چودھویں عالمی اردو کانفرنس: علم و ثقافت کا اجتماع

کراچی شہر میں ہر طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ سال کے اختتامی مہینوں میں جب گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔ موسم قدرے خُنکی ماٸل ہوتا ہے۔ تب ادب شناس اور ادب نواز سُخن وران، یوں لگتا ہے کہ جیسے جوش سے بھر جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ادبی تقریبات منعقد ہونے لگتی ہیں ادبی محفلیں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کراچی کی جو نُمایاں ادبی تقاریب ہیں ان میں سے دو بڑی تقریبات سال کے آخِر میں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک عالمی اُردو کانفرنس بھی ہے۔ جو کبھی نومبر کے آخِر میں اور کبھی دسمبر میں ہوتی ہے۔ عالمی اردو کانفرنس وہ ادبی تقریب ہے جو بیک وقت عوام و خواص دونوں کے لیۓ ہوتی ہے یعنی اس کے اجلاسوں میں خواص کی گفت گو سماعت کرنے کے لیۓ عوام کثیر تعداد میں آتے ہیں۔
عالمی اردو کانفرنس کا تسلسل گزشتہ تیرہ برسوں سے ہے اور اِس میں کبھی تعطل نہیں آیا۔ حتّیٰ کہ کورونا کے خوف ناک دنوں میں بھی کہ جب ساری دنیا کورونا کی پابندیوں میں جکڑی ہوٸ خوف کے ساۓ میں زندگی گزار رہی تھی۔ یہ کانفرنس تب بھی ہوٸ تھی۔ کانفرنس کے ضابطوں میں تبدیلی محض اتنی سی ہوٸ تھی کہ ایک تو لوگوں کی شرکت کو محدود کردیا گیا تھا دوسرا یہ کہ بیرونِ ملک سےشرکاء کو نہیں بلایا گیا تھا یوں وہ کانفرنس کچھ مرجھاٸ مرجھاٸ سی محسوس ہوٸ تھی۔ شناسا صورتیں بہت کم نظر آٸیں۔ بیرون ملک دوستوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ بیرون شہر کے بھی اکثر اہلِ قلم حضرات کو آن لاٸن لیا گیا تھا۔ پھر بھی بہرحال کچھ نہ کچھ تو تسلی ہوگٸ تھی۔ خیال تھا کہ کورونا ختم ہوگا تو حالات بہتر ہوں گے اور ایسی محفلیں پہلے جیسے رنگ میں آجاٸیں گی۔ پہلے کی طرح لوگوں کا اجتماع ہوگا۔ گزشتہ رونقیں لوٹ آٸیں گی۔ تو اسی وقت سے اگلی رنگوں سے بھری اور روشنیوں سے سجی اردو کانفرنس کا انتظار شروع ہوگیا تھا۔ اس سال کورونا کا زور کسی قدر کم تو ہوا تھا لیکن اس کی نٸ صورت نے لوگوں کو پھر سے سہمادیا ہے۔ صورت حال اب بھی بہت زیادہ بہتر تو نہیں ہے لیکن لوگوں نے ” کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ” کے مصداق اس موذی مرض کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوۓ، اپنی سرگرمیاں شروع کردیں۔
اردو کانفرنس وہ اجتماع ہے جس کا اِس شہر کے لوگوں کو سب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے۔ اس مرتبہ اردو کانفرنس نو دسمبر سے بارہ دسمبر تک تھی۔ پہلا دن تو سمجھیۓ افتتاحی اور تعارفی اجلاسوں میں ہی گزر جاتا ہے۔ پہلے دِن کی تقاریب سہ پہر سے شروع ہوتی ہیں اور رات تک جاری رہتی ہیں۔ پہلا دن تو افتتاح کی گہما گہمی میں ہی گزر گیا۔ افتتاحی گفت گو میں کانفرنس کے اجلاسوں کے بارے میں بتایا گیا اور ان کے شرکاء کا تعارف کروایا گیا۔ اس دن فیض کے کلام کو کلاسیکی رقص کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا گیا۔ فیض کے کلام کو نۓ فن کاروں نے موسیقی سے آراستہ کر کے حاضرین کی تفریحِ طبع کے لیۓ پیش کیا۔ یہ ایک اچّھی کوشش تھی۔ نۓ فن کاروں کو موقع دینا چاہیۓ ان کی حوصلہ افزاٸ ہونا چاہیۓ تاکہ لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے بارے میں علم ہو۔ دوسرا دن جمعہ تھا اور اسی دن سے صحیح معنوں میں کانفرنس کے اجلاسوں کا آغاز ہوا تھا۔ اردو کانفرنس کے موضوعات اچھے ہی ہوتے ہیں۔ جیسے کہ پہلا سیشن ناول کے بارے میں گفت گو کا تھا۔ جس میں کٸ اہم نام شریکِ گفت گو تھے۔ دوسرے اجلاس کا موضوع تقدیسی ادب تھا۔ جس میں حمد نعت اور مرثیہ وغیرہ جیسے موضوعات پر سیر حاصل اور معلوماتی گفت گو ہوٸ۔
کانفرنس کے دیگر موضوعات میں چاروں صوباٸ زبانوں کے علاوہ سراٸیکی زبان کے بارے میں بھی گفت گو کا اجلاس تھا۔ اس کے علاوہ ناول، افسانہ، نظم جیسے خالص ادبی وضوعات پر گفت گو ہوٸ۔ ساحر لدھیانوی سو برس، مشتاق احمد یوسفی کے سو برس، ادا جعفری کی یاد میں اور بہ یادِ رفتگاں کے لیۓ اجلاس ہوۓ۔ ایک مشاعرہ نۓ شعراء کا دوسرا سینیٸر شعراء کا تھا۔ اردو کانفرنس کے خاص لازمہ ضیاءمحی الدین اور انور مقصود کی گفت گو کے اجلاس ہیں جو ہر سال ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ مزاح کا ایک بڑا نام ڈاکٹر یونس بٹ کا بھی تھا ایک اجلاس ان سے گفت گو کا بھی تھا۔ کتابوں کا تعارف اور کتابوں کی رونماٸ، اس کے علاوہ قوالی، کلاسیکل رقص سے لے کر بچوں کے ادب تک غرض کہ زندگی کے تقریباً وہ تمام موضوعات جن کے بارے میں بات ہونا چاہیۓ، ان سب پہ اس کانفرنس میں بات ہوتی ہے۔
ایسے میلے اور تقریبات عوام کی ادبی تربیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ خاص کر ہماری نٸ نسل کو تو بہت ضرورت ہے کہ انھیں ایسے اجتماعات میں شریک کیا جاۓ۔ ان میں جن موضوعات پہ بات ہوتی ہے اور جیسی بھرپور گفت گو ہوتی ہے وہ ادب کے طلب گاروں کے لیۓ بہت دل چسپی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسی تقریبات لوگوں میں ادب کا ذوق پیدا کرتی ہیں اور صاحبانِ ذوق کی تسکین کرتی ہیں۔
درحقیقت اردو ادب میں مختلف موضوعات پر اس قدر کام ہے جو عام لوگوں کی نظر سے اوجھل ہے اور ابھی تک اسے سامنے نہیں لایا گیا ہے یا یوں کہہ لیجیۓ کہ ان پہ بات نہیں ہوٸ ہے اگر ہوٸ بھی ہے تو بہت کم۔ جس طرح ہونا چاہیۓ اس طرح نہیں ہوٸ ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں بھی اردو کانفرنس میں ایسے ہی اچھے موضوعات پر ان پہلوٶں پہ گفت گو و مباحث کرواۓ جاتے رہیں گے. جن پہ بات ذرا کم کم ہوٸی ہے اور جن سے عوام کے علم میں اضافہ ہو ۔ موضوعات یہ سب ہی بہت اچّھے ہیں اور ان پہ مزید کٸ جہتوں اور کٸ زاویوں سے بات کرنے کی گنجاٸش ہے اور بہت گنجاٸش ہے۔ یقیناً آٸندہ سال اور اس کے بعد بھی اردو کانفرنس میں ایسے ہی عمدہ موضوعات کے عمدہ نکات پر ہم علمی گفت گو سے مستفید ہوں گے۔
Facebook Comments HS

