رادھا کو ناچنے دیں


انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس کا نہ ماضی سے تعلق ہوتا ہے نہ تاریخ کا مطالعہ، نفسیات، انسان، انسانی اقدار، دنیا اور مستقبل سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ ایک باقاعدہ ذہنی مرض ہے۔
حال میں ہی سارے گاما کمپنی کو اپنے ایک گانے کے بول واپس لینا پڑے جو یوں تھے۔
” مدھوبن میں رادھیکا ناچے رے“
جس شاعر پر الزام ہے کہ اس نے یہ بول استعمال کر کے مذہبی حلقوں کو رنجش پہنچائی ہے۔
یہ بول اس بے چارے کے ہیں ہی نہیں۔
1960 میں ریلیز ہونے والی فلم ”کوہ نور“ کے شاعر شکیل بدایونی نے ایک مشہور گانا لکھا۔
” مدھو بن میں رادھیکا ناچے رے۔
گردھر کی مرلیا باجے رے ”
یہ بول شکیل بدایونی کے بھی نہیں ہیں۔
یہ ایک ترانے سے inspired بول ہیں
ایک محاورہ تو سنا ہو گا۔
”نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی“
یہ محاورہ بھی بخدا کسی کی شرارت نہیں۔ زبان زد عام بات ہے تبھی محاورہ بنا۔
آئیے ذرا دیکھیں آرٹ، لٹریچر اور فن کا رادھا کے ناچنے سے کیا تعلق ہے؟

رادھا یا رادھیکا ہندو دیومالائی داستانوں کا ایک بہت حسین و دلچسپ کردار ہے۔ رادھا سراپا محبت ہے۔ رادھا سراپا قربانی ہے۔ رادھا عورت کی محبت اور devotion کا استعارہ ہے۔

رادھا کو شری کرشن سے محبت ہو جاتی ہے جو شہزادے ہیں۔ رادھا کی سیتا کی طرح باقاعدہ شادی نہیں ہو پاتی کرشن سے۔

رادھا کی کرشن سے بے پناہ محبت اور اس کی شوخ و چنچل اداؤں نے ہمیشہ آرٹ کو کسی دوسری دیوی کے مقابل زیادہ متاثر کیا۔

ہندو scriptures کے مطابق شری کرشن اور رادھا کی نوک جھونک، چھیڑ خانی چلتی رہتی ہے۔ کرشن کے آگے پیچھے گوپیاں پھرتی ہیں جو رادھا کی سہیلیاں ہیں جن میں کرشن کی دلچسپی بھی ہے، ان سے تعلق ہے لیکن یہ تعلق رادھا کے عزم کو کم نہیں کرتا۔ رادھا کی خود اعتمادی اور بھروسا کمال کا ہے۔ کرشن جب گاؤں چھوڑ جاتے ہیں رادھا جنگلوں میں نکل جاتی ہے۔

انگریز پروفیسر ڈی ایم ولفف جن کی ہندو مذہب، بنگال کی تاریخ اور داستانوں پر ریسرچ ہے کہتی ہیں۔

”Radha is both the“ consort ”and“ conqueror ”of Krishna and that“ metaphysically Radha is understood as co-substantial and co-eternal with Krishna. ”

یعنی رادھا کرشن کا جزو بن گئی اپنی محبت اور وفا کی بدولت

ہندو داستانوں کے مطابق ایک رات شری کرشن بانسری بجاتے ہیں تو رادھا کی سہیلیاں ( گوپیاں ) اپنے گھروں سے نکل آتی ہیں۔ رادھا بھی آجاتی ہے۔ پھر وہ رادھا کے گرد گھیرا ڈال لیتی ہیں۔ کرشن بانسری بجا رہے ہیں۔ رادھا ناچ رہی ہے۔ کرشن اپنی دیومالائی طاقت سے اس رات کو ساڑھے چار ارب سالوں پر محیط کر دیتے ہیں۔

یہ رات رس لیلا کہلاتی ہے۔
رس لیلا کہلاتی ہے۔
” رس“ یعنی جمالیاتی۔
”لیلا“ یعنی کھیل۔
یہ مرد و عورت کے درمیان محبت خاص کر وفا اور عقیدت کا رقص ہے۔
یہ دار فانی میں ایک دوسرے کی موجودگی کا جشن، عشق لاحاصل و حاصل کا رقص ہے۔

یہ ایک دوسرے میں ضم ہونے کی خوشی، ساتھ وقت گزارنے کے خمار، زندگی کی پیش کردہ جمالیات سے لطف اندوز ہونے کا رقص ہے۔

یہ محبت و وفا کی دیوی کا اپنے دیوتا کے لیے رقص ہے۔
دنیا پہلے ہی نفرت، تشدد، افلاس، بے حسی، فریب، خون و دھوئیں سے بھری ہے۔
اس تکلیف سے بھری دنیا میں
کم از کم
رادھا پر پابندی نہ لگائیں۔
رادھا کو ناچنے دیں

Facebook Comments HS