دیہی زندگی کو گلوریفائی کرنے والوں کے نام ایک تلخ حقیقت

ہمارے ہاں دیہی زندگی کو بہت زیادہ آئیڈیلائز کیا جاتا ہے کہ دیہی زندگی بہت پر سکون ہوتی ہے، یہاں کی زندگی سادہ، آسان، غیر پیچیدہ، فطری، بناوٹ اور دکھاوے سے پاک اور مسائل سے پاک ہوتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں رہ کر دنیاوی جھمیلوں سے دور رہا جا سکتا ہے اور ذہنی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میرا جواب ہے نہیں!
دیہاتوں میں زندگی اتنے مسائل سے بھری ہے کہ وہ یہاں کے پرسکون ماحول کو پرسکون نہیں رہنے دیتی۔ لہذا یہاں تفریح کی غرض سے چند دن جا کر رہنا اور بات ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن یہاں مستقل رہائش اختیار کرنا بے احسن نہیں کیونکہ ایسا کر کے آپ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ ہی کھیل سکتے اور اسے برباد کر سکتے ہیں۔
ذاتی طور پر کہتا ہوں کہ پرسکون دیہی زندگی بس خام خیالی ہی ہے
یہاں نہ مناسب ٹرانسپورٹ کا نظام ہے ہیں، نہ اعلی تعلیمی ادارے، نہ بجلی و گیس کا باقاعدہ نظام۔ زیادہ تر دیہاتوں میں کمیونیکشن کا کوئی نظام تک نہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی دستیابی کا بھی معقول بندوبست نہیں۔ حفظان صحت کے مسائل الگ ہیں
دیہاتوں میں ہسپتال اول تو ہوتے نہیں، ہوں تو ڈاکٹر و دوسرا عملہ نہیں ہوتا۔ ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ کمپاونڈر مل سکتا ہے ادھر آپ کو۔ حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے جن کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھونا بھی یہاں کا بڑا ایشو ہے۔ آپ دیہات میں رک کر کسی حادثے یا مہلک بیماری کا شکار ہوجائیں تو موت یقینی کہ آپ کو علاج کے لیے شہر ہی جانا پڑے گا اور شہر تک جانے والی سڑک کی عدم موجودگی یا خستہ حالی اور کسی مناسب سواری کی عدم موجودگی آپ کو موت کا تحفہ تو دے سکتی ہے مگر شہر علاج کے لیے نہیں پہنچا سکتی۔
اس لیے آج کے حساب جتنا جلد ممکن ہو یا تو سارے عدم موجود سہولیات لے آؤ یا پھیر ہجرت کر کے کسی مناسب محفوظ شہر کا رخ لو۔

