اندھیری رات میں ملا اجلے دل والا بچہ

تقریباً رات کے ساڑھے نو بجے کا وقت ہو گا جب میں علی پور کے لاری اڈے پر گاڑی سے اترا، انتہا کی سردی تھی اور دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی دینا مشکل ہو رہا تھا۔
سردی سے ٹھٹھرتا تقریباً سنسان سی سڑک پہ میں گھر کی طرف چل دیا، رستے میں بازار کے پاس سے گزرتے ہوئے گرم انڈے کی آواز کانوں سے ٹکرائی
گردن موڑ کر دیکھا تو دو تین کھلی دکانوں کے سامنے دھند میں لپٹا ایک چھوٹا سا سایہ لہرا رہا تھا، آواز دے کر اسے پاس بلا لیا۔
پاس آیا تو چادر لپیٹے ہوئے آٹھ نو سال کا بچہ تھا، جس نے اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی بالٹی کو، اپنے اوپر لی ہوئی چادر سے زیادہ گرم کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔
اس ایک انڈا مانگا اور گفتگو کی غرض سے انڈے کی قیمت پوچھ لی
”بیس روپے“ اس نے بتایا اور میرے چہرے کے تاثرات سے اسے قیمت کے زیادہ ہونے کا گماں گزرا تو فوراً ہی بول دیا
”زیادہ ہیں تو آپ ویسے ہی لے لیں“
اور یہ جملہ ادا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر عجیب بے فکری سی مسکراہٹ تھی۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا
”نہیں زیادہ نہیں ہیں۔ ویسے ہی قیمت پوچھ رہا تھا بس“
اتنی سی دیر میں وہ انڈا چھیل کر میری طرف بڑھا چکا تھا۔
میں نے دائیں ہاتھ سے انڈا تھامتے ہوئے بائیں ہاتھ سے پیسے اس کی طرف بڑھا دیے اور تب مجھے پہلا حیرت کا جھٹکا لگا جب اس نے پیسے تھامنے کے بجائے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور مسکراتے ہوئے بولا ”رہنے دیں بھائی“
رگوں میں اترتی سردی اور اندھا کر دینے والی دھند میں بالکل انجانا سا وہ بچہ بغیر کسی تعلق، بغیر کسی بات کے میرے لیے اپنی مزدوری، اپنا حق چھوڑ رہا تھا۔
”ارے نہیں، رکھو آپ پیسے“ میں نے حیرت کے جھٹکے سے نکلتے ہوئے اس کو زبردستی پیسے تھمانے کی کوشش کی لیکن اس نے پیسے لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا اور بولا
”نہیں بھائی، رکھ لیں آپ ایسے ہی۔ اور بھی تو کتنے لوگ مفت میں کھا گئے ہیں انڈے“
اب کی بار آواز میں کرب کی کھنک بھی تھی۔ اس بے فکری مسکراہٹ میں خدا جانے کرب اب گھلا تھا یا سردی سے منجمد ہونے والی میری حسیات کو محسوس اب ہوا تھا۔
یہ میرے لیے حیرت کا دوسرا جھٹکا تھا کہ اس چھوٹے سے بچے سے کوئی مفت انڈے کیوں کھائے گا۔
تفصیل پوچھی تو وہ بچہ مسکراہٹ اور کرب میں گھلے اسی لہجے میں بولنے لگا
”کچھ لوگ کھڑے تھے رستے میں سڑک کے ساتھ، میں آواز لگاتا پاس سے گزرا تو روک کر انھوں نے انڈے مانگ لیے، انڈے چھیل چھیل کر سب کو دے چکا تو ان میں سے ایک بولا جاؤ چھوٹے وہ سامنے دکان سے دو سگریٹ بھی پکڑ لاؤ۔ دکان پہ پہنچ کر پلٹ کر دیکھا تو وہ سب وہاں سے غائب تھے۔ میں بھاگتا ہوا واپس آیا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ دائیں بائیں چکر لگائے، وہاں کھڑے رہ کر کافی دیر انتظار بھی کیا لیکن ان میں سے کوئی پلٹ کر نہیں آیا“
یہ سب بتاتے ہوئے اس بچے کے لہجے سے چھلکتے ہوئے ہلکے سے کرب کے علاوہ چہرے پہ کسی دکھ یا ناگواری کی کیفیت نہیں تھی، بلکہ ہونٹوں پہ وہی عجیب سی مسکراہٹ تھی جیسے سارا جہاں جوتے کی نوک پہ مار کے آیا ہو۔
اسے جو کہنا تھا کہہ چکا تھا اور میرے پاس تو کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ میں تو بس دل میں اترتے دکھ کے ساتھ اس کے چہرے پہ سجی اس الوہی مسکراہٹ کو تکے جا رہا تھا!

