ٹائپنگ امتحان اور سفری روداد
یہ کوئی 24 یا 25 نومبر کی شام تھی اور ٹیسٹ سے مبلغ درجن بھر دن باقی تھے کہ ایک عدد برقی تار موصول ہوتا ہے، جس کی بابت یہ معلوم ہوا کہ وہ جو 3 برس قبل پبلک سروس کمیشن کی ملازمت بنام Service Center Facilitator کی خاطر ہم نے ایک درخواست بذریعہ انٹرنیٹ ارسال کی تھی، اور اس کا Written Test جو کہ پچھلے برس جولائی یا اگست میں شاید ہوا تھا، اس کے پاس ہونے کے بعد ایک اور ٹائپنگ کی مہارت کا ٹیسٹ ہونا باقی تھا، جس سلسلے کا یہ تار تھا۔
خیر ٹائپنگ سے واقفیت تو قریب سن 2000 ء سے تھی لہذا قلبی اطمینان تھا کہ ٹائپنگ کون سی کوئی راکٹ سائنس ٹھہری، بس یوں وں، اے، ایس، ڈی، ایف، سیمی کولن، ایل، کے اور جے کی ہی تو روانی کا نام ٹائپنگ ہے اور اگر اس کی مہارت کی خاطر ایک مشہور جملہ بھی ٹائپنگ کی رفتار کو بڑھانے کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ A quick brown fox jumps over the lazy dog
خیر دسمبر 7 کو اس امتحان کے لیے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور پہنچنا تھا، گویا ایک اور نیا جنم سامنے تھا، اور اوپر سے کالج کی مصروفیات یعنی کالج سے رخصت بھی درکار تھی۔ جی میں آیا کہ چھوڑ ہی دیں یہ ٹیسٹ مگر دل کو اطمینان نہ تھا کہ نتیجہ کچھ بھی ہو مگر موقع ترک نہ کیا جائے۔ اس خاطر فیصل موور کے کال سنٹر سے 6 دسمبر 2021 کی ٹکٹ آن لائن بک کروا لی۔ پھر وہ دن آ ہی گیا جس کی رات کو قریب 11 بج کر 30 منٹ پر زندہ دلان کے شہر کی جانب روانہ ہونا تھا۔
لاہور کے جغرافیے سے تو آپ لوگ شاید آشنا ہوں گے ہی، اگر نہ بھی گئے ہوں تو کم سے کم گیارہویں جماعت کی اردو کتاب میں پطرس بخاری کے مضمون ”لاہور کا جغرافیہ“ یا تو پڑھا ہی ہو گا یا پڑھ لیں گے۔ بہر کیف، رات کی تاریکی اپنی جگہ، مگر سردیوں میں رات کی خنکی بھی ایک زبردست رومانیت رکھتی ہے۔ اب جناب کوئی رات کے 11 بجے فیصل موور کے ٹرمینل پہ پہنچ گئے۔ اس بار یہ ٹھانی تھی کہ شہر لاہور خالی ہاتھ ہی جائیں گے تو لہذا اس ضمن میں کوئی چیز سوائے پیسے، ہال ٹکٹ، اور سفری کاغذات کے کچھ ساتھ نہ لیا۔
گاڑی قریب 11 بج کر 20 منٹ پر اپنی جگہ پر آن پہنچی اور ہم چونکہ سارا دن کی تھکان کی وجہ سے اس کوشش میں تھے کہ بس اب بس میں جائیں اور کمر سیدھی بلکہ ٹیڑھی ہی کر لیں بجائے ادھر ادھر ٹہلنے کے۔ لہذا گاڑی میں بیٹھ ہی گئے۔ سیٹ ایگزیکٹو کلاس کی تھی، اور ایگزیکٹو کلاس میں حوروں کا وارد ہونا فطری سا عمل لگتا ہے سو، وہاں ہمارے آجو باجو تقریباً 6 عدد حوریں نصف جن کے 3 ہوتی ہیں آ وارد ہوئیں اور ہمارے ارد گرد براجمان ہوئیں، شاید لاہور میں کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔ ان کی حرکات و سکنات اور طبعیت کے چلبلے پن سے لگ بھی رہا تھا۔ خیر وقت کی گنجائش کی کمی کے سبب سارا دن مصروف گزرا لہذا ہم نے حوروں کو اقبال کے مصرعے کے مصداق
؎ اور بیچارے مسلمانوں کو فقط وعدۂ حور
نظر انداز کیا اور لمبی تانے سو ہی گئے۔ بیچ بیچ میں ڈرائیور صاحب جو کہ شاید اس سمے کسی پائلٹ سے کم نہ لگ رہے تھے، ان کی بے جا بریکوں کے سبب آنکھ کھل جاتی اور خوف سا بھی آتا کہ، پائلٹ میاں شاید کسی جنگی قافلے کے تعاقب میں تھے۔ اور ویسے بھی ایک مدت ہوئی ہے کہ پبلک سروس پر سفر کم ہی کیا، کیونکہ جس طرح ایک فقیر کو دوسرا فقیر ناپسند ہوتا ہے تو ہمیں بھی اپنی ڈرائیوری پہ ناز ہے تو ہمیں کیسے آنجناب کی ڈرائیوری پسند کرتے۔
خیر صبح سویرے پنجاب کے دارالخلافہ پہنچ ہی گئے اور یہ کوئی تقریباً 4 بج کر 30 منٹ کا وقت تھا۔ اب کیا جناب ہاتھ بالکل خالی ہی تھے اور اس بار تو یہ بھی سوچا کہ کوئی شیو ویو نہیں کرنی اور نہ ہی نہانے کی حاجت ہوئی البتہ ہاتھ منہ دھو فریش ہو کے ایک پختون ہوٹل پہنچ گئے۔ جہاں پر ناشتہ کرنا تھا، تو وہاں پر ایک عدد لچھے دار پراٹھا، ایک چنے کی پلیٹ اور 2 عدد چائے سے ضیافت کی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ وقت سے پہلے کسی انجان جگہ پہ پہنچنے کے بعد وہاں پر انتظار کرنا بھی کوئی مناسب عمل نہی، پر مرتا کیا نہ کرتا، کرنا پڑا انتظار۔
جیسے تیسے کر کے کوئی ساڑھے چھ بجے وہاں تک کیے۔ دوسری جانب اس بار ہر قسم کے پروٹوکول کو اس غصہ کی وجہ سے ترک کیا ہوا تھا کہ صاحب ایک مدت سے شہر شہر جا جا کے ٹیسٹ انٹرویو دیے جا رہے ہیں، یعنی بے جا خرچہ ہی ہوا چاہتا ہے، پر روزی روٹی کا حصول ندارد۔ لہذا کسی ٹیکسی یا رکشے یا پھر اوبر ووبر پہ مزید لکشمی کو ضائع کرنے کا کوئی پر گرام نہ تھا۔ اس لیے پہلے ایک ویگن میں بیٹھے جس نے آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد عین داتا صاحب کے دربار پر پہنچا دیا۔
داتا صاحب کو باہر باہر سے سلام کیا اور پھر دوسری ویگن کی تلاش جاری کی کہ جس نے حقیقی منزل مقصود پر پہنچانا تھا۔ اس طرح داتا دربار کی مخالف سمت میں ٹھہری ویگن نمبر 106 میں بیٹھے جس نے ایل ڈی اے تک پہنچانا تھا اور اس میں بھی سواریاں مکمل ہونے کے پیش نظر کوئی آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا، اور پھر ہم ویگن کے مکمل بھر جانے کے بعد ایل ڈی اے کی جانب رواں دواں ہوئے اور شاید کوئی 8 بجے کے قریب کسی چوک پہ اس نے اتار دیا اور سمت دے دی کہ 2 منٹ کی واک پر ایل ڈی اے کا آفس آ جائے گا، جو کہ بالکل جھوٹ تھا کوئی 15 منٹ کی پیدل مسافت کے بعد وہ منزل آ ہی گئی جس کی خاطر پچھلی رات 11 بجے سے گھر سے نکلے تھے اور کوئی 10 گھنٹے کی اس طویل کار گزاری کے بعد وہاں پہنچ گئے جہاں امتحان ٹائپنگ ہونا قرار پایا تھا۔
اب صاحب ذرا وہاں کا منظر سننے سے پہلے ایک اور بات بھی بتاتا جاؤں کہ لچھے دار پراٹھے نے سینے میں چلن تو شروع کر ہی دی تھی ساتھ ہی بد ہضمی کا بھی دور دورہ تھا تو اس کا سد باب ہم نے رستے میں فلیٹی ہوٹل کے سامنے ایک کھوکھے والے سے ایک عدد چائے کے کپ پینے سے کیا۔ پھر جب پبلک سروس کمیشن کے ادارے پہنچے تو وہاں پر یہ جان کر اور زیادہ کوفت ہوئی جب یہ پتہ چلا کہ صاحب آپ کوئی بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔ ابھی نہ تو آفس کھلا ہے اور نہ ہی آفس والے برآمد ہوئے ہیں۔
سو وہاں پر پھر انتظار کی سولی چڑھنے کی ایک الگ اننگ شروع ہوئی۔ اب وہاں بیٹھ کر اتنا تو مطمئن تھے کہ جس سوئے دار کی جانب نکلے تھے وہاں پہنچ گئے اور اب اگلا مرحلہ جس کو عرف عام میں امتحان نامی شے سے گردانا جانا جاتا ہے۔ پہلے پہل تو آفس میں جا کر بیٹھے جہاں پر مختلف شہروں سے لوگ مختلف امتحانات یا پھر انٹرویو دینے کی خاطر آئے ہوئے تھے۔ سب لوگ بڑے ٹشن ٹائیٹ ہو کر آئے کوئی 2 پیس تو کوئی 3 پیس میں ملبوس تھا۔
مردو زن کا کٹھ ہوا جا رہا تھا۔ پھر اچانک کسی نے آواز کی کہ تمام خواتین اپنا سامان اور موبائل جمع کروا دیں۔ پھر جب وجود زن اس فریضے کو انجام دے چکیں تب مردوں کی باری لگی۔ موبائل جمع ہو چکا پھر کمپیوٹر لیب کی جانب روانگی کا آرڈر آ ہی گیا۔ یہاں پہنچے تو اصل امتحان سے پہلے ایک اور امتحان سے پالا پڑ گیا کہ جناب ابھی دیر ہے سو انتظار کیجیے۔ پھر وہی ہوا اور کوئی گھنٹہ بھر اور منتظر وفا ہونا پڑا کیونکہ حکومتی داماد بنے کے لیے جتنے پاپڑ بیلنے پڑیں بیل لیجیے۔ اللہ اللہ کر کے انتظار کی گھڑیاں بالآخر اختتام کو پہنچیں۔ لیب میں گئے اور کمپیوٹر کا کی بورڈ سیدھا کر کے انگلیاں سیدھی کرنے کی سعی کرتے رہے کہ یہ دیرینہ جد و جہد کام آ جائے۔ پھر وہ انگریزی کا جملہ کوئی پچھتر بار لکھنے کی کوشش کی، کہ
A quick brown fox jumps over the lazy dog
ویسے انگریزی ہی کی ایک ضرب المثل بھی ہے کہ
Every dog has a day
یعنی ”ہر کتے کا دن آتا ہے“ ، اور یقین کریں اس لسٹ میں کوئی 169 ایسے تھے جو اس محاورے کو سچ کرنے کی غرض سے زندہ دلان کے شہر موجود تھے، اور ان میں سے ہر ایک نے کوئی مبلغ 5000 روپے نصف جن کے 2500 ہوتے ہیں اس دن کی خاطر خرچ کیے ہوئے تھے، جس کا انتظار ہر کتا کر تا ہے، میری گزارش ہے کہ اس ضرب المثل کو صرف ضرب المثل ہی لیا جائے، ضرب دل نہ لیا جائے۔
وہاں بیٹھے بیٹھے اپنے ہی شہر کے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی اور دل رنجیدہ بھی کہ جانے کب ہوں گے کم، اس دنیا کے غم۔ لیں جناب ٹیسٹ کی گھنٹی بج گئی اور پھر سب سے پہلے ٹائپنگ کی رفتار کا ٹیسٹ ہوا جس کی حد فاضل 30 لفظ فی منٹ تھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے 5 منٹ بھی ہو لیے، اور ہمارے گروہ سے کوئی ہم 4 بندے ہی نکلے جن کی رفتار حد فاضل کو پار کر گئی اور باقی ماندہ لوگ شاید سفری رفتار کے سبب تھکن کا شکار تھے اور وہ اس حد کو پار نا کر سکے، ایسے میں غالؔب کا ایک مصرعہ یاد آیا کہ،
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو؟
اس مصرعے کا ورد کرتے ہوئے ہمارے گروہ کے وہ افراد جن کی حد فاضل کمپیوٹر مہاراج کی حد فاضل سے میل نا کھا سکی، وہ روانہ ہو گئے۔ لہذا ان کو لال جھنڈی دکھا دی گئی اور وہ واپس وہی کو کوچ کر گئے جہاں سے آئے تھے، گویا، ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ ۔ جیون ایک سنگھرش ہے، اور ساغر صدیقی بھی تو کہتے تھے،
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
اب ہم 4 بندوں کو پھر سے ایک نئی جنگ پر لگا دیا گیا۔ جس میں کمپیوٹر مہاراج کی باقی ماندہ دفتری ایپلیکیشنز (ایم ایس۔ آفس، ایکسل، پ اور پوائنٹ) پر کام کرنے کی مہارت کا امتحان دینا تھا۔ اب یقین مانیے میرا تو واقعی میں یہ امتحان بھی کمال کا ہوا باقیوں کی وہ ہی جانیں، کیونکہ، جس تن لاگے۔ سو تن جانے، ہم اس بارے کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ خیر دنوں ٹیسٹ اس امید کے ساتھ دیے کہ اب کے ہار نہیں ماننی کچھ بھی ہو یہ موقع حاصل کرنا ہی ہے۔
جب سارا کچھ کر کرا لیے تو وہاں موجود اصحاب کے سب سے بڑے صاحب سے بتانا چاہ ان کے سامنے ایک مدعا رکھنا چاہا تو پھر سب یک زباں ہو گئے اور حسب معمول تقریر کی لذت کا ذائقہ ہم کو ہی چکھنا پڑا اور پھر بلا تامل اور تردد اپنے تحفظات کا پنڈورا کھول دیا اور ایک بڑے مسئلے پر ارباب اختیار کی توجہ طلب کی۔ وہ مسئلہ یہ تھا کہ، ہم نے ان سے کہا، سر ہم 169 بندے ایک ہی شہر کے ایک ہی امتحان دینے کی خاطر اس بے روزگاری کے عالم میں 5000 فی نفر ضائع/خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں، اب اگر ہم میں سے جو بھی آپ کی امیدوں پہ پورا اترے اس پہ ایک احسان کیجئے گا کہ اسے لاہور یہاں اپنے ہیڈ آفس بلانے کی بجائے وہیں اپنے ریجنل آفس میں ہی انٹرویو کر لیجیے گا۔
اس سے کم سے کم آپ کی اتنی مہربانی ہو گی کہ ہم مزید ادھار پیسے لے کر گنگا کو نہ نچوائیں۔ کیونکہ بات تھی بھی درست اور لاجیکل بھی تھی کہ آفس بھی موجود ہو، اور لوگ بھی تو کیا ضروری ہے کہ پوری ٹیم کو وہاں الگ الگ خوار کر کے بلایا جائے، اس سے لاکھ بہتر کہ ارباب اختیار اپنا نمائندہ وہیں کیوں نہ ارسال فرما دیویں۔
خیر اب اس دفتر سے واپس نکلنے کا سمے تھا، ہم بھی کوئی پیش گو قسم کے انسان واقع ہوئے ہیں، واپسی کی ٹکٹ بھی پہلے سے بک کرا رکھی تھی، کیونکہ جیسے تیسے 7 نومبر کو ہی واپس پہنچنا تھا، لہذا کال کر کے ٹکٹ بک کرا لی تھی۔ بس پھر دفتر سے واپس اڈے کی جانب ہوئے، لیکن اب کی بار پروٹوکول درکار تھا کیونکہ ٹکٹ کا وقت 1 بجے کا تھا اور ہم دفتر سے پونے بارہ بجے فری ہوئے۔ دفتر اور اڈے کے بیچ کا سفر اگر راہ ہموار ہو تو کوئی 25 منٹ کا تھا لیکن لاہور میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک نقل مکانی کو ایک یوم درکار ہوتا ہے۔
تو ایسے میں ویگنوں کے دھکے نا صرف نا مناسب تھے بلکہ غیر ضروری تھی۔ وہیں سے ہی ایک اور امیدوار جس نے بھی آج ہی واپسی کرنی تھی ہم دونوں اکٹھے ہو لیے اور رکشے پہ سوار ہوئے۔ رکشے والا بھی بلا کا زود مزاج تھا، صاحب کوئی 25 ہی منٹ میں اس نے اڈے پہ پہنچا دیا اور پھر ہم نے وہاں پہنچتے ہی پہلے ٹکٹ خریدی تا کہ اپنی سواری کنفرم کر لیں۔ پھر اس کے بعد کچھ اور کیا جائے۔ خیر ٹکٹ خریدی اور ابھی 20 منٹ رہتے تھے تو سوچا کہ کچھ تھوڑا بہت کھا لیا جائے تا کہ کہیں پہ کچھ بھوک کا احساس نہ ہو دوران سفر۔
پھر اسی پختون ہوٹل کا رخ کیا، وہاں ویٹر کو بلایا تو اور مینیو کا استفسار کیا۔ اس نے ہمہ قسمی گوشت کی ڈشز بتا دیں۔ اب آپ خود سمجھدار ہیں، لاہور، ہوٹل اور۔ گوشت، نا جی نا، ہم نے اس سے کہ خان صاحب دالوں میں بتاؤ کیا کیا ہے۔ خیر سے دال منگائی، ایک آدھ روٹی بھی اور پھر چائے بھی۔ کھانے کا چنداں شوق نہیں، محض جینے کی راہ تک اور کچھ نہیں۔
اس ساری کارگزاری میں یہ تو بتانا بے سبب نہیں کہ، اس سرگرمی میں یعنی سفر، حضر، امتحان، کھابے اور پھر سفر کے دوران محض بدن ہی بے سدھ نہ تھا بلکہ ذہن بھی یا تو خالی یا پھر بھرا ہوا سا لگ رہا تھا۔ گاڑی میں بیٹھے، واپس ہو لیے، کچھ دیر سفر میں سو گئے، کچھ دیر جاگ گئے، کبھی کوئی فلم دیکھی، لیکن واپسی کے سفر میں سکون نہیں ملا، کیونکہ ساتھ والی سیٹ پہ پاپا کی مما کے کزن کا بیٹا بیٹھا ہوا تھا۔ تو آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہو، کہ جب کوئی رشتے دار کسی سفر میں مل جائیں اور ان کے دکھ سانجھے ہوں بلکہ کسی ایک ہی انسان کی وجہ سے ہوں تو کیسے کیسے اس ظالم پہ سنگ باری نہ ہوئی ہوگی۔ رہی بات ٹیسٹ کے نتیجے کی، تو یقین مانیے نومبر 10، 2021 سے آج کی تاریخ تک جو کہ دسمبر 25 ہے روز ای میل چیک کیے جا رہے ہیں کہ شاید آج کوئی انٹرویو کا بلاوا آیا ہو۔ لیکن ندارد!


