ہمارے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ!

جنگل اور ہمارے معاشرے میں بہت کم فرق پایا جاتا ہے ؛ دونوں جگہ کے باشندے ہمہ وقت سروائیول کے لیے تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک جانا عام آدمی کا مقدر ہوتا ہے۔ صحت بگڑ جانے پر بیماری سے زیادہ ادویات کی قیمت کی فکر اسے ستاتی ہے۔ سڑک کا استعمال بھی اس کے لیے مہم جوئی کے مساوی ہوتا ہے ؛ غلیظ گڑھے، خستہ حال روڈ، تنگ اور کیچڑ آلود گلیاں اس کی توانائی ہڑپ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ سرکاری ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہو تو لامتناہی قطاریں اور بدانتظامی اس کے وقت کا ضیاع کرتی ہے۔ پولیس یا کچہری سے پالا پڑ جائے تو پیسے اور عزت نفس دونوں کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا اس کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اشیائے روز مرہ کی گراں قدری اس کے چودہ طبق مسلسل روشن کیے رکھتی ہے۔ یہ ایک عام آدمی کی زندگی کا نقشہ ہے۔
اس ساری صورتحال سے ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے کہ عام آدمی تمام زندگی اپنے مسائل کے گرداب میں پھنسا رہتا ہے۔ اس کی زندگی اپنے مسائل سے نبرد آزما ہونے اور متوقع مسائل کے لیے تیاری میں سرف ہو جاتی ہے ؛ بالکل ویسے ہی جیسے جنگل کے جانور مسلسل اپنے سروائیول اور حفاظت کے لیے بندوبست میں مصروف رہتے ہیں۔ عام آدمی کو مسائل کے گرداب سے باہر نکلنے کی قوت اور فرصت میسر نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس گرداب سے باہر نکل کر دیکھنا ممکن ہی نہیں رہتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کا محور محض اس کے ذاتی مسائل، خاندان اور روزگار ہوتا ہے۔ اسے فرصت ہی نہیں ہوتی کہ وہ کسی قسم کا علم و شعور حاصل کر سکے۔
کے کے عزیز نے اپنی کتاب ”The Murder of History“ میں پاکستان کی درسی کتب میں پائی جانے والی اغلاط اور یک رخ بیانات کی نشان دہی اور اصلاح کی ہے۔ کتاب کے انتساب میں وہ آگاہ کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو زیر تعلیم بچوں کے تعلیم یافتہ والدین کو جب انھوں نے نصابی کتب میں پڑھائے جانے والے تعصبات اور ان کے نقصانات سے آگاہ کیا تو والدین نے کمال لاپرواہی سے جواب دیا : ”پاکستان میں اور کون سی چیز ٹھیک چل رہی ہے جو ہم ان کم بخت کتابوں کی فکر کریں جو یہ پڑھ رہے ہیں؟“
درج بالا مثال واضح کرتی ہے کہ مسائل کی بھرمار عوام کو علم و شعور کا دشمن بنا دیتی ہے۔ وہ علم و شعور کو غیر ضروری سمجھ کر کنارہ کشی اختیار کرنے لگتے ہیں۔ جس شخص کی توانائیاں بچوں کی فیس اور مہنگائی سے لڑنے میں صرف ہوں گی، اس کو سقوط ڈھاکہ پر غور و فکر کرنے کی فرصت کیوں کر میسر آ سکتی ہے؟ یہ صورتحال ہمارے حکمرانوں کے لیے موزوں ترین ہے اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ عوام سوچنا اور سوال کرنا ترک کر دیں اور حکمرانوں کی بدعنوانیاں پر صدائے احتجاج بلند کرنے ہی فرصت ہی میسر نہ آ سکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام محض کولہو کے بیل کی طرح ایک مخصوص گول دائرے میں چکر لگاتے رہیں اور اس بات سے ناواقف ہوں کہ انھیں کس نے کولہو میں جوتا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی اکثریت جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور اشرافیہ (سول و ملٹری) پر مشتمل ہے۔ ایسے حکمران دانستہ طور پر مسائل حل کرنے میں احتیاط برتتے ہیں کیونکہ انھیں اپنی اجارہ داری اور کرپشن برقرار رکھنے کے لیے پریشان حال اور بے شعور عوام کی ضرورت ہوتی ہے۔ پریشان حال عوام زمین کے جھگڑوں، برس ہا برس طویل مقدمات جیسے مسائل میں غرق رہتے ہیں اور انھیں اپنی پست حالی کی وجوہات تلاشنے کی فرصت میسر نہیں ہوتی ہے۔ جبکہ بے شعور عوام نہ صرف اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے بے خبر ہوتے ہیں بلکہ اپنے اصل دشمن سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔ یوں جاہلوں پر مکاروں کی حکمرانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

