کارونجھر کی کٹائی: عدالتی حکم سے ایف ڈبلیو او اور نجی کمپنی کو پتھر کاٹنے سے روک دیا گیا


کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ
پاکستان کے ضلع تھرپارکر کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او اور ایک نجی کمپنی کو ننگرپارکر میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی سے روک دیا ہے۔

کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی ماہ سے #SaveKaroonjhar مہم جاری ہے اس کے علاوہ ننگرپارکر سے لیکر اسلام آباد تک احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ ننگرپارکر کرم علی شاھ نے مقامی اور بین الاقوامی قوانین، آئین پاکستان سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر اپنا فیصلہ جاری کیا، جس میں انھوں نے فیض احمد فیض کی نظم کا حوالہ بھی دیا۔

’مِٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے‘

اس درخواست میں پاکستان فوج کے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او، کوہ نور ماربل انڈسٹری، سندھ پولیس، محکمہ جنگلی حیات، جنگلات، نوادرات اور ثقافت اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایف ڈبلیو او اور کوہ نور کمپنی کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ دعوی کرتے ہیں کہ قانونی طور پر یہ عمل جاری ہے جبکہ آپ نے لیز کے معاہدے، سروے رپورٹس، حدود یا اس کی شرائط سمیت کوئی اور دستاویز ظاہر نہیں کیں اور اس کے علاوہ محکمہ ماحولیات، محمکمہ جنگلی حیات، محکمہ ثقافت اور نوادرات اور پاکستان کی وزارت دفاع کا این او سی جو کام شروع کرنے سے پہلے لازمی شرط ہے، پیش نہیں کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس تباہ کن فعل پر آنکھیں بند کر کے نگرپارکر کے مکینوں کو خاموش اور بنیادی حقوق سے محروم کر کے ظالموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ واضح ہے کہ پہاڑ کاٹنے کے اس عمل نے لوگوں میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کردی ہے، یہاں تک کہ یہ مقامی لوگوں کی زندگی کے لیے بھی خطرہ بنا ہوا ہے اور یہ ہمہ گیر خوفناک منظر نامے کی خالص شکل ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے عدالت میں یہ حقائق بیان ہو چکے ہیں کہ ایف ڈبلیو او اور کوہ نور ماربل نے سٹون کٹنگ اور لفٹنگ پلانٹس لگائے ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ سیاحت کا خالص مرکز ہے اور مقامی باشندوں کے لیے آمدنی اور ذریعہ معاش پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

سندھ کے کالی داس ڈیم کا نام بدل کر ستی ہونے والی رانی بھٹیانی کے نام پر کیوں رکھا گیا؟

سندھ سے جین مت کی 700 سال پرانی مورتیاں برآمد

’گھبرا کر تصاویر ہٹائیں، تفصیلات کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں گے‘

عدالت نے دونوں فریقین کو ہدایت کی ہے کہ اپنی مشنری سائیٹ سے ہٹائیں، جو ٹرک لوڈ ہیں انھیں خالی کیا جائے جبکہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع میں چیک پوسٹ لگاکر جہاں سے بھی پتھر لدا ہوا ٹرک نظر آئے اس کو آف لوڈ کیا جائے۔

کارونجھر کہاں ہے؟

مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر واقع ہے، کارونجھر پہاڑی نے اس شہر کو جیسے گود میں لے رکھا ہے۔ سرخ گرینائیٹ پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔

کارونجھر میں ہندو مذہب کے کئی استھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی موت کے بعد چتا جلائی جاتی ہے۔

کارونجھر

بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوؤں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈو بھائی اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے اور ان کے نام سے پانی کے تالاب اب تک موجود ہیں۔

ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔

کارونجھر کے پہاڑ میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے، جبکہ انڈین باڈر کے قریب چامونڈکا ماتا کا مندر ہے جس کو چوڑیو بھی کہا جاتا ہے اور اسے پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد مندر کہا جاتا ہے۔

انگریز فوج نے کرنل تڑوت کی سربراہی میں یہاں سوڈھا ٹھاکروں کے ساتھ جنگ لڑی تھی جس میں کولہی کمیونٹی کا سپہ سالار روپلو گرفتار ہوا اور اس کے بعد اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

کارونجھر کے آس پاس زمین زرخیر ہے یہاں پیاز کی اچھی فصل ہوتی ہے بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے یہاں متعدد ڈیم بھی تعمیر کیے گئے ہیں، بارش کے دنوں بالخصوص اگست میں یہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ کارونجھر کی کٹائی سے نہ صرف یہاں کی خوبصورتی، سیاحت اور ثقافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ڈیموں میں پانی ان ہی پہاڑوں کے ذریعے جمع ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp