نسٹ کے ایک سٹوڈنٹ کا سوال اور انجنیئر محمد علی مرزا کی پیش گوئی


"میں نسٹ کا اسٹوڈنٹ ہوں اور میں نے وہاں یہ چیز بہت محسوس کی ہے کہ کافی لوگ دین سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ جو مجھے محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو دعوت ٹھیک طور پر نہیں دی جاتی، اکثر ہمارے ہوسٹل میں جب تبلیغی جماعت والے آتے ہیں تو بہت کم لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ جب ہمارے نوجوان دین بیزار ہو رہے ہوں اور دعوت بھی جو تبلیغ کے ذریعہ پہنچ رہی ہے وہ صرف مخصوص طبقہ تک پہنچ رہی ہے تو پھر کیا کیا جائے؟ بہت سے نوجوان صحیح راہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے گمراہ ہو رہے ہیں”

انجنیئر محمد علی مرزا کا جواب

 اس کے جواب میں انجینئر صاحب کا فرمانا تھا جو دین آپ کے بابوں نے آپ کو دیا ہے وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح طور پر راہنمائی کر سکے، جو کچھ بھی سیالکوٹ میں ہوا ہے اس کے بعدکوئی غیر مسلم مسلمان ہونے کا سوچ سکتا ہے؟ ایک اسٹیکر پھا ڑنے پر آپ بندہ مار دیں اور مارنے والے وہ ہیں جن کی مسجد کے باہر آپ "یا اللہ مدد” کا سٹیکر لگائیں اور کچھ دیر بعد مسلکی مخالفت کی وجہ سے اس اسٹیکر کا حشر دیکھ لینا۔ آپ اہل حدیث مسجد کی دیوار پر "لبیک یا رسول اللہ” کا اسٹیکر لگا کر دیکھ لیں اس کا بھی یہی حشر ہو گا۔ جو ایک دوسرے کے اسٹیکرز پھاڑتے ہیں اس کے علاوہ جہلم میں کافی عرصہ تک محرم کے جلوس کے شرکاء پر چھتوں سے نمک مرچ اور گرم پانی پھینکا جاتا رہا اور منافقت کا عالم یہ ہے کہ آپ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے اور غیر مسلم جس کو پتا ہی نہیں تھا کہ اس اسٹیکر پر کیا لکھا ہے آپ نے اس کی لاش کو راکھ میں بدل ڈالا۔ اس طرح کے جو سوالات ہمارے پاس آتے ہیں کہ لوگ دین بیزار ہوتے جا رہے ہیں اس کے متعلق تو میں نے بہت عرصہ پہلے گزارش کی تھی کہ جو دین آپ کے بابوں کی صورت میں آپ تک پہنچا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے کسی غیر مسلم کے سامنے پیش کیا جاسکے یا کسی ملحد کے سامنے اس کا دفاع کیا جاسکے۔

میری معروضات

یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ کے سوال کے ساتھ میں نے مرزا محمد علی انجینئر کا مختصر مگر جامع جواب "ایز اٹ از ” لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے اور پڑھنے والوں کو یہ نہ لگے کہ یہ مصنف کی اپنی گستاخانہ اور مذہب دشمنی پر مبنی رائے ہے، اب اس کے ساتھ میں ان کی پیش گوئی کو بھی شیئر کرنا چاہوں گا۔ سٹوڈنٹ کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ” عنقریب یا تو زیادہ تر لوگ دین مخالف ہو جائیں گے یا علمی کتابی بن جائیں گے” اسی اہم بات کا رونا میں اپنے بلاگ کی صورت میں روتا رہتا ہوں تاکہ ہماری مذہبی کلاس جن کی توندیں زیادہ کھانے کی وجہ سے باہر کو نکلی ہوتی ہیں کیا ہی اچھی بات ہو اگر وہ بھی ان ابھرتے علمی چیلنجز کا بغور جائزہ لے کر توندوں کی بجائے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھائیں تاکہ جو نوجوان نسل ان کی وجہ سے گمراہ ہو رہی ہے وہ تو کم از کم راہ راست پر رہے۔ پاکستان کے علاوہ اگر بین الاقوامی سطح پر الحاد کے پھیلاؤ کا جائزہ لیں تو پوری دنیا میں ملحدین کا گراف بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مبشر زیدی کے مطابق امریکہ میں تقریبا 29 فیصد لوگ ایتھسٹ ہو چکے ہیں۔ باقی ممالک کو ایک طرف رکھیں کیونکہ ان سے ہمیں کیا لینا مگر اگر پاکستان میں یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے تو پھر یہ ہمارے علماء کی قابلیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اگر ایک لاکھ مدارس اور ان سے ہر سال فارغ ہونے والے ہزاروں علماء کی کھیپ، ایک بڑے پیمانے پر پھیلی تبلیغی جماعت اور اس کے علاوہ درجنوں اسلامی یوٹیوب چینلز کا پھر کیا فائدہ؟ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو کوئی "آئیڈیل نمونہ” پیش نہیں کر سکے تو پھر اتنی مشقت کس کھاتے میں جائے گی؟ اگر ہمارے "کنٹینٹ” سے ہمارے گھر والے ہی مطمئن نہ ہوں تو باہر والوں کو کیا الزام دیا جاسکتا ہے؟ ملحدین یا مختلف سوچ رکھنے والے تو ایک طرح سے ہمارے محسن ہیں جو ہماری صدیوں کی خامیاں جنہیں ہم مقدس جان کر نظر انداز کرنے کی عادت کا شکار ہو چکے تھے وہ ہماری کتابوں سے نکال نکال کر ہمیں دکھا رہے ہیں اور اگر ہم غور کر لیتے اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج ہمارا منظرنامہ کچھ اور ہوتا۔ مگر یہ تو ہمارے معاشرے کا المیہ ٹھہرا جو ان سخت چیلنجز کا بیڑا اٹھانے کی کوشش کرتا ہے وہ ہمارے روایتی علماء کو پسند نہیں آتا اور انہی لوگوں کی تنگ نظری کی وجہ سے جو اذہان ان باریکیوں کو سمجھتے تھے مگر اظہار نہیں کر سکتے تھے وہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جس ذہنی دیانت داری کا مظاہرہ یونیورسٹی کے طالب علم کا جواب دیتے ہوئے انجینئر مرزا نے کیا ہے اور کتنوں میں اتنی ہمت ہے جو اپنی کمزوریوں کا ببانگ دہل اعتراف کر کے وہ یہ کھلے عام تسلیم کریں کہ ہماری تعلیمات کی بدولت ہی ایتھی ازم بڑھ رہا ہے اور عنقریب یہ نوجوان یا تو ایتھیسٹ ہوں گے یا علمی کتابی بن جائیں گے۔

شعور کے اس دور میں لیپاپوتی، ملمع سازی اور وقتی ٹیپ ٹاپ سے کام نہیں چلے گا، اگر واقعی آپ کو اپنی نوجوان نسل کی فکر ہے تو ان کے سامنے سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کریں اور اپنی کمزوریوں کا برملا اعتراف کریں تاکہ جو اعتماد کا بندھن ٹوٹا ہے وہ کسی حد تک جڑے۔ یونیورسٹی کے اس بچے کا سوال ایک "الارمنگ سائن” ہے اور مستقبل کی عکاسی اس چھوٹے سے سوال میں پنہاں ہے۔ اگر آپ واقعی نوجوان نسل پر اپنا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہر طرح کے سوال پوچھنے کی آزادی دے دو کیونکہ ان کے سوالات پر ہی تعمیر نو ہو سکتی ہے۔ سوالوں کو بس سوال ہی سمجھو انہیں ہر تمیز سے بالا تر کر دو، ان پر قدغنیں مت لگاؤ، سوال کے گرد روایتی خول کا لحاف مت چڑھاؤ، سوال کو مثبت اور منفی کی تفریق سے الگ ہی رہنے دو جب آپ کے اندر ہر قسم کے سوالات سننے کا حوصلہ ہو گا تو اس کے ساتھ ہی آپ کے اندر اس بات کا اعتراف کرنے کا بھی حوصلہ پیدا ہو جائے گا کہ "ہم اس کے متعلق مکمل جانکاری نہیں رکھتے اس لئے اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے”۔

جس دن یہ جذبہ آپ کے اندر بیدار ہو گیا تو سارے مسئلے خود بخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے سٹینڈرڈ اصول یہی ہے کہ اپنی غلطیوں اور خامیوں کو بلا جھجک تسلیم کیا جائے تاکہ آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو، خا میوں کوتاہیوں پر اترانے اور متشدد قسم کے ذہنی رویوں کے ساتھ ایک مخصوص وقت تک تو آپ ایک ہجوم کو اطاعت پر مجبور کر سکتے ہیں زیادہ عرصہ تک یہ چکر نہیں چل سکتا ۔ آپ اپنے چبا چبا کر بات کرنے کے انداز کے ساتھ یا وقتی طور پر نان لاجیکل قسم کے جوابات سے اپنے اپنے فرقوں کے دڑبوں میں بند طلباء کو تو مطمئن کر سکتے ہیں مگر یونیورسٹی لیول کے طلبا کو ان روایتی کھلونوں سے زیادہ دیر تک لبھایا نہیں جا سکے گا۔ آج کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ زیادہ تعداد میں دین سے دور ہورہے ہیں اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنی تعلیمات کو کس حد تک دیانتداری سے پیش کر رہے ہیں کیونکہ خامیوں اور کوتاہیوں کو دیدہ زیب بنانے کے لیے جعلی پینٹ کر کے پیش کرنے کا رویہ صورتحال کو زیادہ بگاڑ کی طرف لے جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “نسٹ کے ایک سٹوڈنٹ کا سوال اور انجنیئر محمد علی مرزا کی پیش گوئی

  • 30/12/2021 at 11:07 شام
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا آپ نے

  • 01/01/2022 at 3:34 شام
    Permalink

    خوبصورت تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.