وقف قانونی ترامیم یا غیر قانونی قبضہ

بی جے پی کی حکومت نے احتساب اور شفافیت کا نعرہ لگاتے ہوئے حال ہی میں متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2025 منظور کیا ہے، جس کے تحت بھارت میں مسلم وقف املاک کے انتظام و انصرام میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بھارتی حکومت جو مرضی توجیہ دے، لیکن ہر صاحب نظر دیکھ سکتا ہے کہ ان ترامیم کے ذریعے حکومت کا بنیادی مقصد بھارتی مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں مزید دیوار سے لگانا ہے۔ بھارت میں

Read more

ڈاکٹر حامد عتیق سرور – ستارہ امتیاز 2025

ڈاکٹر حامد سے پہلی ملاقات سنہ 2011 میں سول سروس اکادمی میں معاشیات کی کلاس میں ہوئی۔ یہ مضمون ہمیں کبھی پسند نہ تھا اور پڑھانے والے کے بارے میں بھی یہی جذبات تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں اکنامکس پڑھاتے رہے اور ہمیں یاد نہیں کب ہم نے انہیں غور سے سننا شروع کیا، اتنا سمجھ بھی آنے لگا کہ کلاس میں ہونے والے تدریسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کلاس میں چند فقرے کَس کر، لطیف

Read more

وائرل اُووو اور فلسفہِ اُووو

حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں صرف لفظ ”اُووو“ وائرل ہو گیا۔ بقول ان کے یہ جاپانیوں کے احتجاج کا ایک طریقہ ہے کہ وہ کام جاری رکھتے ہوئے ”اووو“ کی آوازیں نکالتے ہیں لیکن کام نہیں روکتے۔ سوچا آج اُووو کے دوسرے رخ پر بات کریں؟ تو بھائیو اور بہنو! بات یہ ہے کہ اپنے ملک میں اکثریت ورک ایتھکس یا پروفیشنلزم کے نام پر صفر بٹا صفر ہے۔ کسی بھی طرح

Read more

فوڈ انسکیورٹی کا عفریت اور مڈل کلاس

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں بچپن میں دیکھی تمام اچھی بری تصویریں ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ مجھے یاد ہے کہ جنوبی پنجاب کے چھوٹے سے ضلع میں جہاں نانا ابا کا گھر تھا ہم چھٹیاں گزارنے جاتے، گرمیوں کی مصروفیات میں تھا آم کے باغ میں مٹر گشت، ٹیوب ویل میں نہانا، ٹیوب ویل میں ہی آم ٹھنڈے کر کے تندور کی روٹی، دیسی مرغے کے شوربے

Read more

دودھ کی نہر ہے خرافاتی

چائے کی نہر کھودتا فرہاد

کسی ارسطو سے سن لیا کہ چائے اور دودھ دونوں کی افادیت ان کو تنہا پینے میں ہے۔ اب یا چائے چھوڑیں گے یا ارسطو۔

جب سے انگریز نے ہمارے آبا و اجداد کو چائے کی پتی والا نشہ لگایا۔ ہمارے بڑوں نے انگریز کی غلامی سے انکار کا یہ طریقہ ایجاد کیا کہ پیتے ضرور تھے لیکن دودھ میں پتی اور گڑ ڈال کر۔ اس مشروب پر اکثر بالائی کی تہہ بھی جمائی جاتی تاکہ حقیقی آزادی کا مکمل اظہار ممکن ہو بلکہ مزا لیا جاسکتا۔

وقت بدلا۔ طور بدلے۔ ہمارے ابا اماں کے وقت تک دودھ میں بالائی کا رواج ضرور رہا لیکن انہوں نے ادھیڑ عمری کو چھوتے ہی سادہ چائے پر اکتفا کیا اور ابو کیونکہ غالب کی طرح انگریز کے بنائے سسٹم و قوانین کے معترف ہیں وہ گورے سے اظہار یک جہتی کے لئے کالی کافی بھی پیتے ہیں۔

Read more

میٹرک کے امتحان میں اپنے ماں باپ سے زیادہ نمبر لینے والے بچوں کے نام

میٹرک میں گیارہ سو میں سے بارہ سو نہیں آسکتے ورنہ ہمارے ہونہار بچے اتنے نمبر بھی لے گزرتے۔ ہم تو ازل سے ہی نالائق ہیں اور رزلٹ سے کچھ دن پہلے مزید نالائق دوستوں سے رابطے تیز تر کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کو دیکھ کر ہمارے ماں باپ عبرت و شکر دونوں کیفیات کا بیک وقت شکار رہیں اور ہم پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کریں۔

ہم ماں باپ کو سمجھاتے کہ کیسے کیسے نابغہ روزگار طالب علم اس سال کم نمبر حاصل کر کے مطمئن ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پرچہ کیمیا ہو یا فزکس۔ اساتذہ و ممتحن کے سوالات کا مقصد ہمارا علم جانچنا نہیں بلکہ کم نمبر لگانا ہے۔ ہمیں فیل کر کے اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانا ہے۔

جب ماں باپ کسی طرح باتوں کے دام میں نہ آتے تو باقاعدہ ان بچوں کی تصاویر بمع تعلیمی ریکارڈ دکھا کر کہتے
دیکھو انہیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

Read more