دھوپ چھاؤں سی۔ شمائلہ

صفحۂ ہستی پہ وارد مخلوق خدا بہ وجوہ کسی خاص مقصد، دھرتی کے سینے پہ وزن دراز ہیں۔ مخلوق خدا کے بے ہنگم اجتماع میں واحد اشرف مخلوق نے ایک طرفہ تماشا بپا کیا ہوا ہے۔ کوئی خوش تو کوئی غمزدہ، کوئی پرسکون تو کوئی بے زار، کوئی اعلیٰ تو کوئی آلہ کار۔ بعضے تو ایک جوش تغافل یا پھر تجاہل کامل کا طوفان لیے پھرتے ہیں، اور بعضے سینۂ دھرتی کی شش جہاتی تعمیر اور اسے سنوارنے سجانے کے

Read more

ایک تھا منٹو۔ ایک ہوا منٹو

کاملان فن جستجو ادب میں محو، شعور کی رو اور ادب کی خدمت گزاری میں ہمہ تن مشغول عمل دکھائی پڑتے ہیں۔ قدیم ایتھنز نے بلا شبہ مغربی ادب کو شعور کی ارتقاء سے روشناس کرایا، اور بڑے بڑے فنکار اور ادیب پیدا کیے۔ ان ادیبوں نے ادب کی مختلف جہات یعنی اصناف کو بروئے کار لاتے ہوئے کلاسیک انواع کے فن پارے پیش کیے۔ وہیں مشرق نے بھی ادب کی خاص طور پر پذیرائی کی اور بڑے مایہ ناز

Read more

ٹائپنگ امتحان اور سفری روداد

یہ کوئی 24 یا 25 نومبر کی شام تھی اور ٹیسٹ سے مبلغ درجن بھر دن باقی تھے کہ ایک عدد برقی تار موصول ہوتا ہے، جس کی بابت یہ معلوم ہوا کہ وہ جو 3 برس قبل پبلک سروس کمیشن کی ملازمت بنام Service Center Facilitator کی خاطر ہم نے ایک درخواست بذریعہ انٹرنیٹ ارسال کی تھی، اور اس کا Written Test جو کہ پچھلے برس جولائی یا اگست میں شاید ہوا تھا، اس کے پاس ہونے کے بعد

Read more

کہانی ایک کوزہ گر کی

(ریل کی پٹڑیوں کے پارمضافات میں گاؤں آباد ہے۔ ہر طرف ایک عجیب سی چیختی ہوئی خاموشی، راستوں پہ ہر طرف کیچڑ، بارش کا پانی نہ جانے کب سے ٹھہرا ہو ا ہے اور اس پانی کے کناروں پر کائی جمی ہوئی تھی۔ چھوٹے چھوٹے مینڈک تیزی سے پھدکتے ادھر سے ادھر جاتے اور ٹروں ٹروں کرتے ہوئے اس بے جان خاموشی کو چڑھاتے تھے۔ فیروزاسی بستی میں ایک جھونپڑی میں رہتا تھا۔ پیشے سے وہ ایک کوزہ گر تھا۔

Read more

ذات پات اور چھاتی ٹیکس

اسے اپنی ذات کے ہونے کا احساس تھا، وہ اپنے ہونے کو دنیا کے کسی بھی مشروط قانون کے تحت باندھ نہیں سکتی تھی۔ اکھنڈ بھارت میں بسے مختلف دیہاتوں کے لوگ، ذات پات، بھید بھاؤ کی مشکلوں سے نبردآزما رہتے تھے۔ صدیوں پرانی بات ہے کہ اسی اکھنڈ بھارت کے جنوب کے کسی گاؤں میں ناولٹی نام کی خاتون اپنے شوہر ہریش کے ساتھ رہتی تھی۔ اس گاؤں کا ایک بہت ہی عجیب بلکہ ذلت آمیز قانون رائج تھا۔

Read more