پندرہ برس تک میری شریک حیات کی والدہ اب نہیں رہیں
عالمی شہرت یافتہ لکھاری ولیم شیکسپیئر نے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کا نام THE WINTER ’S TALE تھا۔ اس ڈرامے کا ہیرو فلورازیل بوہیمیا کے بادشاہ پولیتھینز کا بیٹا تھا۔ جب فلورازیل ایک مہ جبیں پری چہرہ پرودیتا کی زلف کا اسیر ہو جاتا ہے تو بادشاہ بہت ناراض ہو جاتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ پرودیتا اعلیٰ نسب کی نہیں ہے۔ وہ اپنے شہزادے فلورازیل کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر تم نے پرودیتا سے شادی کی تو میں تمہیں جائیداد سے عاق کر کے محل سے نکال دوں گا۔ فلورازیل اپنے باپ کی ناراضگی کے باوجود اپنی محبت میں ثابت قدم رہتا ہے اور اپنی دوست کیمیلو سے مدد مانگتا ہے۔ کیمیلو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی ہے اور بادشاہ پر ثابت کرتی ہے کہ پرودیتا کا تعلق بھی ایک اور شاہی خاندان سے ہے۔
کینیڈا کے صوبے نیوفن لینڈ میں بیسویں صدی کے آغاز میں ایک عالیشان جہاز بنایا گیا جس کا نام شیکسپیئر کے ڈرامے کے کردار کے حوالے سے فلورازیل رکھا گیا۔ وہ جہاز اشرافیہ کے لیے تھا جو نیوفن لینڈ سے نیویارک کا سفر کرتا۔
فلورازیل جہاز کا بھی وہی انجام ہوا جو ٹائیٹانک کا ہوا۔ ٹائٹانک پندرہ اپریل 1912 کو تباہ ہوا جبکہ فلورازیل کا آخری سفرتئیس فروری 1918 کو ہوا جب وہ جہاز کے کپتان اور انجینئر کی غفلت کی وجہ سے رات کی تاریکی میں چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا اور 94 مسافر سمندرمیں غرق ہو گئے۔ جو خوش نصیب مسافر بچ گئے ان میں دو عورتیں بھی تھیں۔ ان دو عورتوں میں سے ایک کا نام کیٹی کانٹویل تھا۔
کیٹی کانٹویل کی اس وقت عمر اکیس برس تھی۔ اس حادثے کے بعد انہوں نے کبھی بحری یا ہوائی جہاز کا سفر نہ کیا۔
شادی کے بعد ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام جون تھا اور جون کے بچوں میں ایک بیٹی کا نام بے ٹی ڈیوس تھا۔ بے ٹی ڈیوس میری پچیس سال دوست اور پندرہ سال محبوبہ رہیں۔
جب بے ٹی نے مجھے پچھلے ہفتے بتایا کہ ان کی نوے سالہ والدہ جون بہت بیمار ہیں تو میرے دل کے نہاں خانوں میں بہت سی یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں۔
مجھے وہ شامیں یاد ہیں جب میں بے ٹی کو لینے ان کے گھر جاتا تھا اور وہ بڑی خوش دلی میرا استقبال کرتی تھیں،
مجھے وہ شب و راز یاد ہیں جب وہ ٹورانٹو آ کر ہمارے گھر رہتی تھیں اور رات کو دیر تلک دل کی باتیں کرتی تھیں اور بچپن کی کہانیاں سناتی تھیں جون کیتھولک ہیں اس لیے وہ اتوار کی صبح گرجے جانا چاہتی تھیں۔ چونکہ وہ گاڑی نہ چلاتی تھیں اس لیے میں انہیں گرجا عبادت شروع ہونے سے پہلے چھوڑنے بھی جاتا تھا اور عبادت کے بعد گرجے سے لینے بھی جاتا تھا۔ ایک دفعہ میں نے انہیں ایک لطیفہ سنایا کہ کسی دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ مسلمان ہیں تو میں نے کہا
I AM AN OUTSTANDING MUSLIM
WHEN MUSLIMS GO INSIDE I STAND OUTSIDE THE MOSQUE
میرا لطیفہ سن کر جون کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ میں نے ان سے کہا اب میں گرجے کے باہر کھڑا ہونے اور ان کا انتظار کرنے کی وجہ سے آؤٹ سٹینڈنگ کرسچن بھی بن جاؤں گا۔ میری باتیں سن کر جون کہنے لگیں۔ تم ایک دلچسپ انسان ہو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ بے ٹی نے تم سے ملوایا۔ جون کی پچھہترویں سالگرہ پر ہم نے انہیں ایک تحفہ دیا اور انہیں ان کے آبائی دیس آئرلینڈ کی سیر کروائی۔ جون وہاں کی سیر کر کے بہت خوش ہوئیں کہنے لگیں آپ لوگوں نے میری دیرینہ خواہش پوری کر دی۔
آئرلینڈ کی سیر کے دوران ہر شام میں اور جون ایک لمبی سیر کے لیے جاتے۔ اس سیر کے دوران جب وہ ماضی کے قصے سناتیں تو مجھے یوں لگتا جیسے میری والدہ انگریزی بول رہی ہوں۔ بے ٹی کی والدہ جون اور میری والدہ عائشہ ہزاروں میل دور رہیں اور زندگی میں کبھی ایک دوسرے سے نہ ملیں لیکن پھر بھی وہ ایک ہی عہد میں زندہ رہ رہی تھیں اس لیے ان کی شخصیت اور فلسفہ حیات میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں۔ چونکہ بے ٹی مجھ سے تین ماہ بڑی ہیں اس لیے میں مزاحاً کہا کرتا ہوں کہ تمہاری والدہ اور میری والدہ ایک ہی وقت میں حاملہ تھیں۔
انہیں کیا خبر تھی کہ ایک دن ان کے بچوں کی ملاقات بھی ہوگی اور دوستی بھی۔ بے ٹی اور میں پانچ سال پہلے کی جدائی کے باوجود دوستی قائم ہے وہ میری رفیق کار بھی ہیں۔ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ کیٹی کانٹ ول اگر اس رات زندہ نہ بچتیں تو نہ تو جون پیدا ہوتی اور نہ ہی بے ٹی ڈیوس۔ میں جون کی اس وجہ سے بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے میری اور بے ٹی کی دوستی اور محبت کا بڑا احترام کیا۔
آج بے ٹی کا پھر فون آیا کہ کی والدہ کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا وہ چند گھنٹے ہسپتال میں رہیں اور پھر فوت ہو گئیں۔ جون اس دنیا سے رخصت ہو گئیں لیکن ان کی یادیں میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ زندگی کے آخری بیس سال ہر ہفتے پیدل ریڈیو سٹیشن جاتی تھیں اور سینیئر سیٹیزنز کے لیے موسیقی کا پروگرام کرتی تھیں۔ وہ خود بھی محظوظ ہوتی تھیں اور دوسروں کو بھی محظوظ کرتی تھیں۔ وہ ایک زندہ دل خاتون تھیں۔ بڑھاپے میں بھی ان کا دل جوان تھا۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ ہماری زندگی میں نجانے کتنے اچھے لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں اور خوشگوار یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی حسیں یادوں کو دل کی گہرائیوں میں سنبھال کر رکھنا چاہیے۔
۔ ۔ ۔


