں کی تعداد کے ساتھ ساتھ نشے سے عادی لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
افغانستان میں اگست میں طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد ترجمان زبیع اللہ مجاہد نے کہا تھا کے افغانستان پوست کی کاشت پر قابو پانے کے لئے متبادل فصلوں کی تلاش کریں گے۔ زمینداروں کو بھی کہا کہ کہ وہ پوست کاشت نہ کریں لیکن طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد وہاں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا افغانستان میں اس وقت سب سے بڑا کاروبار بھی منشیات سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ ہے۔ منشیات بڑی تعداد میں بلوچستان کے راستے یوروپی ملکوں تک جاتا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں افیون سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً 1.8 سے 2.7 بلین ڈالر تک رہی۔ اس وجہ سے طلبان حکومت اس کاروبار کو بند نہیں کرنا چاہتا اس سے ملک اور عوام کی معیشت وابستہ ہے وہ اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے اس کاروبار کو اور وسط دینے کی کوشش کریں گے جس کے اثرات بلوچستان میں منفی ہوں گئے۔ بلوچستان کے عوام منشیات سے منسلک لوگوں کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ آنے والی نسل کو منشیات کے عادی اور معاشرتی برایون سے بچایا جاسکے۔ دوسرے ملکوں کی مفادات کی خاطر ہم اپنی نسلوں کو تباہ نہ کریں۔
Facebook Comments HS

